دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

الجواب :

امام کا دوستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونامکروہ ہے۔ ردالمحتارمیں ہے :

فی معراج الدرایۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین اوزاویۃ او ناحیۃ المسجد اوالی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ[1]  ۔

معراج الدرایۃ کے باب الامامت میں ہے کہ اصح روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے یہی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : میں امام کادوستونوں کے درمیان یازاویہ یامسجد کی ایك جانب یا ستون کی طرف کھڑاہونا مکروہ جانتاہوں کیونکہ یہ اُمتِ محمدیہ کے عمل کے خلاف ہے۔ (ت)

اسی طرح امام کاتمام مقتدیوں سے بلندجگہ میں ہونا بھی مکروہ۔ سنن ابی داؤدمیں حضرت حذیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

اذا ام الرجل القوم فلایقم فی مکان ارفع من مقامھم اونحوذٰلک[2]۔

یعنی جب کوئی شخص نمازیوں کی امامت کرے تو اُن کے مقام سے اُونچی جگہ میں نہ کھڑاہو۔

ابوداؤد وابن حبان وحاکم حضرت ابومسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی :

وھذا لفظ الحاکم فی مستدرکہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق و یبقی الناس خلفہ[3]۔

حاکم کی مستدرك میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور پرنورسیّدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے منع فرمایا کہ امام اونچا کھڑاہو اور مقتدی نیچے رہیں ،

پھر ہمارے ائمہ مذہب   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   نے ظاہرالروایہ میں اس کراہت بلندی وپستی کو کسی مقدار معین مثلًا ایك ذراع شرعی وغیرہ پرموقوف نہ مانا بلکہ جس قدرسے امام وقوم کامقام میں امتیاز واقع ہو مطلقًا باعث کراہت جانا اور اسی کوامام مالك العلماء ابوبکرمسعودکاشانی قدس سرہ الربانی نے بدائع میں صحیح اور امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام صاحب فتح القدیر وغیرہ محققین نے اوجہ وارجح فرمایا اوریہی اطلاق احادیث کا مفاد ، تو اسی پرفتوٰی اور اسی پر اعتماد ، ولہٰذا منیہ و نقایہ و جامع الرموز وغیرہا میں حکم کراہت کو مطلق رکھا ، درمختارمیں ہے :

کرہ انفراد الامام علی الدکان للنھی و قدر الارتفاع بذراع ولاباس بما دونہ وقیل مایقع بہ الامتیاز وھو الاوجہ ذکرہ الکمال وغیرہ[4] ۔

امام کااونچی جگہ تنہا کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس پرنہی وارد ہے اور اونچائی کی مقدار ایك ذراع ہے اس سے کم ہو تو کوئی حرج نہیں ، بعض کی رائے میں اتنی اونچائی مکروہ ہے جس سے امتیاز پیداہو ، یہی مختار ہے کمال وغیرہ نے اسے ذکرکیا۔ (ت)

ردالمحتارمیں ہے :

قولہ وقیل الخ ھو ظاھرالروایۃ کما فی البدائع قال فی البحر والحاصل ان التصحیح  قد اختلف والاولی العمل بظاھر الروایۃ واطلاق الحدیث [5] ھ و کذا رجحہ فی الحلیۃ۔          قولہ وقیل

الخ یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ، بحرمیں کہاہے الغرض تصحیح میں اختلاف ہے لیکن ظاھر روایت اور اطلاق حدیث پرعمل بہترہے ۱ھ حلیہ میں اسی کو ترجیح ہے۔

امام ملك العلماء ابوبکربدائع میں فرماتے ہیں :

الصحیح جواب ظاھر الروایۃ لماروی ان حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنھما قام بالمدائن یصلی بالناس علی دکان فجذبہ سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ثم قال ما الذی اصابك اطال العھد ان نسیت اما سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لایقوم الامام علی مکان انشر مما علیہ اصحابہ وفی روایۃ اماعلمت ان اصحابك یکرھون ذلك فقال تذکرت حین جذبتنی[6]۔

ظاہرالروایہ کاجواب صحیح ہے کیونکہ حضرت حذیفہ بن یمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کے بارے میں مروی ہے کہ وہ مدائن میں نمازپڑھانے کے لئے اونچی جگہ کھڑے ہوتے تو حضرت سلمان فارسی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے انہیں نیچے کھینچا اور فرمایا کیاہوگیا کیاوقت زیادہ گزرگیا ہے یاآپ بھول گئے؟ کیا آپ نے رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کویہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ امام ایسی جگہ کھڑانہ ہو جہاں وہ اپنے ساتھیوں سے جُداہوجائے۔ دوسری روایت کے الفاظ میں ہے کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ تمہارے ساتھی اس بات کو پسند نہیں کرے ، حضرت حذیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کہا مجھے اس وقت یہ بات یاد آگئی جب تم نے مجھے کھینچا۔ (ت)

منیہ میں ہے :

یکرہ ان یقوم ینفرد فی مکان اعلی                                          یہ مکروہ ہے کہ امام اکیلا ایسی جگہ کھڑا ہو کہ قوم

من مکان القوم اذا لم یکن بعض القوم معہ[7]۔

سے بلند ہوجبکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی نہ ہوں ۔ (ت)

نقایہ کے مکروہات الصلاۃ میں ہے : وتخصیص الامام بمکان (امام کا جگہ مخصوص کرنا۔ ت)شرح علامہ شمس الدین محمدمیں ہے :

(تخصیص الامام) ای انفرادہ (بمکان) امابان یکون مقامہ اعلی اواسفل من مکان القوم[8]  الخ ویأتی تمامہ۔

(تخصیص امام سے مراد) اس کا الگ ہونا ہے (بمکان) یاتو اس کامقام قوم سے اوپر ہوگا یانیچے ہوگا الخ اس کی تفصیل آرہی ہے(ت)

ہمارے مذہب کے قواعد مقررہ سے ہے کہ عند اختلاف الفتیا (جب فتوٰی میں اختلاف ہو۔ ت) ظاہرالروایۃ پرعمل واجب ہے ، بحرالرائق میں ہے :

اذا اختلف التصحیح وجب الفحص عن ظاھر الروایۃ والرجوع الیھا[9] ۔

 



[1]   ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸

[2]   سنن ابوداؤد باب الامام یقوم مکانا ارفع من مکان القوم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۸

[3]   المستدرك علی الصحیحین نہی النبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ان یقوم الامام الخ مطبوعہ المطبوعات الاسلامیہ یروت ۱ / ۲۱۰

[4]   درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۲

[5]   ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸

[6]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن