دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جب توان کو اپنے پیچھے رکھے گا تووہ پچھلی صف میں کھڑے ہونے والے نمازی کے سامنے ہوں گی تو اسے اذیت ہوگی حالانکہ ان پراﷲ تعالٰی کی رحمت نازل ہورہی ہوگی۔ لہٰذایہ عمل براہے۔ (ت)

ولہٰذا ائمہ دین نے تصریح فرمائی کہ استعمال جوتیاں پہنے ہوئے مسجد جانا بے ادبی ومکروہ ہے ، امام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید پھر علامہ بحر بحرالرائق میں فرماتے ہیں :

قدقیل دخول المسجد متنعلا من سوء الادب[1]۔

مسجد میں جوتے پہنے ہوئے داخل ہونا بے ادبی ہے۔ (ت)

ردالمحتارمیں عمدۃ المفتی سے ہے :

دخول المسجد متنعلا من سوء الادب[2]۔

مسجد میں جوتے پہنے ہوئے داخل ہونا بے ادبی ہے۔ (ت)

فتاوٰی سراجیہ و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :

دخول المسجد متنعلا مکروہ[3]

(مسجد میں جوتے پہن کرداخل ہونا مکروہ ہے ۔ (ت)

مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ دوجوڑے رکھتے تھے استعمالی جوتاپہن کردروازہ مسجد تك تشریف لاتے پھر دوسراجوڑا پہن کرمسجد میں جاتے[4]

ذکرہ ایضا فی البحر عن التجنیس واذالامر دار علی العرف فالحکم الحظر الاٰن مع ثبوتہ عن سیدالمتادبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وذٰلك کترك الکلاب تدور فی المسجد ووضع السریر وادخال البعیر وضرب الخیمۃ للمرضی وغیرھم فیہ ولنا رسالۃ فی الباب سمیناھا “ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال “ واخری “ نفیسۃ حافلۃ فیماتصان عنہ المساجد “ ۔                                                 

اسے بحرمیں تجنیس کے حوالے سے ذکرکیا اور مسئلہ کا مدار عرف پرہوتاہے اس دور میں یہ ممنوع ہے باوجودیکہ اس کاثبوت سیدالمتادبین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ہے وہ اسی طرح ہے جیسے کتوں کامسجد میں آناجانا ، چارپائی کابچھانا ، اونٹوں کاداخل ہونا ، بیمارلوگوں اور دیگر ضروریات کے لئے خیمہ نصب کرنے کاحکم متروك ہے ، ہم نے اس موضوع پرایك رسالہ “ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال “ اور دوسرا “ نفیسۃ حافلۃ فیماتصان عنہ المساجد “ لکھاہے۔ (ت)

ہاں اگربائیں جانب یاپیچھے رکھنے میں چوری کاخوف ہو اور یہاں جوتی پاؤوں کے بیچ میں جو فرجہ نماز میں ہوتاہے یعنی چارانگلی اس قدرمیں آنے کے قابل نہیں ہوتے توکپڑے سے چھپاناکافی ہے

ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وبما قررت ظھر ان لاورود لبقیۃ حدیث الخطیب المذکور وان سُلِّم ان سلمَ من الضعف لان الاحکام ھھنا بالعرف۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔

یہ تمام وہ جومجھے ازراہ تفقہ حاصل ہوا ، جو ہم نے گفتگو کی اس سے یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ خطیب کی ذکرکردہ حدیث کایہ محل نہیں اگرچہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ یہ روایت ضعف سے خالی ہے کیونکہ ان احکام کا مدارعرف پرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۹۹۷ :  ۴ربیع الآخر۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے احناف ، رحم کرے اﷲ آپ لوگوں پر ، اور برکت دے علم میں کہ فیض پہنچاتے رہیں علم سے اپنے خلائق کو اس قول میں کہ وردی جو کہ سپاہی پولیس کے پہنتے ہیں اور دھوتی جو کہ کفارپہنتے ہیں اس کو پہن کر نماز مکروہ ہے یاکہ مکروہ تحریمی ، حکمش چیست؟

الجواب :

وہ وردی پہن کرنماز مکروہ ہے خصوصًا جبکہ سجدہ بردرجہ مسنون سے مانع ہو۔ فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے :

اوالخیاط اذااستوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیر اجرلایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ[5]۔

جب کسی درزی کوفاسقوں کے لباس سینے پر اُجرت دی جائے اور اسے اس پراجرکثیردیاجائے تویہ عمل اس کے لئے بہتر نہیں کیونکہ یہ گناہ پرمعاونت ہے۔ (ت)

اور دھوتی باندھنا بھی مکروہ ہے کہ اگرلباس ہنود و غیرہ نہ ہو توکپڑے کاپیچھے گھرسنا ہی نماز کومکروہ کرنے کے لئے بس ہے لنھیہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  عن کف ثوب اوشعر (کیونکہ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے کپڑے یا بال مجتمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ت) ہاں پیچھے نہ گھرسیں تووہ دھوتی نہیں تہ بند ہے اور اس میں کچھ کراہت نہیں بلکہ سنت ہے واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۹۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عینك لگاکر نمازپڑھاتاہے تومقتدیوں کی نماز میں کچھ قصورتونہیں ؟ بیّنواتوجروا

الجواب :

اگرعینك کا حلقہ یاقیمیں چاندی یاسونے کی ہیں توایسی عینك ناجائز ہے اور نماز اس کی اور مقتدیوں سب کی سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یااوردھات کی ہوں توبہتر یہ کہ نماز پڑھتے میں اُتارلے ورنہ یہ خلاف اولٰی اور کراہت سے خالی نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۹۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے در و محراب میں نماز پڑھنا وپڑھانا جائز ہے یانہیں ؟ اوراکثر آگے در کے چبوترہ یالکڑی کی مثل چوکی کے بناکر اس پرنمازپڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم در کے باہرنمازپڑھتے ہیں ، اور بعض در ایسے ہیں کہ کچھ دروازہ اُن کاعمارت میں نکال دیاگیاہے اور کہتے ہیں کہ یہ در بیچ کاآگے کو ان دونوں دروں سے نکال دیاگیاہے تب ان صورتوں میں کیاحکم ہے؟

الجواب :

اصل حکم یہ ہے کہ تنہا ایك شخص کہ نہ امام ہے نہ مقتدی بلکہ اپنی نمازجداپڑھ رہاہے اسے درمیں کھڑے ہوکراپنی نمازپرھنے میں حرج نہیں ہے اور مقتدی کودرمیں کھڑاہونا ممنوع ہے مگربضرورت کہ جگہ نہیں ہے یامثلًا مینہ برس رہاہے ، صحیح حدیث میں ہے :

کمانتقی ھذا علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم[6]۔

 



[1]   بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴

[2]   ردالمحتار مطلب فی احکام المسجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۵۷

[3]   فتاوٰی سراجیہ باب المسجد  مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۷۱

[4]   بحرالرائق ،  باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۳۴

[5]   فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۴ / ۷۸۰

[6]   سنن ابوداؤد باب الصفوف بین السواری ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن