دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

وھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم او الذیل[1]۔

جیسا کہ نماز میں داخل ہوتے وقت اس نے آستین یادامن چڑھایا ہواتھا۔ (ت)

علامتین محققین جلیلین شارحین منیہ تحقیق فرماتے ہیں کہ اکثرکلائی پر سے آستین چڑھی ہونا ہی کراہت کو کافی ہے اگرچہ کہنی تك نہ ہو۔ غنیہ میں ہے :

(و) یکرہ ایضا (ان یرفع کمہ) ای یشمرہ (الی المرفقین) وھذا قید اتفاقی فانہ لو شمر الی مادون المرفق یکرہ ایضا لانہ کف للثوب وھو منھی عنہ فی الصلاۃ لما مر وھذا اذاشمرہ خارج الصلٰوۃ وشرع فی الصلٰوۃ وھوکذٰلك اما لوشمرہ فی الصلاۃ تفسد لانہ عمل کثیر[2]۔              

اور یہ بھی مکروہ ہے (کہ آستین اٹھائی) یعنی چڑھائی ہو(کہنیوں تک) اور یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ کہنیوں کے نیچے تك بھی چڑھائی ہوں تب بھی کراہت ہے کیونکہ یہ کپڑے کااٹھانا ہے حالانکہ وہ نمازمیں ممنوع ہے جیسا کہ اس پراحادیث گزری ہیں اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز سے باہر آستین کوچڑھایاتھا اور اسی حال میں نماز شروع کردی اور اگردوران نمازآستین چڑھاتاہے تونماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہ عمل کثیرہے۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

ینبغی ان یکرہ تشمیرھما الٰی مافوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا[3]۔

آستینوں کانصف کلائی کے اوپرتك اٹھانا بھی مکروہ ہوناچاہئے کیونکہ اس پربھی کپڑا اٹھانا صادق آرہاہے(ت)

تولازم ہے کہ آستینیں اتار کرنماز میں داخل ہو اگرچہ رکعت جاتی رہے اور اگرآستین چڑھی نمازپڑھے تو اعادہ کی جائے کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ کمافی الدر وغیرہ (جیسا کہ ہراس نماز کاحکم ہے جوکراہت کے ساتھ اداکی گئی ہو جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۹۴ :                غرہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور اس نے کسی وجہ سے نماز دست کشا پڑھی تو وہ اس کی نمازصحیح ہوگئی یانہیں یا اس کا اعادہ کرناچاہئے یاکیا؟

الجواب :

نماز ہوجائے گی مگربکراہت لترك السنۃ (ترك سنت کی بنا پر۔ ت) اعادہ چاہئے علٰی وجہ الاستحباب۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۹۵ :            ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ محلہ کمبوہان مرسلہ تاج الدین حسین خاں صاحب ۵جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ

موسم گرما میں مَیں ساری بہت نیچی باندھتاہوں اکثرنماز مولوی صاحبوں کے ہمراہ پڑھی کسی نے اعتراض نہ کیا ایك سیدصاحب سے دریافت کیا توفرمایا جواونچی دھوتی باندھتے ہیں ان کو کانچھ کھولنی ضرور ہے کہ سترپوشی ہو اور تم بہت نیچی باندھتے ہو اس میں ضرورنہیں کہ سترچھپارہتاہے ، میں نماز بیٹھ کرپڑھتاہوں کھڑے ہوکرنہیں پڑھ سکتا اس پرچند آدمیوں نے اعتراض کیا کہ کھول دیا کرو ورنہ نماز میں خلل پڑتاہے ، پس آں مخدوم کوتکلیف دیتاہوں حکم شرح بیان فرمائیے ، اور اگرباندھنا ساری کاداخل پوشاك مشرکین ہو تو میں موقوف کروں کیونکہ میرا اعتقاد آپ کے قول پر ہے بمقابلہ آپ کے میں کسی کے قول کو ترجیح نہیں دیتاہوں بقول مخدوم میناصاحب قدس سرہ العزیز  ؎

ہمہ شہرپُرزخُوباں منم وخیال ماہے

چکنم کہ چشم بدخونکند بکس نگاہے

(تمہارا شہرخوبصورت حضرات سے بھراہے ، میراذوق اپناہے ، میں کیاکروں کہ بدخو آنکھ کسی پربھی ایك نگاہ نہیں ڈالتی)  

زیادہ نیاز

الجواب :

مکرمی سلمکم اﷲ تعالٰی! جواب مسئلہ اُنہی لفظوں میں ہے جو آپ نے تحریر فرمائے کہ اس عقدے کو حل فرمائیے واقعی ساری پیچھے سے نہ کھولنا کراہت نماز کاموجب ہے۔ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں : امرت ان لااکف شعرا و لاثوبا[4] (مجھے اس بات کاحکم دیاگیاہے کہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں ۔ ت)

غنیہ شرح منیہ میں ہے :

یکرہ ان یکف ثوبہ وھوفی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عن السجود او یدخل فیھا وھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم او الذیل۔[5] ۔

نماز میں عمل قلیل کے ساتھ کپڑا اٹھانا مکروہ ہے یوں کہ آگے یاپیچھے سے اپنا کپڑا اٹھائے یا نماز میں کپڑا چڑھائے ہوئے داخل ہونا اور یہی حکم ہے جبکہ نمازی آستین یادامن چڑھائے ہوئے ہو۔ (ت)

اور ساری یادھوتی باندھنا جہاں کے شرفا میں اس کا رواج نہ ہو جیسے ہمارے بلاد وہاں شرفا کے لئے خود بھی کراہت سے خالی نہیں کماحققناہ فی کتاب الحظر من فتاوٰنا (ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی کی کتاب الحظر میں کی ہے۔ ت) اور اگروہاں کے مسلمان اسے لباس کفار سمجھتے ہوں تواحترازمؤکد ہے حرج پیچھے گُھرسنے میں ہے ورنہ تہبند توعین سنت ہے اور گِٹّوں سے اُوپر تك ہوناچاہئے اس سے زیادہ نیچی مکروہ ہے واﷲ تعالٰی اعلم یہ تو آپ کے سوال کاجواب تھا اور ان سب باتوں سے زیادہ ضروری مسئلہ قیام نماز ہے فرض و وتر وسنت فجر بیٹھ کرپڑھنے کی اجازت صرف اس حالت میں ہے کہ کھڑے ہونے پراصلًا قدرت نہ ہو نہ دیوار کی ٹیك نہ کسی آدمی یالکڑی کے سہارے سے ، اور عجزبھی ایسا ہو کہ ایك بار اﷲ اکبر کہنے کی دیر تك بھی کھڑانہ ہوسکے اگر اتنی ہی دیر قیام کی طاقت ہو اگرچہ کسی سہارے سے ، توفرض ہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہے پھرطاقت نہ رہے توبیٹھ جائے ، آج کل اکثر لوگ اس کاخلاف کرتے ہیں ذراتکلیف ہوئی اور نماز بیٹھ کر پڑھ لی اور سیدھے کھڑے ہوکرگھرکو راہی ہوئے ، یوں نمازیں قطعًا باطل ہوتی ہیں بلکہ جتنی دیر جس قدر اور جس طرح کھڑے ہونے کی قدرت ہو اتناقیام ہررکعت میں فرض ہے ، یہ مسئلہ خوب یادرکھنے کاہے وقد بیناہ فی فتاوٰنا وباﷲ التوفیق ثم السلام 

مسئلہ ۹۹۶ :          ۲۸جمادی الاولٰی ۱۳۱۸ھ

 



[1]   غنیۃ المستملی یکرہ فصلہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸

[2]   غنیۃ المستملی ،  یکرہ فصلہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[4]   صحیح مسلم باب اعضاء السجود والنہی عن کف الثوب مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۳

[5]   غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراہیۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن