30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگریہ خلیفہ فی الحقیقۃ امی ہے کہ ایک آیت بھی قرآن کی اسے یاد نہیں اور اس نے قبل اس کے کہ امام مسجد سے باہر جائے اور آپ امام کی جگہ پہنچے دوسرے شخص صالح امامت کوخلیفہ کردیا اور وہ امام کے نکلنے سے پہلے اس کی جگہ پرپہنچ گیا تونماز صحیح ہوگئی کہ ہرچند اُمّی صلاحیت خلافت نہیں رکھتا لیکن اس حالت میں خلیفہ دوسراشخص ہے نہ وہ ،
فی الھندیۃ وشرط جواز صلاۃ الخلیفۃ والقوم ان یصل الخلیفۃ الی المحراب قبل ان یخرج الامام عن المسجد کذا فی البحر الرائق ولواستخلف فاستخلف الخلیفۃ غیرہ قال الفضلی ان لم یخرج الاول ولم یأخذ الخلیفۃ مکانہ حتی استخلف جاز یصیرکان الثانی تقدم بنفسہ اوقدمہ الاول والا لم یجز ھکذا فی الخلاصۃ[1] ۔
ہندیہ میں ہے خلیفہ اور قوم کی نماز کے جواز کے لئے شرط ہے کہ امام کے مسجد سے خارج ہونے سے پہلے پہلے خلیفہ محراب میں پہنچ جائے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے اور اگرخلیفہ نے اپنی جگہ اور خلیفہ بنالیا تو فضلی کہتے ہیں کہ اگراول نہیں نکلا اور خلیفہ نے امام کی جگہ لینے سے پہلے کوئی اورخلیفہ بنالیا توجائز ہے گویادوسراخود بنایا پہلے نے اسے بنایا ورنہ جائز نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (ت)
اور جوامام نے اسے تشہد میں یا اس سے پہلے خلیفہ کیا اور اس نے امام کی جگہ پرپہنچنے کے بعد دوسرے شخص کوخلیفہ کیا تونمازفاسد ہوئی اب اصلاح اس کے دوسرے کوخلیفہ کرنے سے متصورنہیں ،
فی الدرالمختار واستخلف الامام امیا فی الاخریین ولوفی التشھد اما بعدہ فتصح لخروجہ بصنعہ تفسد صلاتھم[2]۔
درمختارمیں ہے اگر امی کو آخری دورکعات حتی کہ تشہد میں خلیفہ بنایا(توامام کی نماز فاسد ہوگی) لیکن اس کے بعد صحیح ہے کیونکہ اس کا خروج بالارادہ ہے ، لوگوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
اسی طرح دوسراشخص امام کی جگہ پربعد اس کے کہ امام مسجد سے خارج ہوپہنچا تونماز فاسد ہوگئی اور جوخلیفہ اول کو ایک آیت قرآن کی یاد ہے تو وہ صالح خلافت تھا ایسی صورت میں دوسرے کوخلیفہ کرنے سے نماز اس کی فاسد ہوگئی کہ استخلاف بدون ضرورت کے نماز کوفاسد کرتاہے کما فی الھدیۃ فی مسئلۃ من الحدث (جیسا کہ ہدایہ میں مسئلہ حدث میں ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۰ : ازشہر بازار شہامت گنج نثاراحمدصاحب ۹ / صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کانماز میں وضو ٹوٹ گیا اور امام رکوع ان ابراھیم کان پڑھ رہاتھا اور جوخلیفہ امام نے بنایا اس کو رکوع مذکور یادنہیں تھا اب وہ خلیفہ کوئی سورت یعنی اخلاص یااور کوئی سورت پڑھے تونماز ہوجائے گی یانہیں ؟ اور وضو کے بعد امام اپنی جگہ پرآسکتاہے یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب :
نماز ہوجائے گی اور امام کے خلیفہ نے جتنی پڑھی اُتنی پڑھ کر اگرخلیفہ نماز میں ملے اس کا شریک ہوجائے ، سیہ نہیں ہوسکتا کہ باقی نماز میں اسے ہٹاکر خو د امام ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
____________________
مسئلہ ۹۶۱ : ازبمبئی مسجد قصاباں کرافٹ مارکیٹ مرسلہ مولوی عمرالدین صاحب ۲۹ / شعبان ۱۳۳۱ھ
مولٰنا المعظم ذی الفضل الاعظم دامت برکاتکم العالیہ بعد تسلیمات بصد تعظیمات کے واضح رائے عالی ہو کہ زمانہ طالب علمی میں کسی کتاب میں دیکھاتھا کہ مصلی کو غیرمصلی پنکھاکرے تومصلّی کواگر اس پر رضامندی ہے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی ، اب اس مسئلہ کو بہت تلاش کیاہوں نہیں ملتا البتہ مولوی عبدالحَی کے رسالہ نفع المفتی والسائل میں ہے :
قلت فما فی مجمع البرکات من فساد صلوٰۃ من روحہ غیرالمصلی بمروحۃ معللابانہ رضی بفعل الغیر غیر معتمد علیہ فانہ مخالف للدرایۃ و الروایۃ وقد کان الوالد العلام افتی بہ مرۃ ثم رجع عنہ وحکم بکونہ غلطا وقد اغتربہ بعض معاصریہ فاصرعلی الافتاء بہ
میں نے کہا پس جو مجمع البرکات میں ہے کہ غیرنمازی اگر نمازی کو پنکھے سے ہوادے تونمازی کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ وہ نمازی غیر کے فعل پر راضی ہے یہ فسادِ نماز کاحکم فہم اور روایت کے مخالف ہے ، میرے والدگرامی نے ایك دفعہ یہ فتوٰی دیاتھا ، پھر اس سے انہوں نے رجوع فرمالیا اور فرمایا کہ یہ فتوٰی غلط ہے اور والد صاحب کو معاصرین میں سے ایك صاحب نے دھوکادے کر اصرارکرتے ہوئے یہ
واعتمد علیہ عملا وافتا ءً ولم یدرکونہ لغوا[3]۔
فتوٰی ان سے حاصل کیا ، والد صاحب نے ان پراعتماد کرتے ہوئے عملًا فتوٰی دے دیا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ لغو بات ہے۔ (ت)
مجمع البرکات کس کی تصنیف ہے اور حضور کی رائے عالی ا س مسئلہ میں اس کے موافق ہے یامخالف ، برتقدیر موافقت برقی پنکھا جوآدمی کی صنعت ہے اس حکم میں داخل ہے یانہیں ؟ چارچھ سطر اس کے متعلق اگرجوابی کارڈ پر تحریرفرمائی جائے توعین بند نوازی ہوگی۔
الجواب :
مولٰناالمبجل المکرم المفخم المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کاسمہ عمرالدین آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، ، مجمع البرکات مولٰنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ ، کی تصنیف ہے اگر یہ عبارت اس کے کسی نسخہ صحیحہ میں ہو تو اس سے مراد نماز قلبی کافساد ہوگا ، نہ نماز فقہی کاکہ ادائے فرض ودفع کبیرہ ترك کے لئے باذنہٖ تعالٰی کافی ہے ظاہر ہے کہ فعل غیرپررضاعمل قلیل بھی نہیں کثیردرکنار ، توفساد نمازفقہی ناممکن ہے ہاں نمازقلبی تذلل وتضرع وتخشع ہے کما فی الحدیث (جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ت) اور یہ امر نوع تجبر پردال ہے لہٰذا اس میں مخل ہوسکتاہے اگر اس کی نیت خود استخدام اور نماز میں اپنا اعظام ہو تو یقینا مفسدِ نماز قلب ہے ورنہ مفسد کی صورت ہے لہٰذا احتراز درکارہے پنکھا کہ کل کے ذریعہ سے چلے اگر اس کے مسالے میں مٹی کاتیل وغیرہ بدبودارچیزیں ہو توایسی اشیاء کا مسجد میں لے جانا حرام ہے ورنہ کم ازکم ناپسند وخلاف مصالح ہے پنکھے کامسئلہ فتاوٰی فقیرمیں بہت مفصّل ہے فلیراجع (اس کی طرف رجوع کیاجائے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۲ : مسؤلہ شوکت علی ۲۳ربیع الاخری شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازی کے آگے سے نکلنے والا گنہگار ہوتاہے او ر اس کی نماز میں توکوئی خلل نہیں ہوتا ہے اور نمازی کے آگے سے کس قدر دور تك گزر ، نہ کرناچاہئے؟
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع