دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

فان قیل لہ مصلح اٰخر وھو سجود السہو فلایجب الفتح عینا قلت بلی فان ترك الواجب معصیۃ وان لم یاثم بالسھو و دفع المعصیۃ واجب ولایجوز التقریر علیہا بناء علی جابر یجرھا کمالایخفی۔

اگریہ کہاجائے کہ یہاں اصلاح کی دوسری صورت ، بصورتِ سجدہ سہو موجود ہے تویہاں لقمہ دینا واجب نہ ہوگا ، قلت کیوں نہیں ، کیونکہ ترك واجب گناہ ہے اگرچہ امام سہو سے گناہگار نہیں ہوتا ، اور گناہ سے بچناضروری ہے تومعصیت پراثبات اس لئے کہ کسی دوسرے سے اس کا ازالہ کرلیاجائے گا جائزنہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)

اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترك واجب ، جب بھی ہرمقتدی کومطلقًا بتانے کی اجازت ہے  ھو[1]  الصحیح کما نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر (یہی صحح ہے جیسا کہ اس پر دروغیرہ میں تصریح ہے۔ ت)مگریہاں وجوب کسی پرنہیں لعدم الموجب اقول مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ امام غلطی کرکے خود متنبہ ہوا اور یاد نہیں آتا یادکرنے کے لئے رکا اگرتین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر رُکے گا نماز میں کراہتِ تحریم آئے گی اور سجدہ سہو واجب ہوگا ،

فی الدر المختار اذا شغلہ الشك فتفکر قدر اداء رکن ولم یشتغل حالۃ الشك بقراء ۃ ،  وجب علیہ سجود السہو[2] ۔

درمختارمیں ہے جب کوئی شك میں پڑجائے اور وہ ایك رکن کی ادائیگی کے مقدار غورکرتارہے اور حالتِ شك میں قرأت میں مشغول نہ ہوا تو اس پرسجدہ سہو لازم ہوگا(ت)

تو اس صورت میں جب اُسے رُکا دیکھیں مقتدیوں پربتانا واجب ہوگا کہ سکوت قدرناجائزتك نہ پہنچے ، دوسرے یہ کہ بعض ناواقفوں کی عادت ہوتی ہے جب غلطی کرتے ہیں اور یادنہیں آتا تواضطرارًا  اُن سے بعض کلمات بے معنی صادر   ہوتے ہیں کوئی اُوں اُوں کہتاہے کوئی کچھ اور ، اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو جس کی یہ عادت معلوم ہے وہ جب رکنے پرآئے مقتدیوں پرواجب ہے کہ فورًا بتائیں قبل اس کے کہ وہ اپنی عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے ،

وذٰلك لانہ اذن یکون صیانتہ عن البطلان وھی فریضۃ غیر ان وقوعہ مظنون للعادۃ لامقطوع بہ فینزل فیما یظھر الی الوجوب۔

وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس کا بطلان سے بچانا ہے جوکہ فریضہ ہے لیکن عادت کی بنا پر اس کا وقوع صرف ظنی ہے قطعی نہیں ہے توموجودہ صورت میں یہ فرض سے مرتبہ وجوب پرآجائے گا۔ (ت)

حلیہ میں ہے :

نص القاضی فی شرح الجامع الصغیر علی انہ الاصح وعﷲ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما یجری لسانہ مایکون مفسدا[3] ھ اقول :   ولایرد علیہ مافی الحلیۃ انہ کما یکرہ للامام الجاء القوم الی الفتح علیہ ،  یکرہ للمقتدی ان یفتح علیہ من ساعتہ ،  قال فی الذخیرۃ لانہ ربما یتذکر الامام من ساعتہ فتکون قراء تہ خلفہ قراء ۃ من غیرحاجۃ  [4]١ھ فان ھذا حیث لم یخش الفساد اما اذا خشی کما ذکرنا فحاجۃ وای حاجۃ۔

قاضی نے شرح جامع صغیرمیں اس کے اصح ہونے کی تصریح کی انہوں نے اور دیگرعلمانے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دیتا تو بعض اوقات امام کے زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں جو نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں

اقول : (میں کہتاہوں ) یہاں وہ اعتراض واردنہیں ہوسکتا جو حلیہ میں ہے کہ جس طرح امام کا قوم کو لقمہ پرمجبورکرنا مکروہ ہے اسی طرح مقتدی کافی الفور امام کو لقمہ دینا بھی مکروہ ہے۔ ذخیرہ میں ہے اس لئے کہ بعض اوقات امام کو اسی وقت یاد پڑتاہے تو امام کے پیچھے مقتدی کی قرأت بغیر حاجت کے ہوگی۱ھ لیکن یہ وہاں ہے کہ جہاں فساد کاخوف نہ ہو ، اگروہاں فساد کاخوف ہو جیسا کہ ہم نے ذکرکیاہے تو اب لقمہ کی حاجت ہوگی اور وہ کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ (ت)

اقول :  اور ان دونوں صورتوں کے سوا جب تراویح میں ختم قرآن عظیم ہو تو ویسے بھی مقتدیوں کوبتانا چاہئے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہوجائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختم کتاب عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورانہ ہوگا ، یہاں اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت نہ بتائے بعد سلام اطلاع کردے امام دوسری تراویح میں اُتنے الفاظ کریمہ کاصحیح طورپر اعادہ کرلے مگر اولٰی بھی بتانا ہے کہ حتی الامکان نظم قرآن اپنی ترتیب کریم پرادا ہو۔ خانیہ و ہندیہ وغیرہ میں ہے :

اذ غلط فی القراء ۃ فی التراویح فترك سورۃ او اٰیۃ وقرأما بعدھا فالمستحب لہ ان یقرء المتروکۃ ثم المقروأۃ لیکون علی الترتیب[5] ۔

جب تراویح میں قرأت میں غلطی ہوجائے سورت یا آیت چھوڑدی اور اس کے بعد والی پڑھ لی تومستحب یہ ہے کہ پہلے متروکہ پڑھے پھرتلاوت کردہ ، تاکہ ترتیب درست ہو جائے(ت)

اور ان تمام احکام میں جملہ مقتدی یکساں ہیں امام کو بتاناکسی خاص مقتدی کا حق نہیں ، ارشادات حدیث و فقہ سب مطلق ہیں ابن عساکرنے سمرہ بن جندب   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کی :

قال امرنا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان نرد علی الامام[6]۔

ہم کو نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے حکم دیا کہ امام پر اس کی غلطی رد کریں ۔

ابن منیع نے مسند اورحاکم نے مستدرك میں ابوعبدالرحمن سے روایت کی :

قال قال علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ من السنۃ ان تفتح علی الامام اذاستطعمك قیل لابی عبدالرحمٰن مااستطعام الامام قال اذا سکت[7]۔

فرمایا : امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ ، نے فرمایا سنت ہے کہ جب امام تم سے لقمہ مانگے تو اسے لقمہ دو ، ابوعبدالرحمان سے کہاگیا امام کامانگنا کیا ، کہا جب وہ پڑھتے پڑھتے چپ ہوجائے۔

کتب مذہب میں عمومًا یجوز فتحہ علی امامہ فرمایا جس میں ضمیر مطلق مقتدی کی طرف ہے کہ اسے امام کو بتانے کی اجازت ہے مسئلہ کی دلیل جوعلماء نے فرمائی وہ بھی تمام مقتدی کو شامل ہے۔ بحرالرائق وغیرہ میں ہے :

لانہ تعلق بہ اصلاح صلاتہ لانہ لولم یفتح ربما یجری علی لسانہ مایکون مفسد اولاطلاق ماروی عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذاستطعمکم الامام فاطعموہ

کیونکہ اس کے ساتھ اصلاح نماز کاتعلق ہے کیونکہ اگرلقمہ نہ دیا توبعض اوقات امام کی زبان پر ایسے کلمات جاری ہوجاتے ہیں جومفسدنماز ہیں ، اور حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی کا اطلاق بھی

واستطعامہ سکوتہ ولھذا لوفتح علی امامہ بعد ماانتقل الی اٰیۃ اخری لاتفسد صلاتہ وھو قول عامۃ المشایخ لاطلاق المرخص[8] ١ھ مختصرا۔

 



[1]   درمختار  باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۱ / ۹۰

[2]   درمختار   باب سجود السہو ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۳

[3]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[4]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن