دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وقت نماز اپنی جوتیاں سجدہ کے روبرو رکھ کر نماز اداکرے تونماز میں کیا شرعًا کراہت آتی ہے اور دہنے یا بائیں طرف رکھنے سے کیانفع نقصان ہے ، اگرسجدہ کے برابررکھ کرکپڑے وغیرہ سے چھپادی جائیں توعلیحدہ ہونے کے مرتبہ میں ہوئیں یانہیں ؟ اور کس حدیث سے جوتیوں کوسجدہ کے روبرو رکھنا منع آیاہے؟ اور ایسے وقت میں نزول رحمت کابند ہونا کیوں ہے؟ معمولی جوتیاں  جوہرشخص پہنے پھرتاہے پہنے ہوئے مسجد میں چلاآئے اور پہنے ہوئے نماز اداکرے جائز ہے یانہیں ؟ کن بزرگان دین نے ایسافعل کیاتھا؟ بیّنواتوجروا

الجواب :

سنن ابی داؤدمیں ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   فرماتے ہیں :

اذا اصلی احدکم فلایضع نعلیہ عن یمینہ ولاعن یسارہ فتکون عن یمین غیرہ الاان لایکون احد ولیضعھما بین رجلیہ[1]۔  رواہ الحاکم ایضا والبیھقی۔

جب تم میں کوئی نماز پڑھے توجوتی اپنے دائیں طرف نہ رکھے نہ اپنے بائیں طرف رکھے کہ دوسراجواس کے بائیں ہاتھ کو ہے اس کے دہنی طرف ہوں گی ہاں اگربائیں طرف کو کوئی نہ ہو تو بائیں جانب رکھے ورنہ اپنے پاؤں کے بیچ میں رکھے ، اسے بھی حاکم اور بیہقی نے روایت کیا۔

دوسری روایت میں اس ممانعت کے لئے یوں حدیث آئی :

فلایؤذ بھما احدا[2]۔  رواہ الثلثۃ المذکورون وابن حبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

کسی کو ایذانہ دے۔ مذکورہ تینوں محدثین اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

ایك حدیث میں اس ایذا کی یوں تصریح آئی :

لاتضعھما عن یمینك ولا عن یسارك فتؤذی الملٰئکۃ والناس[3]۔  رواہ الخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔

دہنے ہاتھ کورکھے گا توملائکہ کو ایذا ہوگی ، بائیں کورکھے گا توجولوگ بائیں طرف ہیں انہیں ایذا ہوگی۔ اسے خطیب نے حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کے حوالے سے رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے بیان کیاہے۔

علماء نے اس ایذا کی وجہ فرمائی یعنی وفیہ نوع اھنانۃ لہ[4] (جس کی طرف جوتارکھاجائے اس کی

اہانت ہوتی ہے قالہ الطیبی ونقلہ فی المرقاۃ (یہ علامہ طیبی نے فرمایا اور مرقات میں نقل ہوا۔ ت)اعلٰی درجہ کی حدیث صحیح ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

اذا کان احدکم یصلی فلایبصق قبل وجھہ فان اﷲ تعالٰی قبل وجھہ اذا صلی[5]۔  رواہ مالك فی الموطا عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما و طریقہ الشیخان فی الصحیحین۔

جب تم میں کوئی نمازمیں ہو تو سامنے کو نہ تھوکے کہ نمازی کے سامنے اﷲ عزوجل کافضل وجلال ورحمت ہوتے ہیں ۔ اسے امام مالك نے مؤطا میں امام نافع سے حضرت عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے اور اسی سند سے بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیاہے۔

ائمہ دین اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :

یجب علی المصلی اکرام قبلتہ بما یکرم بہ من یناجیہ من المخلوقین عند استقبالھم بوجھہ[6]۔  ذکرہ ابن بطال ونقلہ فی ارشاد الساری۔

یعنی نمازی پرواجب ہے کہ معظمین کے سامنے کھڑے ہونے میں جس بات میں ان کی تعظیم جانتاہے وہی ادب اپنی جانب قبلہ میں ملحوظ رکھے کہ اﷲعزوجل سب سے زیادہ احق بالتعظیم ہے۔ اسے شیخ ابن بطال نے ذکرکیااور ارشادالساری میں مذکورہے۔  

ان احادیث میں دہنے بائیں کاحکم صاف مصرح ہے اور سامنے کاحکم اس حدیث صحیح کہ دلالۃ النص اور اسی ارشاد علما کے عموم اور نیز اس قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین وتعظیم کامدار عرف و عادت ناس وبلاد پرہے۔

وقد حققہ المولی العلامۃ خاتم المحققین سیدناالوالدقدس سرہ الماجدفی اصول الرشاد ۔

اس کی تحقیق علامہ خاتمۃ المحققین سیدنا والدگرامی قدس سرہ الماجد نے اصول الرشاد میں فرمائی ہے۔ (ت)

اور شك نہیں کہ اب عرف عام تمام بلادیہی ہے کہ دربار شاہی میں بحضور سلطانی باتیں کرنے کھڑاہو اور جوتا سامنے رکھے بے ادب گناجائے گا فقیر نے بچشم خود دیکھاہے کہ کعبہ معظمہ پرپھوہاربرسی تھی میزاب رحمت سے بُوندیں ٹپك رہی تھیں مسلمان حاضرتھے اُن بوندوں کولیتے اور چشم و دل سے ملتے ، ان میں کوئی ہندی شخص جوتاہاتھ میں لئے تھا ترکی خادم دوڑا اور اس کی گردن دبادی تناجی ربك ونعلاك بیدك جوتیاں ہاتھ میں لئے ہوئے اﷲتعالٰی سے مناجات کرتاہے ، بلکہ سنن ابن ماجہ میں حدیث ابی ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  میں یوں ہے :

فاجعلھما بین رجلیك ولاتجعلھما عن یمینك ولاعن یمین صاحبك ولاورائك فتوذی من خلفک[7]۔

یعنی جوتے اپنے پیچھے بھی نہ رکھ جو پیچھے ہے اس کے آگے ہوں گے اسے ایذا ہوگی۔

انجاح الحاجہ میں لکھاہے :

لانك اذاوضعتھما ورائك تکونان قدام من کان فی الصف الموخر فیتأذی ورحمۃ اﷲ تعالٰی تنزل علیھم فیکون ھذاالفعل اساء ۃ[8]۔

 



[1]   سنن ابوداؤد باب المصلی اذاخلع نعلیہ این یضعہما مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۶

[2]   المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکربیروت ۱ / ۲۵۹

[3]   تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن حمویہ نمبر۱۵۰۷۸ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۹ / ۴۴۹

[4]   مرقات المفاتیح حدیث ۷۶۷ کے تحت مذکورہے مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴۷۵

[5]   موطاامام مالك  النہی عن البصاق فی القبلۃ  مطبوعہ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن