دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

پھر قرأت کے ساتھ سابقہ رکعات اداکرے مثلًا اس نے امام کے ساتھ دوران نماز اقتداء کی پھر مثلًا سوگیا اور یہ چوتھی قسم کابیان ہے جومسبوق لاحق ہے الخ۔ (ت)

پس اگردونوں رکوع نہ پائے تھے تو پہلے دورکعتیں بلاقرأت پڑھ کر بعدالتحیات دورکعتیں فاتحہ و سورت سے پڑھے ، اور اگرایك رکوع نہ ملاتھا توپہلے ایك رکعت بلاقرأت پڑھ کر بیٹھے اور التحیات پڑھے کیونکہ یہ اس کی دوسری ہوئی ، پھر کھڑا ہوکر ایك رکعت اور ویسی ہی بلاقرأت پڑھ کر اس پربھی بیٹھے اور التحیات پڑھے کہ یہ رکعت اگرچہ اس کی تیسری ہے مگرامام کے حساب سے چوتھی ہے اور رکعات فائتہ کونماز امام کی ترتیب پراداکرنا ذمہ لاحق لازم ہوتاہے پھر کھڑا ہوکر ایك رکعت بفاتحہ وسورت پڑھ کر بیٹھے اور بعد تشہد نماز تمام کرے۔

فی ردالمحتار عن شرحی المنیۃ والمجمع انہ لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی الاخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ ثم یصلی التی انتبہ فیھا و یقعد متابعۃ لامامہ لانھا رابعۃ و کل ذلك بغیرقرأۃ لانہ مقتد ثم یصلی الرکعۃ التی سبق بھا بقرأۃ الفاتحۃ وسورۃ والاصل ان اللاحق یصلی علی ترتیب صلاۃالامام                                            

ردالمحتار میں شرح منیہ و مجمع سے ہے کہ اگر چاررکعات میں سے ایك رکعت گزرگئی اور پھر شریك ہوا پھر دومیں سوگیا تو اب جن میں سویا انہیں پہلے ادا کرے ، پھر جس میں امام کے ساتھ اقتداء کی پھر چھوٹی ہوئی ، پس وہ جس میں امام کے ساتھ سویا اس کی ایك رکعت پڑھے اور امام کی اتباع میں قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری رکعات تھی ، پھرسونے والی دوسری رکعات اداکرے اور قعدہ کرے کیونکہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر وہ پڑھے جس میں بیدار ہوا اور اتباع امام کی وجہ سے بیٹھے کیونکہ یہ اس کی چوتھی ہے اور یہ تمام بغیرقرأت کے ہوں گے پھر وہ قرأت وفاتحہ کے ساتھ وہ رکعات پڑھے جوگزرچکی تھیں ، ضابطہ

والمسبوق یقضی ماسبق بہ بعد فراغ الامام [1] ھ اقول :  فھذہ ھی الصورۃ المسؤل عنہا بید ان مانحن فیہ اعنی اقتداء المقیم بالمسافر لایتحقق فیہ الادراك بعد ماصار لاحقالانہ انما یصیر لاحقا فی الاخیرین وذلك انما یکون بعد سلام الامام فلا تتأتی ھنا صورۃ المتابعۃ بعد اداء ماھو لاحق فیہ کمالایخفی ولذٰلك تغیر بعض الترتیب واﷲ تعالٰی اعلم۔                          

یہ ہے کہ لاحق امام کی ترتیب پرنماز اداکرے لیکن امام کی فراغت کے بعد ماسبق کی ادائیگی کرے ۱ھ۔

اقول : (میں کہتاہوں ) صورت مسؤلہ یہی ہے علاوہ ازیں جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی مقیم کا مسافر کی اقتدا کرنا اس میں لاحق سے ادراك امام پایانہیں جاتا کیونکہ آخری رکعتوں میں وہ لاحق ہی ہے اور یہ بات سلام امام کے بعد ہی ہوگی لہٰذا یہاں ایسی صورت نہ ہوگی کہ وہ کچھ ادائیگی کے بعد لاحق ہو جیسا کہ واضح ہے اسی لئے کچھ ترتیب میں تبدیلی آجاتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۹۵۵ :            ازبگرام ضلع ہردوئی محلہ میدانی پورہ مرسلہ حضرت سیّدابراہیم صاحب مارہروی                 ۲۰ / صفر۱۳۱۱ھ

امام نمازظہریاعصر یاعشاء پڑھتاہے اور ایك یا دورکعت پڑھ چکاہے کہ دوسراشخص آکرشامل ہوا توبعد ختم ہونے نماز کے یہ مقتدی اپنے رکعات باقیہ جوپڑھے تو اس میں فاتحہ وسورت و قراء ت کرے یابقدر پڑھنے فاتحہ وسورت کے ساکت رہ کر رکوع وسجود بجالائے تشریحًا لکھا جاوے اور اسی طرح اگرمسافر نمازیں مذکور نصف پڑھ کرختم کرے تومقتدی فاتحہ پڑھے یابقدر قرأت ساکت رہے۔ بینواتوجروا

الجواب :

صورت اولٰی میں مقتدی کہ بعد سلام امام رکعت اولٰی یا اولین قضاکرے فاتحہ وسورت وجوبًا پڑھے کیونکہ وہ مسبوق ہے اور مسبوق اپنے رکعات میں مثل منفرد ، اور منفرد پرقراء ت لازم ، اور صورت ثانیہ میں مقیم کہ بعد سلام مسافر رکعتین اخیرتین اداکرے بجائے قراء ت ساکت رہے کہ وہ ان رکعات میں لاحق ہے اور لاحق حکمًا مقتدی اور مقتدی کو قرأت ممنوع۔

فی الدرالمختار اللاحق من فاتتہ الرکعات کلھا اوبعضھا

درمختار میں ہے لاحق وہ مقتدی ہوتاہے جس کی اقتدا کے بعد تمام یابعض رکعتیں (امام سے)

بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر و حکمہ کمؤتم فلا یأتی بقرأۃ ولاسہو والمسبوق من سبقہ الامام بھا اوبعضہا وھو منفرد حتی یثنی ویتعوذ ویقرؤ فیما یقضیہ فمدرك رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط [2] ١ھ ملتقطا۔  واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔  

رہ جائیں جیسے کہ کسی مقیم نے مسافر کی اقتداء کی اس کاحکم مقتدی کی طرح ہی ہے وہ قرأت نہیں کرے گا اور نہ ہی سجدہ سہو کرے گا ، اور مسبوق وہ ہوتاہے جس سے پیشتر امام سب رکعتیں یابعض رکعتیں اداکرچکاہو اس کے بعد شریك ہو وہ مسبوق منفرد کی طرح ہوتاہے حتی کہ وہ ثناء سبحٰنك اللھم الخ اور تعوذ پڑھے گا بقیہ رکعتوں میں قرأت بھی کرے گا ، فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ ادا کرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے ، اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ ہی پڑھے ۱ھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ ،  وتعالٰی اعلم وعلمہ مجل مجدہ اتم واحکم(ت)

مسئلہ۹۵۶ :            ازپیلی بھیت وموضع بھنڈورہ علاقہ آنولہ                       یکم شوال ۱۳۰۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس امام کے ساتھ چاررکعت کی نماز میں ایك رکعت ملی ، وہ باقی نماز کیونکر اداکرے؟ بینواتوجروا

الجواب :

امام کے سلام کے بعد اٹھ کرایك رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پرالتحیات کے لئے بیٹھے پھر کھڑا ہو کر ایك رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پر نہ بیٹھے پھر ایك رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور قعدہ اخیرہ کرکے سلام پھیردے۔

ھذا ما اعتمدہ الائمۃ الجلۃ وعلیہ اقتصر فی الخلاصۃ وشرح الطحطاوی والاسبیجابی وفتح القدیر والبحر الرائق

یہ وہ ہے جس پراکابرائمہ نے اعتماد کیا خلاصہ ، شرح طحطاوی ، اسبیجابی ، فتح القدیر ، بحرالرائق ، درر ، درمختار ،

والدرر والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا من معتمدات المذھب۔

ہندیہ اور دیگر معتبرکتب مذہب میں اسی پراکتفا کیاہے۔ (ت)

درمختارمیں ہے :

یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین وفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا[3]۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔

 



[1]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰

[2]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰

[3]   درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن