دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

خصوصًا اس قول کے مطابق جوکہتے ہیں کہ جب قیام کے زیادہ قریب ہو تو رجوع فوت ہوجاتاہے جیسا کہ صاحب بدائع ، ہدایہ ، وقایہ ، کنزاور دیگر جلیل القدرفقہاء نے اختیارکیاہے ، اگرچہ اصح یہ ہے کہ اعتبار کامل قیام کاہے جیسا کہ اس پرمواہب الرحمن ، نورالایضاح ، تنویر ، فتح ،

والتنویر والفتح والدر المختار وغیرھا وجعلہ فی الدر ظاھر المذھب۔ واذا کان الامر علی ماوصفنا لك فعسی ان یتوھم کونہ عبثا مطلقا فیحکم بفساد الصلٰوۃ بہ علی الاطلاق فمست الحاجۃ الی التصریح بذلك فان المسموع ھوکونہ مفید احین وقوعہ وھوکذٰلك فی فورالقیام ولربما یرجی العود بہ بل ربما یقع وھذا حسبہ ولایضرہ ان تعجل الامام ولم یلتفت کما اذا فتح ولم یاخذ فانقلت یحتمل ان الامام لماظن ان صلاتہ تمت لعلہ یتعمد الکلام اوالذھاب اوالضحك قبل ان یسلم۔

قلت ھذا فی غایۃ البعد ولا یتوقع من المسلم بل ھو اسائۃ ظن بہ والفقہ لایبنی علی نادر فضلا عما عساہ لم یقع قط بل ھواحتمال علی احتمال لان ظن الامام تمام الصلٰوۃ ایضا غیرمعلوم کما قدمنا فکان شبھۃ الشبھۃ ولاعبرۃ بھا اصلا ،  ھذا ماوقع فی الحلیۃ         

درمختاروغیرہ میں اعتماد کیاگیاہے اور درمیں اسے ظاہرمذہب قراردیاہے ، اور جب معاملہ اس طرح ہے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کیاہے توقریب ہے اس کے مطلقًا عبث ہونے کے وہم پرمطلقًا فسادنماز کاحکم کردیاجائے لہٰذا اس کی تصریح کی حاجت وضرورت پیش آئی کیونکہ اس کے وقوع کے وقت لقمہ کامفید ہونا قابل اعتبار ہے اور علی الفور قیام کے وقت لقمہ میں یہ صورت ہے اور بسااوقات لوٹنے کی امید کی جاتی بلکہ بعض دفعہ لوٹنے کا وقوع ہوتاہے اور مفید ہونے کے لئے یہی کافی ہے اور امام کا جلدی کرنا اور متوجہ نہ ہونا نقصان دہ نہیں جیسا کہ اس صورت میں جب لقمہ دیا مگرامام نے نہ لیا۔ اگر آپ سوال کریں (قعدہ لمباہونے پرسلام سے پہلے لقمہ دینے میں فائدہ ہے) کیونکہ ممکن ہے امام نے گمان کیا ہو کہ نماز مکمل ہوگئی ہے پھر وہ دانستہ طور پر قبل از سلام کلام کرنے یاچلے جانے یاہنسنے کا ارادہ کرلے۔

قلت (میں کہتاہوں ) یہ نہایت ہی بعید ہے اور اس بات کی کسی مسلمان سے توقع نہیں بلکہ کسی مسلمان کے بارے میں ایساگمان کرنا بھی گناہ ہے اور کسی نادرمعاملہ پرفتوٰی نہیں ہواکرتا چہ جائیکہ جس کا امکان کبھی واقع نہ ہو بلکہ یہ احتمال دراحتمال ہے کیونکہ امام کااتمام نماز کاگمان کرنابھی معلوم نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا ، گویا یہ اتمام کے گمان کے بعد کلام وغیرہ کاگمان شبہ کا شبہ ہے لہٰذا اس کاکوئی اعتبارنہیں ، یہ وہ ہے جو حلیہ میں

نقلا عن المحیط الرضوی اذا فتح علی امامہ یجوز مطلقا لان الفتح وان کان تعلیما ولکن التعلیم لیس بعمل کثیر وانہ تلاوۃ حقیقۃ فلایکون مفسدا وان لم یکن محتاجا الیہ[1] ھ  فاقول :  یجب ان یحمل فیہ لام “   التعلیم “   علی العھد ای ھذا التعلیم من المقتدی للامام کمثل لام “   الفتح “   فلیس المراد الاھذا الفتح' لامطلقا ولومن غیر مقتدعلی امامہ وذٰلك لان کون مطلق التعلیم من العمل القلیل باطل بداھۃ وتشھد بہ فروع فی المذھب متواترات بل قدنص فی الفتح فی نفس مسئلۃ الفتح ان التکرار لم یشترط فی الجامع ای ان الجامع الصغیر لم یشترط للافساد تکرار الفتح بل حکم بہ مطلقا قال وھوالصحیح وکذا صححہ فی الخانیۃ وقد علم ھذا من مذھب الامام فانہ اذا جعل کلاما فقلیلہ و کثیرہ سواء فاعرف وتثبت وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔                                           

محیط رضوی کے حوالے سے مذکور ہے کہ امام کولقمہ دینا ہرحال میں جائز ہے کیونکہ لقمہ دینا اگرچہ تعلیم ہے لیکن تعلیم عمل کثیرنہیں ہے اور یہ توحقیقت میں تلاوت ہے لہٰذایہ مفسدنمازنہیں ، اگرچہ اس کی احتیاجی نہ ہو۔

اقول : یہان پرلفظ تعلیم کے الف لام کو عہدِ خارجی ماننا ضروری ہے کیونکہ اس سے مراد وہی تعلیم ہے جو مقتدی کی امام کے لئے ہو جیسا کہ الفتح کے الف لام کامعاملہ ہے کیونکہ یہاں لقمہ سے بھی خصوصی لقمہ مراد ہوگا ہرلقمہ نہیں کہ اگرچہ وہ غیرمقتدی کاامام کے لئے ہو ، وہ اس لئے کہ ہرتعلیم کاعمل قلیل ہونا بداہۃً باطل ہے اور اس پرمذہب کی فروعات بڑی تواترکے ساتھ گواہ ہیں بلکہ فتح میں اس مسئلہ لقمہ میں تصریح ہے کہ جامع میں تکرار کوشرط نہیں کیا یعنی جامع صغیرنے نمازفاسد ہونے کے لئے تکرارلقمہ کو شرط قرارنہیں دیابلکہ مطلقًا حکم جاری کیااور کہایہی صحیح ہے ، اسی طرح اسے خانیہ نے بھی صحیح قراردیا اور مذہب امام کے حوالے سے یہ معلوم ہے کہ جب انہوں نے اسے کلام قراردیا ہے تو اب کلام کے قلیل اور کثیر کاایك ہی حکم ہوگا ، اسے اچھی طرح جان لو اور ثابت رہو ، اور توفیق اﷲ ہی سے ہے یہ ہے جو کچھ میرے پاس تھا اور اﷲ سبحانہ ، وتعالٰی ہی زیادہ جاننے والا ہے(ت)

مسئلہ ۹۶۴ :            ازکلکتہ نل موتی گلی نمبر۱۸ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب        ۲۱ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں اکثرلوگ بے پڑھے نمازظہروعصرومغرب وعشاکے فرض تنہا پڑھنے کی حالت میں تکبیرات انتقالیہ بجہر اس غرض سے کہتے ہیں کہ دوسرے نمازی معلوم کرلیں کہ یہ شخص فرض پڑھتاہے اور شریك ہوجائیں اس صورت میں جہر کے ساتھ تکبیرکہنے سے نمازمیں فساد ہوتاہے یانہیں ؟ دوسری صورت یہ ہے کہ ایك شخص نمازپڑھ رہاہے دوسراشخص آیا اورمنتظراس امرکاہے کہ یہ نمازی بجہرتکبیر کہے تو میں شریك ہوجاؤں ، چنانچہ اس نے اس کی اطلاع کی غرض سے تکبیرجہر کے ساتھ کہ اس صورت نماز فاسد ہوگی یاصحیح؟ بینواتوجروا۔

الجواب :

دونوں صورتوں میں اگرنمازیوں نے اصل تکبیرات انتقال بہ نیت ادائے سنت وذکرالٰہی عزوجل ہی کہیں اور صرف جہربہ نیت اطلاع کیا تونماز میں کچھ فسادنہ آیا ، ردالمحتارمیں ہے :

وقال فی البحر ومما الحق بالجواب مافی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زنجرا عن فعل اوامرابہ فسدت عندھما ١ھ قلت والظاھر انہ لولم یسبح ولکن جھر بالقراء ۃ لاتفسد لانہ قاصد للقرائۃ وانما قصد الزجر اوالامربمجرد رفع الصوت تأمل [2] ١ھ۔              

بحرمیں ہے کہ ان چیزوں میں سے جن کا جواب سے تعلق ہے وہ ہیں جو مجتبٰی میں ہیں اگرمقتدی نے سبحان اﷲ کہا یا  لاالٰہ الااﷲ کہا اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم تھا توان دونوں (طرفین) کے نزدیك نمازفاسد ہوجائے گی۱ھ میں کہتاہوں ظاہریہی ہے کہ اگر اس نے سبحان اﷲ نہیں کہا لیکن قرأت بلندآواز سے کی تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے مقصد قرأت ہے اور آواز کی بلندی کے ذریعے توصرف زجریا حکم مقصود ہے تأمل ۱ھ(ت)

اور شك نہیں کہ واقعایسا ہی ہوتاہے نہ یہ کہ نفس تکبیرہی سے ذکروغیرہ کچھ مقصودنہ ہو صرف بغرض اطلاع بہ نیت مذکورہ کہی جاتی ہو ، ہاں اگرکوئی جاہل اجہل ایساقصد کرے تو اس کی نمازضرور فاسد ہوجائے گی علی قول الامام والامام محمد خلافا للامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ (یہ امام اعظم اور امام محمدکے قول کے مطابق ہے بخلاف امام ابویوسف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کے۔ ت)اقول : وباﷲ التوفیق (میں اﷲتعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ ان مسائل میں حضرات طرفین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما  کے نزدیك اصل یہ ہے کہ نمازی جس لفظ سے کسی ایسے معنی کا افادہ کرے جو اعمال نماز سے نہیں وہ کلام ہوجاتا اور مفسد نماز قرارپاتا ہے اگرچہ لفظہ فی نفسہٖ ذکر الٰہی یا قرآن ہی ہو اگرچہ اپنے محل ہی میں ہو ، مثلًا کسی موسٰی نامی شخص سے نمازی نے کہا : ماتلك بیمینك یاموسٰی (اے موسٰی!تیرے تھ میں کیاہے؟ نماز جاتی رہی ، اگرچہ یہ الفاظِ آیہ کریمہ ہیں ۔ یا التحیات پڑھ رہاتھا جب کلمہ تشہد کے قریب پہنچا مؤذن نے اذان میں شہادتیں کہیں اس نے نہ بہ نیت قرأت تشہد بلکہ بہ نیت اجابت مؤذن اشھد ان لاالٰہ الا اﷲ واشھد ان محمدًا عبدہ ،  ورسولہ ، کہا نمازجاتی رہی ، اگرچہ یہ ذکر اپنے محل ہی میں تھا۔ بحرالرائق میں ہے :

اذا ذکر فی التشھد الشھادتین عند ذکر المؤذن الشھادتین تفسد ان قصد الاجابۃ [3] ١ھ

جب دورانِ تشہد شہادتین کاذکر مؤذن کے ذکرِ شہادتین کے موقع پرکرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اگراذان کاجواب مقصود ہو۱ھ(ت)

 



[1]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[2]   ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۹

[3]   بحرالرائق باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ اہم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن