30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اگرکسی نے مغرب کی ایك رکعت پائی تو وہ باقی ماندہ دوبجالائے اور ان کے درمیان قعدہ کے ساتھ فاصلہ کرے تو یہاں تین قعدے ہوجائیں گے(ت)
یہاں تك کہ غنیہ شرح منیہ میں فرمایا اگرایك رکعت پڑھ کرقعدہ نہ کیا توقیاس یہ ہے کہ نمازناجائز ہو یعنی ترك واجب کے سبب ناقص وواجب الاعادہ البتہ استحسانًا حکم جواز وعدم وجوب اعادہ دیاگیاکہ یہ رکعت من وجہ پہلی بھی ہے ، ردالمحتارمیں ہے :
قال فی شرح المنیۃ ولولم یقعد جاز استحسانًا لاقیاسا ولم یلزم سجود السھو لکون الرکعۃ اولی من وجہ[1]۔ واﷲ سبحٰنہ ، وتعالٰی اعلم۔
شرح المنیہ میں فرمایا ہے اگر اس نے ایك رکعت پڑھ کر قعدہ نہ کیا تو اگرچہ قیاسًا نماز درست نہیں مگراستحسانًا درست ہے اور اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ایك لحاظ سے یہ پہلی رکعت ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۴۸ : حافظ عبداﷲ خاں موضع ٹھریا ضلع بریلی بتاریخ ۲۹ / جمادی الاخری ۱۳۲۷ھ
جماعت رکوع میں ہو تو مسبوق نمازی کونیت کرکے اور تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھنا چاہئے یا بے باندھے دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں جانا چاہئے یا ایك ہی تکبیر اس کے واسطے کافی ہے یاکیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :
ہاتھ باندھنے کی تواصلًا حاجت نہیں اور فقط تکبیرتحریمہ کہہ کر رکوع میں مل جائے گا تو نماز ہوجائے گی مگرسنت یعنی تکبیر رکوع فوت ہوئی لہٰذا یہ چاہئے کہ سیدھا کھڑا ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہے اور سبحٰنك اللھم پڑھنے کی فرصت نہ ہو یعنی احتمال ہو کہ امام جب تك سراٹھالے گا تومعًا دوسری تکبیرکہہ کر رکوع میں چلاجائے اور امام کا حال معلوم ہوکہ رکوع میں دیر کرتاہے سبحٰنك اللّٰھم پڑھ کر بھی شامل ہوجاؤں گا تو پڑھ کر رکوع کی تکبیر کہتاہوا شامل ہو یہ سنت ہے اور تکبیر تحریمہ کھڑے ہونے کی حالت میں کہنی توفرض ہے بعض ناواقف جو یہ کرتے ہیں کہ امام رکوع میں ہے تکبیرتحریمہ جھکتے ہوئے کہی اور شامل ہوگئے اگراتنا جھکنے سے پہلے کہ ہاتھ پھیلائیں توگھٹنے تك پہنچ جائیں اﷲ اکبر ختم نہ کرلیا تونماز نہ ہوگی ، اس کاخیال لازم ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۴۹ : ازبلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ و حاجی یعقوب علی
نمازظہر کی جماعت کھڑی ہے میں نے وضو کیا تب تك تین رکعت خلاص ہوگئیں چوتھی میں جاملا ، اب میں تین رکعت کس ترتیب سے اداکروں ؟
الجواب :
سلام اما م کے بعد کھڑے ہوکر سبحٰنك اللھم الخ پہلے اگرنہ پڑھا تھا تو اب پڑھے ورنہ اعوذ سے شروع کرے اور الحمد وسورت پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے بیٹھ کر التحیات پڑھے پھر کھڑا ہوکر الحمدوسورت پڑھے اور رکوع وسجدہ کرکے بغیر بیٹھے کھڑا ہوجائے اور چوتھی رکعت میں فقط الحمد پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے التحیات پڑھے اور نماز تمام کرے ، درمختارمیں ہے :
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واٰخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیرفجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
قراء ت کے حق میں ابتدائے نماز اور تشہد کے حق میں آخر نمازتصور کرکے اداکرے ، فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت اور ان کے درمیان تشہد کے ساتھ اداکرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت کوصرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے(ت)
مسئلہ ۹۵۰ : ازلشکر گوالیار محکمہ ڈاك دربارگوالیار مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب ۹ / صفر۱۳۱۲ھ
مخدوم نیازمنداں بسط اﷲ ظلکم ابدًا ، مسبوق سجدہ سہو میں امام سے ملے یانہیں یعنی اگر اس کو علم ہوکہ امام اور اس کے مقتدی سجدہ سہو کررہے ہیں یاتشہد بعد سجدہ سہو میں بیٹھے ہیں باوجود اس علم کے اس کی اقتداء درست ہے یانادرست؟ بینواتوجروا
الجواب :
ضرورمل جائے ہرحال میں اقتدا درست وصحیح ہے ، ردالمحتارمیں زیر قول درمختار :
المسبوق یسجد مع امامہ مطلقا سواء کان السہو قبل الاقتداء اوبعدہ لکھا شمل ایضا مااذا سجد الامام واحدۃ ثم اقتدی بہ قال فی البحر فانہ یتابعہ فی الاخری ولایقضی قضاء الاولٰی کما لایقضیہما لواقتدی بہ بعد ما سجدھما[3] انتھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ ہرحال میں سجدہ سہو کرے خواہ وہ سہو اقتدا سے پہلے ہو یابعد میں ، یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب امام نے ایك سجدہ کرلیاتو پھر اس نے امام کی اقتداء کی ، بحرمیں ہے کہ مسبوق دوسرے سجدے میں اقتدا کرے تو اس صورت میں پہلے سجدہ کی قضانہیں ، جیسا کہ ان دونوں سجدوں کی ادائیگی کے بعد شمولیت کرنے پرقضانہیں انتہی۔ (ت)
مسئلہ ۹۵۱ : ۲۲ / رجب ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب زید صبح کی نماز کے وقت وضو کرکے فارغ ہوا توگمان کیا کہ امام نصف التحیات پڑھ چکا اور جماعت دوسری بھی تیار ہے اس نے سنت پڑھنا شروع کیا ، بعدسنت کے جماعت ثانی ہوئی زید اس میں شریك ہوا ، آیا یہ سنتیں اس کی ہوئی یانہیں ؟ اور زید امام اول کی التحیات میں شریك نہ ہونے سے گنہگار ہوا یانہیں ؟ اور اس التحیات میں شریك ہونا اسے ضروری تھا یانہیں ؟
الجواب :
سنتیں ہوتو ہرحال میں گئیں مگرزید کوحکم یہ تھا ك امام اول کی التحیات میں شریك ہوجائے۔
جماعت ثانیہ کے اعتماد پر اولٰی کی شرکت نہ چھوڑے ، زید بالقصد بلاعذر صحیح شرعی جماعت اولٰی فوت کردینے سے گنہگار ہوا ، درمختارمیں ہے :
اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتہا ترکہا[4]۔
جب سنتوں میں مشغولیت سے فرائض فجر کے فوت ہونے کا خوف ہوتو سنن کو ترك کردیاجائے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع