30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تصحیح اقوال میں اختلاف ہو توظاہرالروایۃ کی تلاش اور اس کی طرف رجوع واجب ہوتاہے (ت)
اور علماء فرماتے ہیں جب روایت ودرایت متطابق ہوں توعدول کی گنجائش نہیں ۔ علامہ حلبی نے غنیہ میں فرمایا :
لایعدل عن الدرایۃ ماواقفتھا روایۃ[1]۔
اس درایت سے اعراض نہیں کیاجائے گا جو روایت کے موافق ہو۔ (ت)
یہاں جبکہ یہی ظاہرالروایۃ اور اسی کے مطابق دلیل وروایت تولاجرم قول یہی ہے کہ ادنی مابہ الامتیاز (جس سے کم ازکم امتیاز پیداہوجائے۔ ت) بلندی بھی مکروہ ہے ہاں ایسا قلیل تفاوت جس سے امتیاز ظاہرنہ ہو عفو ہے فان فی اعتبارہ حرجاوالحرج مدفوع بالنص (کیونکہ اس کے اعتبار کرنے میں حرج وتنگی ہے اور تنگی نصوص کی وجہ سے مدفوع ہے۔ ت) یونہی اگرپہلی صف امام کے سات ہوباقی صفیں نیچی توبھی مذہب اصح میں کچھ حرج نہیں
کماقدمنا عن المنیۃ وغیرھا وقال فی الدر المختار لم یکرہ لوکان معہ بعض القوم فی الاصح [2]ھ۔ اقول : وربما یشیرالیہ مافی حدیث الحاکم ویبقی الناس خلفہ فافھم۔
جیسا کہ ہم نے منیہ وغیرہ کے حوالے سے ذکرکیاہے اور درمختارمیں فرمایا ہے کہ اصح قول کے مطابق اگرامام کے ساتھ کچھ لوگ ہوں توکراہت نہ ہوگی۱ھ اقول : اس کی طرف حدیث حاکم کے یہ الفاظ اشارہ کرتے ہیں “ اور لوگ اس کے پیچھے ہوں “ اس کوسمجھ ۔ (ت)
اورشك نہیں کہ تین گرہ بلندی قطعًا ممتاز وباعث امتیاز ہے کہ ہرشخص بنگاہِ اولیں فورًا تفاوت بین جان لے گا تومذہب معتمد پر اس کی کراہت میں شبہہ نہیں بلکہ علما تصریح فرماتے ہیں کہ امام کے لئے تخصیص مکانی کراہت میں یہ صورت بھی داخل کہ مثلًا وہ مکان مسقف میں ہو اور مقتدی صحن میں ، شرح نقایہ میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
وامابان یکون فی صُفّۃ ، وھم فی وسط الدار مثلا کما فی الجوھر وامابان یقوموا فی المسجد والامام فی طاق یتخذ فی المحراب[3]۔
امام چھت میں ہو اور لوگ صحن کے درمیان ، جیسا کہ جواہرمیں ہے یالوگ مسجد میں ہوں اور امام طاق میں ہوجومحراب میں بنایاگیاہو۔ (ت)
یہاں تك کہ امام مقتدیوں سے تقدیم کوفرماتے ہیں یہ بھی تخصیص مکانی ہے اگرشریعت مطہرہ میں اس کاحکم نہ آتا مکروہ ہوتا ، علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا :
یدخل فی تخصیص الامام بمکان قیامہ فی الطاق ای المحراب بحیث یکون قدماہ فیہ والتقدم علی القوم وان کان تخصیصالہ بمکان لکنہ مستثنی شرعا[4] ۔
امام کے لئے تخصیص مکان میں یہ صورت بھی شامل ہے جب وہ طاق یعنی محراب میں اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے قدم محراب کے اندرہوں ، امام کاقوم سے مقدم ہونابھی اگرچہ تخصیص مکان میں شامل ہے مگر اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ (ت)
جب ایسے فرق کوبھی تخصیص مکانی ٹھہراتے ہیں حالانکہ مکان واحد اور زمین ہموار ہے جس میں فی نفسہٖ اصلًا کوئی فرق وامتیازنہیں تو مثلًا کرسی ، مکان یا چبوترہ کی بلندی اگرچہ دوتین ہی گرہ ہو بدرجہ اولٰی تخصیص مکانی باعث کراہت ہوگی کہ یہاں نفس مکان میں تفرقہ وتفاوت موجود اور دالان وصحن کے فرق میں توسرے سے درجہ ہی بدل گیا تویہ سب صورتیں ، ارشاد امام علام صدرالشریعۃ قدس سرہ وتخصیص الامام بمکان (امام کاجگہ مخصوص کرنا۔ ت) میں داخل ہیں جزاہ اﷲ خیر جزاء (کیادولفظوں میں تمام صور کااحاطہ فرمالیا اور بہت نزاعوں کاتصفیہ کردیا فالحمد ﷲ رب العٰلمین پس ثابت ہوا کہ جہاں دالان ِ مسجد کی کرسی صحن مسجد سے بلندی ممتاز رکھتی ہو جیسا کہ اکثرمساجد میں ہے وہاں امام کا دوستونوں کے درمیان کھڑاہونا جیسا کہ عوام ہند میں مشاہد ہے نہ صرف ایك کراہت بلکہ تین کراہتوں کاجامع ہوگا :
اوّلًا : یہی بین الساریتین قیام امام ،
ثانیًا : مقتدیوں پربلندی ممتاز ،
ثالثًا : اس کا زیرسقف اور مقتدیوں کاصحن پرہونا۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق وھو سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ ، اتم واحکم۔
یہی تحقیق مناسب ہے اور اﷲ تعالٰی توفیق کامالك ہے وہ پاك وبلند زیادہ جاننے والا اور اس کا علم اجل واعلٰی ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۷۳ تا ۹۷۴ : ازشہرکہنہ بریلی مسؤلہ محمدظہورمحمدصاحب ۱۲ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) بعض شخص نماز میں رکوع کے بعد سجدہ کوجاتے وقت دونوں ہاتھوں سے دونوں پائچوں کوگھٹنوں سے اوپرکوچھڑالیا کرتے ہیں یعنی ہرکعت میں ایساہی کرتے ہیں اس کی نسبت کیاحکم ہے؟
(۲) ہاتھوں کی کہنی کھول کو آستین اوپرکوچھڑھاکر نمازپڑھنے میں کس قدرنقصان ہے؟ کس درجہ کی وہ نماز ہوگی؟ زید کاخیال ہے وہ نماز مکروہ ہوئی مگر عمروکاخیال ہے کہ مکروہ نہیں ہوئی اور عمرو کاسوال ہے کہ اگرمکروہ ہوئی توصحت کے ساتھ بتلادیاجائے۔
الجواب :
(۱) مکروہ ہے۔
(۲) نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی ، اگرنہ پھیرے گا توگنہگار رہے گا ، درمختار ، حلیہ وغیرہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۵ تا ۹۷۶ : ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ احسان علی مظفرپوری طالب علم بتاریخ ۱۳ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) نماز کے اندر اگرٹوپی گرجائے تو اٹھاناچاہئے یانہیں ؟
(۲) امام قراء ت یارکوع کوکسی مقتدی کے واسطے درازکرسکتاہے یانہیں جبکہ مقتدی وضوکررہاہو یامسجد میں آگیاہو اور یہ امام کومعلوم ہوگیا کہ کوئی شخص ہے کہ عنقریب شریك ہوناچاہتاہے بایں صورت رکوع میں کچھ دیر کردے توجائز یانہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع