30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگرجبکہ ایسا قصد بضرورت اصلاح نماز ہو جیسے مقتدیوں کاامام کوبتانا یا اس کے جواز میں خاص نص آگیا ہو جیسے کوئی دروازے پر آواز دے یہ نماز پڑھتاہو اس کو مطلع کرنے کے لئے سبحان اﷲ یا لاالٰہ الااﷲ یا اﷲ اکبر کہے توصرف ان صورتوں میں نماز نہ جائے گی اور ان کے ماوراء میں مطلقًا اسی اصل کلی پر عمل ہو کر فساد نماز کاحکم دیاجائے گا۔ فتح القدیرمیں ہے :
قلنا خرج قصد اعلام الصلاۃ بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذنابت احدکم نائبۃ وھو فی الصلاۃ فلیسبح الحدیث اخرجہ الستۃ لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ کما لم یتغیر عند قصد اعلامہ فان مناط کونہ من کلام الناس کونہ لفظا افید بہ معنی لیس من عمال الصلاۃ لاکونہ وضع لافادۃ ذٰلك فیبقی ماوراء ہ علی المنع [1] الخ قلت وقد اوضحنا المسألۃ بنقولھا فیما تقدم من فتاوٰنا۔
ہم کہتے ہیں کہ نماز میں اصلاح کاقصد ، حضورعلیہ السلام کے ارشاد مبارك کہ “ جب کسی کو نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو وہ تسبیح کہے “ کے تحت اس حکم سے خارج ہے۔ اس حدیث کو صحاح ستّہ نے بیان کیاہے اس لئے نہیں کہ اس میں تبدیلی بالارادہ نہیں کیونکہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کامدار اس پر ہے کہ وہ الفاظ ہوں جو ایسے معانی کا فائدہ دیں جو اعمال نماز میں سے نہیں ، نہ کہ وہ الفاظ ان معانی کے افادہ کے لئے موضوع ہوں لہٰذا اس کے علاوہ ممنوع ہی رہیں گے الخ قلت ہم نے اس مسئلہ کو سابقہ گفتگو میں خوب واضح کیاہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ جب نمازی نے اﷲ اکبر یا سمع اﷲ لمن حمدہ صرف اس اطلاع کی نیت سے کہا کہ میں پڑھ رہاہوں میرے شریك ہوجاؤ ، تو یہ ایك لفظ ہے جس سے ایسے معنی کا افادہ چاہا جو اعمال نماز سے نہیں کہ اعمال نماز اس کے افعال مخصوصہ معلومہ ہیں نہ کسی سے یہ کہنا کہ نماز میں مل جاؤ اور اس خصوص میں نہ نص وارد ہے نہ یہ کسی نہ جاننے والے کو اس کا بتانا ہے کہ میں نماز میں مشغول بلکہ ا س سے اپنے فرض میں ہونے کا اعلام اور اپنی نماز کی طرف بلانا مقصود ہے ، یہ دونوں باتیں مجرد قصداعلام صلوٰۃ سے زائد ہیں کہ اس قدر تو وہ آنے والے خودہی جانتے ہیں کہ یہ نماز پڑھ رہاہے تو یہ صورت اُن صور استثناء میں داخل نہیں اور حکم فساد نماز ہے مگر اگر اصل لفظ سے کوئی امر بیرونی مقصود نہیں بلکہ صرف رفع صوت بقصد دیگرہے تو یہاں کوئی لفظ ایسانہ پایا گیا جس سے کسی خارج بات کا قصد کیاگیا ہو اور تنہا رفع صوت کلام نہیں تو مناط فساد متحقق نہ ہو اولہٰذا امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ ، نے جبکہ اُن مکبّروں کی نسبت جو تکبیرات انتقالات میں گانے کے طور پر اپنی آواز بنانے کے لئے گھٹاتے بڑھاتے اور سامعین کو اپنی خوش الحانی جتانے کا قصد کرتے ہیں فساد نماز کاحکم دیا اسے دوامر پرمبنی فرمایا ایك یہ کہ ان تکبیرات سے ان کا قصد اقامت عبادت نہیں ہوتا بلکہ اپنی صناعت موسیقی کااظہار مقصود ہوتاہے تو اب یہ تکبیریں خود ہی وہ الفاظ ہیں جن سے معنی خارج کا افادہ مراد ہوا ، دوسرے یہ کہ اس جزرومد سے حروف زائد پیدا ہوجاتے ہیں جواصل کلمات تکبیر میں نہیں تو اگرچہ نفس تکبیر سے اُن کا قصد وہ نہ ہو مگریہ حروف توضرور اسی قصد سے بڑھائے گئے اور اب یہ وہ الفاظ بقصدافادہ معنی خارج ہوئے بہرصورت فساد نماز چاہئے۔ فتح القدیرمیں درایہ سے مکبرین کے لئے رفع صورت کا جواز نقل کرکے اشارہ فرمایا :
مقصودہ اصل الرفع لابلاغ الانتقالات اما خصوص ھذا الذی تعارفوہ فی ھذا البلاد فلا یبعد انہ مفسد فلانھم یبالغون فی الصیاح زیادۃ علی حاجۃ الابلاغ والاشتغال بتحریرات النغم اظھارا للصناعۃ النغمیۃ لااقامۃ للعبادۃ والصیاح ملحق بالکلام وھنا معلوم ان قصدہ اعجاب الناس بہ ولوقال اعجبوا من حسن صوتی و تحریری
تکبیرات میں آوازبلند کرنے کا اصل مقصد انتقالات کی اطلاع ہے ، رہا وہ مخصوص انداز جو ان شہروں میں معروف ہے اس کا مفسد نماز ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ مکبرین حاجت ابلاغ سے بڑھ کر چیخنے میں مبالغہ کرتے ہے اور نغمہ کو سجانے کے لئے مشغول ہونا نغمہ سرائی ہے عبادت کاقیام نہیں اور چیخنا بھی کلام کے ساتھ ملحق ہے اور یہاں تو واضح ہے کہ مکبر کا مقصد لوگوں کوتعجب میں ڈالنا ہے ، اگر وہ یہ کہتاکہ لوگو! میری اچھی آواز اور سرپرخوش ہوجاؤ ، تو اس نے نمازفاسد
فیہ افسد و حصول الحروف لازم من التلحین [2] ١ھ مختصرا وقد اقرہ فی النھر و استحسنہ فی الحلیۃ فقال وقد اجاد فیما اوضح وافاد۔
کردی ہوتی اور اظہارلحن سے حروف کا حاصل ہونا لازمی ہے۱ھ اختصارًا۔ اسے نہرنے ثا بت رکھا اور حلیہ میں اسے ان الفاظ سے سراہاگیا کہ وضاحت میں یہ نہایت ہی عمدہ اور مفید ہے۔ (ت)
علامہ شامی تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام میں فرماتے ہیں :
ان المحقق لم یجعل مبنی الفساد مجرد الرفع بل زیادۃ الرفع ملحق بالکلام بالصیاح المشتمل علی النغم مع قصد اظھارہ لذلك والاعراج عن اقامۃ العبادۃ فقول المحقق والصیاح ملحق بالکلام ای الصیاح المشتمل علی ماذکر بدلیل سوابق الکلام ولو احقہ الخ
محقق نے محض بلندی آواز کو فساد کی علت قرارنہیں دیا بلکہ بلندی میں ایسی زیادتی کو جو نغمہ پرمشتمل چیخ سے مل جائے اور اس کے اظہار کا اور اقامتِ عبادت سے اعراض کاقصد بھی ہو لہٰذا محقق کا قول کہ “ الصیاح ملحق بالکلام “ سے وہی چیخنا مراد ہے جو مذکورہ امور پر مشتمل ہو اس پر سابق ولاحق کلام شاہد عادل ہے الخ(ت)
اُسی میں ہے :
فحاصل کلام المحقق ان الاشتغال بتحریر النغم والتلحین والصیاح الزائد علی قدر الحاجۃ لالقصد القربۃ بل لیعجب الناس من حسن صوتہ ونغمہ مفسد من وجہین الاول مایلزم من التلحین من حصول الحرف بالمفسد غالبا و الثانی عدم قصد اقامۃ العبادۃ [3] الخ اقول : وللعبد الضعیف فی بعض کلام العلامۃ الشامی ھنا کلام بینتہ علی ھامشہ ولکن المرمی۔
کلام محقق کاحاصل یہ ہے کہ نغمہ ، الحان اور ایسا چیخنا جوقدرحاجت سے زائدہو ، میں مشغول ہونا جس کا مقصد قربت وعبادت نہ ہو بلکہ لوگوں کو حسن آواز کی وجہ سے مسحور کرنا ہو تو یہ عمل دو وجہ سے مفسد نماز ہ اول یہ کہ الحان سے ایسے حروف کاحصول ہوجاتاہے جوغالبًا نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں ، ثانی یہ کہ یہاں مقصود عبارت نہیں الخ(ت) اقول : (میں کہتاہوں ) اس عبدضعیف کو علامہ شامی کے اس مقام پربعض کلام میں اعتراض ہے جسے میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں ذکرکیاہے(ت)
بالجملۃ جبکہ لفظ بقصد مفسد نہ ہو تو مجرور رفع صورت سے کسی معنی زائد کاارادہ مفسد نہیں ولہٰذا علامہ حموی نے رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ میں فرمایا :
فی کون الصیاح بما ھوذکر ملحقا بالکلام نظرلان المفسد للصلاۃ الملفوظ لاعزیمۃ القلب [4] ھ ملخصا۔
مذکورہ چیخنے کو کلام کہنامحل نظرہے کیونکہ مفسدنماز وہ ہوگا جو ملفوظ ہو ارادہ قلب مفسدِ نماز نہیں ۱ھ ملخصًا (ت)
ردالمحتارسنن الصّلاۃ میں حاشیہ ابوالسعود ازہری سے ہے :
مانقل عن الطحطاوی اذا بلغ القوم صوت الامام فبلغ المؤذن فسدت صلاتہ لعدم الاحتیاج الیہ فلاوجہ لہ اذغایتہ انہ رفع صوتہ بما ھو ذکر بصیغتہ وقال الحموی وأظن ان ھذا النقل مکذوب علی الطحاوی فانہ مخالف للقواعد[5] ١ھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
[1] فتح القدیر باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۹
[2] فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲۲
[3] رسائل ابن عابدین رسالہ تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۱۴۶
[4] رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ
[5] ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع