30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ۱ ذکرہ فی النوع الثامن من المبحث الاول من القسم الثانی من الصنف الثانی اٰفات اللسان وھو نوع السخریہ۱۲منہ (م)
عـــــہ۲ ھکذا ھو بالعین فی نسختی الحدیقۃ ۱۲منہ (م)
اسے نابلسی نے مبحث اول کی قسم ثانی کی نوع ثامن میں آفات زباں کی صنف ثانی کے تحت ذکرکیاہے اور یہ مذاق کی قسم ہے۱۲منہ(ت)
میرے پاس جوحدیقہ کانسخہ ہے اس میں یہ لفظ ع کے ساتھ ہے۱۲منہ (ت)
مسئلہ ۹۹۲ : از ملك اپربرہما چھاؤنی مٹکینہ مرسلہ حاجی ہادی یارخاں ۶صفر۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے حامیان دین اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی ہے اس کے کپڑا بہت ہے لیکن آستینیں چڑھاکر کُہنی سے اوپر نمازپڑھتاہے ، کچھ کراہت نماز میں آتی ہے یانہیں ؟ اس کاجواب بمع حدیث شریف تحریرفرمائیے۔
الجواب : مکروہ ہے نمازپھیرنے کاحکم ہے ، درمختارمیں ہے :
کرہ سدل ثوبہ وکرہ کفہ ای رفعہ ولولتراب کمشمرکم اوذیل[1]۔
کپڑے کالٹکانا اسی طرح کپڑے کااٹھانا بھی مکروہ ہے اگرچہ کیچڑ کی وجہ سے ہو جیسے کوئی آدمی آستین اور دامن اٹھالے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
حررالخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ[2]۔
شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے(ت)
حدیث صحیح میں ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولا ثوبارواہ الستۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما[3]۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم دیاگیاہے اور اس بات کاحکم ہے کہ بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں ، اس روایت کو صحاح ستّہ نے حضرت عبداﷲبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے روایت کیا(ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۹۳ : ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمدحسین ۲ صفر۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آستین کہنی تك چڑھی ہوئی نماز پڑھنی مکروہ ہے یانہیں ؟ بیّنواتوجروا
الجواب :
ضرور مکروہ ہے اور سخت وشدیدمکروہ ہے ، صحاح ستّہ میں ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولاثوبا[4]۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم ہے اور اس بات کاکہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں ، (ت)
صحیحین میں رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
امرت ان لااکف الشعروالثیاب[5]۔
مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں بالوں اور کپڑوں کواکٹھا نہ کروں ۔ (ت)
تمام متون مذہب میں ہے : کرہ کف ثوبہ (کپڑوں کواٹھانا مکروہ ہے۔ ت) فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے :
یدخل ایضا فی کف الثوب نشمیر کمیہ[6]۔
کپڑا اٹھانے میں آستینوں کاچڑھانا بھی داخل ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل[7]۔
کپڑے کا اٹھانا اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیساکہ آستین اور دامن کاچڑھانا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ[8]۔
شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے(ت)
غنیہ میں ہے :
یکرہ ان یکف ثوبہ وھو فی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عند السجود اویدخل فیھا
عمل قلیل کے ساتھ نمازمیں کپڑا چڑھانا مکروہ ہے بایں طور کہ پیچھے یاآگے سے سجدہ کے وقت اٹھائے یانماز میں کپڑا اٹھائے ہوئے داخل ہونا
[1] الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
[2] ردالمحتار مطلب مکروہات الصلوٰۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۳
[3] صحیح مسلم ، باب اعضاء السجود ، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ، ۱ / ۱۹۳
[4] صحیح مسلم باب اعضاء السجود مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۳
[5] صحیح مسلم ، باب اعضاء السجود ، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع