30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الراجح عند اھل المذہب وجوب الجماعۃ وانہ یاثم بتفویتھا اتفاقا[1] ھ وقدحققنا فی فتاوٰنا بتوفیق اﷲ تعالٰی ان ھذا الحکم للجماعۃ الاولٰی عینا۔
راجح اہل مذہب کے ہاں جماعت کا واجب ہونا ہے اور اس کافوت کرنا بالاتفاق گناہ ہے۱ھ۔ اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے کہ یہ حکم صرف پہلی جماعت کے لئے ہے۔ (ت)
ہاں اگر جماعت اولٰی کاامام غلط خواں یامعاذاﷲ بدمذہب گمراہ یافاسق معلن تھا ، اور امام ثانی ان بلاؤں سے پاک ، تو زید نے بہت اچھاکیا ایساہی چاہئے تھا بلکہ اگرامام اول مثلًا شافعی المذہب تھا اور اس نے امام حنفی المذہب کی اقتداچاہی ا س نیت سے تاخیر کی جب بھی گناہ نہ ہوا ، کما بینا کل ذٰلك فی فتاوٰنا والمسائل فی ردالمحتار وغیرہ (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے اور ردالمحتاروغیرہ میں مسائل کی تفصیل ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵۲ : ازگونڈل مرسلہ سیدغلام محی الدین صاحب راندھیری ۱۱ / صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق بروقت اختتام نماز ، امام قعدہ اخیرہ میں تمامیت تشہد کے بعد گویا فقہی اقوال کے بموجب شہادتین کو مسبوق دہرایاکرے تاسلام امام ، بجائے شہادتین کے اگرالسلام علیك ایہاالنبی سے دہرایاکرے توکچھ حرج ہے؟
الجواب :
فقہانے تکرارتشہد ہی کو لکھاہے اور اگر السلام سے تکرار کرے جب بھی کوئی ممانعت نہیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۵۳ : ازبریلی مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مدرس ۲۲ / شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق امام کی متابعت سجدہ وسلام دونوں میں کرے گا یافقط سجدہ میں ؟ اور اگر بالفرض والتقدیر سلام میں متابعت کرے تونماز مسبوق کی باقی رہے گی یافاسد؟ بینواتوجروا جزاکم اﷲ تعالٰی۔
الجواب :
مسبوق صرف سجدہ میں متابعت کرے ، نہ سلام میں ، اگر سلام میں قصدًا متابعت کرے گا اگرچہ اپنے جہل سے یہ ہی سمجھ کر کہ مجھے شرعًا سلام میں بھی اتباع امام چاہئے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی ، ہاں اگرسہوًا سلام کیا تونمازمطلق نہ جائے گی اور سجدہ سہو بھی اپنی نمازکے آخر میں کرنانہ ہوگا اگریہ سلام سہوًا سلامِ امام سے پہلے یامعًا اس کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر کے تھا اور اگرسلام امام کے بعد بھول کر سلام پھیرا تو اس سجدہ سہو میں توامام کی متابعت کرے ہی ، پھر جب اپنی باقی نماز کو کھڑا ہو تو اس کے ختم پر اس کے سہو سلام کے لئے سجدہ سہو کرے ، ردالمحتارمیں ہے :
المسبوق لیسجد مع امامہ ، قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام بل یسجد معہ ویتشھد فاذا سلّم الامام قام الی القضاء فان سلم فان کان عامدًا فسدت والالاولاسجود علیہ ان سلم سہوًا قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفردًا حینئذ ، بحر واراد بالمعیۃ المقارنۃ وھو نادرالوقوع کما فی شرح المنیۃ وفیہ لوسلم علی ظن ان علیہ ان یسلم فھو سلام عمد یمنع البناء [2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ سجدہ کرے ، سجدہ کی قید اس لئے کہ سلام میں امام کی اتباع نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ سجدہ کرے اور تشہد پڑھے اور جب امام سلام پھیرے تو وہ بقیہ رکعتوں کی ادائیگی کے لئے کھڑاہوجائے ، اگر اس نے سلام پھیرا اور اس کاسلام پھیرنادانستہ تھا تو نمازفاسد ہوجائے گی ورنہ نہیں ، اگر اس نے بھول کر سلام پھیرا تواس صورت میں سجدہ سہو نہ ہوگا جب امام سے پہلے یامعًا اما کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر سلام پھیرا ہو ، اور اگر سلام امام کے بعد سلام پھیرا تواب سجدہ لازم ہے کیونکہ اب وہ تنہا ومنفرد ہے بحر ، اور یہاں معیت سے مراد مقارنت ہے اور اس کا وقوع بہت کم ہے ، اسی طرح شرح المنیۃمیں ہے کہ اگر اس نے یہ گمان کرتے ہوئے سلام پھیردیا کہ اس پرسلام لازم تھا تویہ عمدًا سلام ہوگا جو کہ بنائے نماز سے مانع ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۵۴ : مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رامپوری ۱۱ / ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقیم نے امام مسافر کی اقتدا کی اور ایك یادونوں رکوع نہ پائے مثلًا دوسری رکعت یاصرف التحیات میں شریك ہوا تو بعد سلام امام کے اپنی نماز کس طرح ادا کرے؟ بینوا توجروا
الجواب :
یہ صورت مسبوق لاحق کی ہے وہ پچھلی رکعتوں میں کہ مسافر سے ساقط ہیں مقیم مقتدی لاحق ہے لانہ لم یدرکھما مع الامام بعد مااقتدی بہ (اس لئے کہ اس نے اقتداء کے بعد امام کے ساتھ ان دورکعتوں کو نہیں پایا۔ ت) اور اس کے شریك ہونے سے پہلے ایك رکعت یادونوں جس قدرنماز ہوچکی ہے اس میں مسبوق ہے لانھا فاتتہ قبل ان یقتدی (اقتدا سے قبل اس نے اسے فوت کیا ہے۔ ت) درمختار و ردالمحتارمیں ہے :
مقیم ائتم بمسافر فھو لاحق بالنظر للاخیرتین وقدیکون مسبوقا ایضا١ھ کما اذافاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر [3] ط۔
اگرمقیم نے مسافر کی اقتداء کی تو وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جبکہ مسافر امام کی اقتدا ء پہلی رکعت میں نہ کی ہو۔ ط(ت)
اور حکم اس کا یہ ہے کہ جتنی نماز میں لاحق ہے پہلے اسے بے قراء ت اداکرے یعنی حالت قیام میں کچھ نہ پڑھے بلکہ اتنی دیر کہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑا رہے بعدہ ، جتنی نماز میں مسبوق ہوا اسے مع قراء ت یعنی فاتحہ وسورت کے ساتھ اداکرے ،
فی الدر المختار اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقراء ۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا [4] ایضا ١ھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ پہلے لاحق فوت شدہ رکعات بغیرقراء ت کے اداکرے پھر وہ رکعات جوامام کے ساتھ رہ گئی تھیں اگرمسبوق ہوا۱ھ ملخصًا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ ماسبق بہ بھا الخ ای ثم صلی
ماسبق رکعات الخ یعنی اگرمسبوق ہے تولاحق
اللاحق ماسبق بہ بقرأۃ ان کان مسبوقا ایضا بان اقتدی فی اثناء صلاۃ الامام ثم نام مثلا وھذا بیان للقسم الرابع وھو المسبوق اللاحق الخ[5]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع