30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگرپہلے سے دوہیں تو یہ پیچھے شامل ہوجائے کہ امام کے برابر تین مقتدیوں کاہونا مکروہ تحریمی ہے۔
فی الدر لوتوسط اثنین کرہ تنزیھا وتحریما لو اکثر [1]۔
در میں ہے اگر دوکے درمیان امام کھڑا ہوتویہ مکروہ تنزیہی ہے اور اگردو سے زیادہ کے درمیان ہو تو یہ مکروہ تحریمی ہے ۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے
جذب عالما بالحکم لایتاذی بہ والاقام وحدہ [2] ھ قلت فارشد الی القیام وحدہ صوتا لصلوۃ غیرہ عن الفساد المحتمل فکیف اذا کان فیہ صون صلاۃ نفسہ وغیرہ جمعیا عن الخلل المتیقن الموجب للاعادۃ۔ والله تعالٰی اعلم۔
حکم مسئلہ سے آگاہ نمازی کوکھینچ لے تاکہ اسے پریشانی نہ ہور اور اگرامام صاحب علم نہیں توتنہا ہی کھڑاہوجائے۱ھ
قلت (میں کہتاہوں ) جب اس کاتنہا کھڑاہونا اس لئے بہتر ہے تاکہ فساد محتمل سے دوسرے کی نماز بچائی جاسکے تو اس وقت تنہا کھڑاہونا کیوں نہ بہتر ہوگا جب اپنی اور دوسرے دونوں کی نماز ایسے خلل یقینی سے بچائی جارہی ہو جواعادہ کا موجب ہو۔ والله تعالٰی اعلم(ت)
_________________
القِلَادَۃُ الْمُرَصَّعَۃُ فِیْ نَحْرِالْاَجْوِبَۃِ الْاَرْبَعَۃِ۱۳۱۲ھ
(چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار)
(مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
مسئلہ ۸۶۲ : ازکان پور بازار میدہ دکان نوربخش ومحمد سلیم مرسلہ مولوی محمد شفیع الدین صاحب نگینوی تلمیذ مولوی احمدحسن صاحب کانپوری ۱۶صفر۱۳۱۲ھ
بخدمت مجمع کمالات عقلیہ ونقلیہ جناب احمد رضاخاں صاحب دامت افضالہم السلام علیکم ، ایك استفتا خدمت شریف میں ارسال ہے پہلا جواب مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھاتھا دوسرا جواب مولوی قاسم علی مرادآبادی نے لکھا ہے چونکہ دونوں جوابوں میں تخالف ہے لہٰذا ارسال خدمت شریف میں کیاگیاہے جوجواب صحیح ہو اس کومہرودستخط سے مزین فرمائیں ، اگر دونوں جواب خلاف تحقیق ہیں توجناب علیحدہ جواب مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں ما جوابکم ایھا العلماء رحمکم الله تعالٰی (اے علماء رحمکم الله تعالٰی ! تمہارا جواب اس سلسلہ میں کیاہے؟۔ ت) ان مسئلوں میں کہ :
(۱) ایك شخص اپنے ایك پیر سے معذور ہے چونکہ اس کو شب کودوبارہ مسجد میں آنے سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ شخص مسجد میں قبل اذان وجماعت کے اپنی نمازعشاء ہمراہ ایك شخص کے اقامت کہہ کرپڑھ لیتاہے پس شخص مذکور کوجماعت کاثواب ہوگا یانہ۔ اور جو جماعت مع اذان کے بعد کو ہوگی اس میں کچھ کراہت ہوگی یانہ؟
(۲) ہمراہ شخص مذکور کے جونماز پڑھتا ہے توبعد والی جماعت بسبب فوت ہونے تہجد کے ترك کرتاہے جائز ہے یانہ؟
(۳) ایك شخص ہمیشہ قیلولہ اس طرح کرتاہے کہ اس کی ظہر کی جماعت اولٰی ترك ہوجاتی ہے اور عذر اس کاخوف فوت تہجد ہے جائز ہے یانہ؟
(۴) چند شخصوں کوکوئی ضرورت درپیش ہے وہ چند شخص قبل اذان وجماعت اپنی نماز جماعت سے مسجد میں پڑھیں جائز ہے یانہ؟ بینوا توجروا
جواب کان پور :
جواب سوال اول : نفس جماعت کاثواب ملے گا مگر جماعت اولٰی کی فضیلت سے محروم رہے گا ، جماعت اولٰی وہی ہوگی جو اذان واقامت سے اس کے بعد ہوگی اور اس میں کچھ کراہت نہیں ہے۔
جواب سوال دوم : خوف فوت تہجد ترك جماعت اولٰی میں عذر نہیں ہے۔
جواب سوال سوم : یہ عذر ترك جماعت ظہر نہیں ہوسکتا۔
جواب سوال چہارم : ضرورت شدیدہ میں ترك جماعت اولٰی جائز ہے۔ والله تعالٰی اعلم کتبہ محمد اشرف علی عفی عنہ اشرف۱۳۰۰علی ازگروہ اولیا
جوا ب مراد آباد :
جواب سوال اول : کایہ ہے کہ شخص مندرجہ سوال کاجماعت کرنا مکروہ تحریمہ ہے ثواب جماعت اصلًا نہ ہوگا اس لئے کہ اولًا تومعذور ہے جماعت ساقط ہے بلکہ بلاجماعت امید حصول ثواب بوجہ معذوری کے ہے۔
کما فی الھندیۃ وتسقط الجماعۃ بالاعذار حتی لاتجب علی المریض والمقعد والزمن ومقطوع الید والرجل من خلاف والمفلوج الذی لایستطیع المشی و الشیخ الکبیر العاجز اوکان قیما لمریض اویخاف ضیاع مالہ[3] انتھی ملخصا ۔
جیسا کہ ہندیہ میں ہے عذر کی وجہ سے جماعت ساقط ہوجاتی ہے حتی کہ مریض ، بیٹھ کر چلنے والے ، لُولے اور جس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت کٹے ہوئے ہوں ، ایسا فالج زدہ جوچلنے کی طاقت نہ رکھتاہو ، نہایت ہی عاجز بوڑھا یاوہ شخص کسی بیمار کانگہبان ہو یااسے اپنے مال کے ضیاع کاخطرہ ہو مذکور سب افراد پر جماعت واجب نہیں ہے انتہی ملخصا(ت)
ومع ھذا (اور اس کے باوجود۔ ت) اس شخص کابغیر اذان وقامت کے جماعت کرنا علی الخصوص ایسے شخص کے ساتھ کہ وہ شرعًا معذورنہیں ہے موجب کراہت تحریمہ کاہے۔ چنانچہ فتاوٰی عالمگیری میں لکھا ہے :
ویکرہ اداء المکتوبۃ بالجماعۃ فی المسجد بغیراذان واقامۃ [4]۔
مسجد میں فرض نمازبغیر اذان وقامت باجماعت اداکرنامکروہ ہے۔ (ت)
ونیز درانست (نیز اسی میں ہے۔ ت)
الاذان سنۃ لاداء المکتوبۃ بالجماعۃ وقیل انہ واجب ، الصحیح انہ سنۃ مؤکدۃ[5]۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع