30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱) اس سوال کاجواب اگرمفصل لکھاجائے توکم ازکم دوہزارورق ہوں گے سائل کوچاہے علم سیکھے یہ باتیں آجائیں گی ، فرض کے ترك سے نمازفاسد ہوتی ہے اور واجب کے ترك سے مکروہ تحریمی ، اور سنت مؤکدہ کاترك بہت براہے اورغیرمؤکدہ کے ترك سے مکروہ تنزیہی ، اور مستحب کے ترك سے غیراولٰی ، فرض کے ترك میں پڑھنا فرض ہے کہ پہلی نمازاصلًا نہ ہوئی اور اسی صورت میں نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں ، اور واجب بھول کر چھوٹا توسجدہ سہو کاحکم ہے اور قصدًا چھوڑا یابھول کرچھوٹا تھا مگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے اور سنت کے ترك میں سنت اور مستحب کے ترك میں مستحب ، اور ان سب صورتوں میں نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے۔
(۲) ہاں نمازہوجائے گی مگربدبوآئے تو کراہت ہے۔
(۳) نمازمکروہ ہوگی جب تك ایك پلہ اس کادوسرے کندھے پرنہ ڈالاجائے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۰ : ازکلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کو ریشمیں کپڑا پہن کرنماز کیسی ہے؟ اور جب امام باوصف معلوم ہوجانے حرمت کے لباس ریشمیں پہن کرامامت کیاکرے توساری جماعت کی نماز میں کراہت تحریمی کاوبال امام پرہوگایانہیں ؟
الجواب :
فی الواقع ریشمیں کپڑاپہن کرنمازمرد کے لئے مکروہ تحریمی ہے کہ اسے اتار کرپھرپڑھنا واجب کما ھو معلوم من الفقہ فی غیر ما موضع (جیسا کہ فقہ میں متعدد مقامات پرموجود ہے۔ ت) شرح مقدمہ غزنویہ پھر فتاوٰی انقرویہ میں ہے :
تکرہ الصلٰوۃ فی ثوب الحریر وعلیہ ایضا لانہ محرم علیہ لبسہ فی غیرالصلٰوۃ ففیہا اولی فان صلی فیھا صحت صلاتہ لان النھی لایختص بالصلٰوۃ [1] انتھی
اقول : وقولہ وعلیہ ایضا مبتن علی قولھما من حرمۃ افتراش الحریر والا فھو جائز عندالامام الاعظم رضی اﷲ تعالٰی
ریشمی کپڑے میں اور اس کے اوپرنماز مکروہ ہے کیونکہ جب نماز کے علاوہ اسے پہننا حرام ہے تو نماز میں بطریق اولٰی حرام ہوگا ، اگران میں نماز ادا کی توصحیح ہوگی کیونکہ نہی نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں انتہی
اقول : اس کاقول “ ریشمی کپڑے پربھی “ صاحبین کے اس قول پرمبنی ہے کہ ریشم کابچھونا بنانا بھی حرام ہے ورنہ امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیك جائز
عنہ لان المحرم لبسہ لاسائر وجوہ الانتفاع[2] کما فی ردالمحتار وغیرہ نعم تکرہ الصلاۃ علیہ وان جاز افتراشہ لان الصلٰوۃ لیست موضع الترفہ وھذہ الکراھۃ تنزیھیا۔
ہے کیونکہ ریشم کاپہننا حرام ہے باقی نفع کی صورتیں منع نہیں جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے ، ہاں اگرچہ اس کابچھونا بنانا جائز ہے مگر اس پرنماز مکروہ ہوگی کیونکہ نمازتعیش کامقام نہیں اور یہ کراہت تنزیہی ہوگی۔ (ت)
جبکہ اﷲ عزوجل نے مرد کو ریشمیں کپڑاگھر میں پہننا حرام کیا تو خود اس کے دربار میں اسے پہن کرحاضر ہونا کس درجہ گستاخی وبے ادبی ہوگا ، جوبات گھربیٹھ کرتنہائی میں کرناتو قانون سلطانی میں جرم ہو وہ خود بارگاہ سلطانی میں اس کے حضور کھڑے ہوکر کرنا کیسی صریح بیباکی اور بادشاہ کاموجب ِ ناراضی ہوگا والعیاذ باﷲ تعالٰی اور پُرظاہر کہ نماز امام کی یہ کراہت نماز مقتدیان کی طرف بھی سرایت کرے گی تو اُن سب کی نمازیں خراب وناقص ہونے کا یہی شخص باعث ہوا اور معاذاﷲ ارشاد حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی کامصداق ٹھہر۱ ؎
بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش درھمہ آفاق زد
(بے ادب تنہا اپنے آپ کوہی تباہ نہیں کرتا بلکہ اس ایك کی بے ادبی تمام عالم کو برباد کردیتی ہے)
بعینہٖ یہی حکم ان سب چیزوں کاہے جن کاپہننا ناجائز ہے جیسے ریشمیں کمربندیامغرق ٹوپی یاوہ کپڑا جس پرریشم یا چاندی یا سونے کے کام کاکوئی بیل بُوٹا چارانگل سے زیادہ عرض کا ہو یا ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے سونے چاندی پیتل لوہے کے چھلّے یاکان میں بالی یابُندا یاسونے خواہ تانبے پیتل لوہے کی انگوٹھی اگرچہ ایك تارکی ہو یاساڑھے چارماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یاکئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کر ایك ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کوحرام وناجائز ہیں اور اُن سے نمازمکروہ تحریمی اور تانبے پیتل لوہے کے زیور توعورتوں کو بھی حرام ہیں انہیں پہن کر اُن کی نماز بھی مکروہ تحریمی ، ان مسائل کی تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے اﷲ عزوجل مسلمانوں کوہدایت فرمائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۱ : ازبدایوں کچہری منصفی مرسلہ شیخ حامدحسین وکیل ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزی وضع کے کپڑے پہنناکیسا؟ اور ان کپڑوں سے نماز ہوتی ہے یانہیں ؟ اورہوتی ہے توبکراہت تحریمی یاتنزیہی یابلاکسی فساد کے؟ بیّنوا توجروا
الجواب :
انگریزی وضع کے کپڑے پہننا حرام سخت حرام اشد حرام ، اورانہیں پہن کرنمازمکروہ تحریمی قریب بحرام واجب الاعادہ کہ جائز کپڑے پہن کر نہ پھیرے توگنہگارمستحق عذاب والعیاذباﷲ العزیزالغفار سیدی علامہ اسمعیل نابلسی شرح درر و غرر پھرعلامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہما القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں :
مافعلہ بعض عــــہ۱ ارباب الحرف بدمشق لما زینت البلدۃ بسبب اخذ بلد من الافرنج من لبسھم زی الافرنج فی رؤسھم وسائر بدنھم وجعلھم اساری فی القیود وعرض ذلك فی البلدۃ علی زعم انہ حسن وھو والعیاذباﷲ کفرعلی الصحیح وخطأ عظیم علی القول المرجوع عـــہ۲ اعاذنااﷲ من الجھل المورد موارد السوئ[3] ۔
دمشق شہر کی خوبصورتی کے وقت بعض ارباب صنعت نے فرنگیوں سے شہر کی قبضہ میں لیتے وقت جشن مناتے ہوئے مذاق کے طور پر فرنگیوں کالباس سر اور جسم پر پہناکر (کچھ لوگوں کو) قید میں ڈالا اور شہر میں پھرا یا اور اس سے خوش ہوئے (اﷲ کی پناہ) یہ صحیح قول کے مطابق کفراور قول مرجوع پرخطأ عظیم ہے اﷲتعالٰی جہالت کے ایسے برے مواقع سے محفوظ رکھے۔ (ت)
عٰلمگیری میں تاتارخانیہ سے ہے :
تکرہ الصلاۃ مع البرنس [4]
(ٹوپی والے جبّہ میں نماز مکروہ ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع