30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اما م کے ساتھ ایك مقتدی برابرکھڑا ہے دوسرا اور آیا نہ وہ مقتدی اول پیچھے ہٹا نہ امام آگے بڑھا تو یہ اس مقتدی کونیت باندھ کرکھینچے یابے نیت باندھے؟ بینوا تؤجروا
الجواب : دونوں صورتیں جائز ہیں ، فتح القدیر سے مستفاد کہ نیت باندھ کر کھینچنا اولٰی ہے ، اور خلاصہ میں تصریح فرمائی کہ پہلے کھینچ کرنیت باندھنی مناسب ہے ، بہرحال دونوں طریقے رواہیں ، فتح کی عبارت یہ ہے :
لواقتدی واحد باخرفجاء ثالث یجذب المقتدی بعد التکبیر ولوجذبہ قبل التکبیر لایضرہ[1]۔
اگر ایك آدمی نے دوسرے کی اقتدا کی کہ تیسرا آگیا تو وہ مقتدی کو تکبیر کے بعد کھینچے ، اگر اس نے تکبیر سے پہلے ہی کھینچ لیا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
خلاصہ کانص یہ ہے :
ینبغی ان یجذب احدا من الصف فی المسجد او فی الصحراء اولاثم یکبر[2]۔
مناسب یہی ہے کہ وہ کسی ایك نمازی کوصف سے پہلے کھینچ لے خواہ مسجد ہو یا صحرا پھر تکبیر کہے۔ (ت)
مگریہاں واجب التنبیہ یہ بات کہ کھینچنا اسی کوچاہئے جو ذی علم ہو یعنی اس مسئلہ کی نیت سے آگاہ ہو ورنہ نہ کھینچے کہ مبادا وہ بسبب ناواقفی اپنی نمازفاسد کرلے ، تحقیق منقح اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نماز میں جس طرح الله اور الله کے رسول کے سوا دوسرے سے کلام کرنا مفسد ہے یونہی الله ورسول کے سواکسی کاکہنا ماننا (جل جلالہ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) پس اگر ایك شخص نے کسی نمازی کو پیچھے کھینچا یاآگے بڑھنے کوکہااور وہ اس کاحکم مان کرپیچھے ہٹا نمازجاتی رہی اگرچہ یہ حکم دینے والا نیت باندھ چکاہو اور اگر اس کے حکم سے کام نہ رکھابلکہ مسئلہ شرع کے لحاظ سے حرکت کی تونماز میں کچھ خلل نہیں اگرچہ اس کہنے والے نے نیت نہ باندھی ہو اس لئے بہتریہ ہے کہ اس کے کہتے ہی فورًاحرکت نہ کرے بلکہ ایك ذرہ تامل کرلے تاکہ بظاہر غیر کے حکم ماننے کی صورت بھی نہ رہے جب فرق صرف نیت کاہے اور زمانہ پرجہل غالب ، توعجب نہیں کہ عوام اس فرق سے غافل ہوکربلاوجہ اپنی نماز خراب کرلیں ، ولہٰذا علماء نے فرمایا : غیرذی علم کواصلًا نہ کھینچے اور یہاں ذی علم وہ جو اس مسئلہ اور نیت کے فرق سے آگاہ ہو ، درمختار میں ہے :
لوامتثل امرغیرہ فقیل لہ تقدم فتقدم فسدت بل یمکث ساعۃ ثم یتقدم برایہ قھستانی معزیا للزاھدی[3] ملخصا۔
اگرنمازی کسی غیرکاحکم بجالایا مثلًا اسے کہاگیا آگے ہو جا وہ آگے ہوگیا تو نماز فاسد ہوجائے گی بلکہ وہ ایك گھڑی ٹھہرے اور پھر اپنی رائے سے آگے بڑھے قہستانی بحوالہ زاہدی ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
فی المنح بعد ان ذکر لوجذبہ اٰخرفتاخر الاصح لاتفسد صلاتہ وفی القنیۃ قیل لمصل منفرد تقدم فتقدم بامرہ فسدت وعلله فی شرح القدوری بانہ امتثال لغیر امرالله تعالٰی١ھ کلام المصنف وذکر الشرنبلالی ان امتثالہ انما ھو لامر رسول الله صی الله تعالٰی علیہ وسلم فلایضراھ قال ط لو قیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امر الشارع فلاتفسد وبین کونہ امتثل امر الداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیرنظر لامرالشارع فتفسد لکان حسنا [4] ١ھ مافی رد المحتار ملتقطا اقول : وھذا التفصیل کما تری من الحسن بمکان بل ھوالمحل لکلمات العلماء وبہ یحصل التوفیق وبالله التوفیق۔
منح میں اس کے بعد ہے کہ اگر اس کوکسی دوسرے نے کھینچا اور وہ پیچھے ہوگیا تواصح مذہب یہ ہے کہ اس کی نمازفاسد نہ ہوگی ، اور قنیہ میں ہے منفرد (تنہا) نمازی کوکہاگیا آگے ہو اور وہ اس کے حکم کی بنا پر آگے ہوا تونماز فاسد ہوگی۔ شرح قدوری میں اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ غیرالله کاحکم بجالاناہے ۱ھ کلام مصنف ختم ہوا ، شرنبلالی نے فرمایا یہ بجاآوری رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے حکم کی بناپرتھی لہٰذا نقصان دہ نہیں ۱ھ طحطاوی نے فرمایا کہ اگر تفصیل بیان کی جائے درمیان اس کے کہ اگرشارع کاامرسمجھتے ہوئے بجالایا تونمازفاسد نہ ہوگی اور درمیان اس کے اگر داخل ہونے والے کے امر کی وجہ سے اس کے ارادے کی رعایت کرتے ہوئے بجالایا امرشارع کی طرف نظرکئے بغیر ، تو نمازفاسد ہوگی ، تو یہ (تفصیل بیان کرنا) بہترہوتا۱ھ یہ ردالمحتار کی گفتگو کاخلاصہ تھا ، اقول : (میں کہتاہوں ) یہ تفصیل اس جگہ احسن ہی نہیں بلکہ کلمات علماء کامحل بھی ہے اور اس کے ساتھ ان کے کلام میں تطبیق بھی پیداہوجاتی ہے وبالله التوفیق (ت)
درمختارمیں ہے :
یجذب احد الکن قالوا فی زماننا ترکہ اولٰی[5] ملخصا۔
کسی کوکھینچ لے ، مگر ہمارے زمانے کے علماء نے فرمایانہ کھینچنا ہی بہترہے ملخصًا (ت)
خزائن الاسرار میں ہے :
ینبغی التفویض الی رأی المبتلی فان رأی عالما جذبہ[6]۔
اس معاملہ کو مبتلا ہونے والے شخص پرچھوڑدیاجائے اگروہ محسوس کرتاہے کہ یہ آدمی مسئلہ جانتاہے تو اسے کھینچ لے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھوتوفیق حسن اختارہ ابن وھبان فی شرح منظومتہ[7]۔
یہ بہت اچھی تطبیق ہے اسے ابن وہبان نے اپنی شرح منظومہ میں اختیار کیاہے۔ (ت)
رہا یہ کہ جب نہ مقتدی ہٹے نہ امام بڑھے نہ وہ ذی علم ہو کہ یہ کھینچ سکے یا مثلًا امام قعدہ اخیرہ میں ہو جہاں ان باتوں کامحل ہی نہیں تو ایسی صورت میں اس آنے والے کو کیاکرناچاہئے ، اگرامام کے ساتھ ایك ہی مقتدی ہو اس کے بائیں ہاتھ پر یہ مل جائے کہ امام کے برابر دومقتدیوں کاہونا صرف خلاف اولٰی ہے۔
قال الشامی الظاھران ھذا اذا لم یکن فی القعدۃ الاخیرۃ والا اقتدی الثالث عن یسارالامام ولا تقدم ولاتاخر[8]۔
امام شافعی نے فرمایا ظاہر یہ ہے کہ یہ اس وقت ہے جب وہ قعدہ اخیرہ میں نہ ہو ورنہ (یعنی اگر قعدہ اخیرہ میں ہو) توتیسرا شخص امام کے بائیں جانب اقتداء کرے ، نہ آگے ہو اور نہ پیچھے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع