دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

بعض علماء سے کعبہ معظمہ کے اردگرد مقامات مخصوصہ میں مذاہب اربعہ کی اقتداء میں نماز اداکرنے کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے اسے بدعۃ کہا ، لیکن یہ بدعت حسنہ ہے سیئہ نہیں کہ یہ سنت صحیحہ کی دلیل وتقریر پرسنت حسنہ میں داخل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی ضررنہیں ہوتا نہ مسجد میں کوئی تنگی ہے اور نہ عام اہل سنت کے نمازیوں میں کوئی حرج ہے بلکہ اس میں بارش اور سخت گرمی وسردی میں فائدہ وآسانی ہے اور اس میں جمعہ وغیرہ میں امام کاقرب بھی حاصل رہتاہے لہٰذا یہ بدعت حسنہ ہے اور فقہاء اپنے اس فعل کانام سنت حسنہ رکھتے ہیں اگرچہ اہلسنت کی بدعت ہے نہ کہ اہل بدعت کی ، کیونکہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا “ من سن سنۃ حسنۃ “ (جس نے اچھا طریقہ ایجادکیا) الٰی آخرالعبارۃ ، اﷲ تعالٰی ان پرلطف وکرم فرمائے ، وا ﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)

مسئلہ ۹۴۲ :           ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور       ۱۷ / ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام پرتحکم کرنا مقتدیوں کویاانتظار کرنا امام کو مقتدی کا بعد اوقات معینہ کے بھی بالخصوص ایسے مقتدی کاجوبے علم اور مشہور جھگڑالو ہو درمیان میں مقتدیوں کے ، اور یہ چاہتاہو کہ جب ہم کہیں جب ہی اذان ہو اور جب ہم کہیں جب ہی نماز ہو اگرچہ وقت کچھ ہی ہوجائے اور امام پانچوں وقت بعداذان کے خود آکر ہمیں گھرسے بلالے جایاکرے ، پس ایسے شخص کانماز کے باب میں انتظار کرنااور متبع ہونا ا مام کو سزاوارہے یانہیں ؟

الجواب :

 مقتدی کوامام پرتحکم نہیں پہنچتا اور وہ خیالات جوسوال میں مذکور ہوئے محض ظلم واثم ہیں امام کو ایسے شخص کااتباع اور اس کی ان نفسانی خواہشوں کالحاظ ہرگز نہ چاہئے مگرجبکہ شریروموذی ہو اور اس کے ترك انتظارمیں مظنہ فتنہ ہو توبمجبوری تاحدامکان انتظارکرسکتاہے کہ فتنہ سے بچنا ضرورہے۔

قال اﷲ تعالٰی وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ- [1]۔

اﷲ تعالٰی کاارشاد گرامی ہے : فتنہ قتل سے بدترہے۔ (ت)

ملتزمان جماعت جب تك حاضرنہ ہوں اور وقت میں کراہت نہ آئے امام انتظار کرے ورنہ نہیں ۔

وقد کان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا حضر الناس عجل واذا تاخروا اخر۔

واﷲ تعالٰی اعلم حضوراکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کامعمول تھا جب لوگ حاضر ہوتے آپ جلدی فرماتے جب لوگ تاخیر کرتے آپ تاخیرفرماتے(ت)

مسئلہ ۹۴۳ :           ازشہرکہنہ مرسلہ رحیم بخش بریلی

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کھاناتیار ہے اورجماعت بھی تیارہے تواول کھاناکھائے یانماز پڑھ لے؟

الجواب :

جماعت تیار ہے اور کھاناسامنے آیا اور وقت تنگ نہ ہوجائے گا اور پہلے جماعت کوجائے توبھوك کے سبب دل کھانے میں لگارہے یاکھانا سردہو کر بے مزا ہوجائے گا یا اس کے دانت کمزور ہیں روٹی ٹھنڈی ہوکر نہ چبائی جائے گی تواجازت ہے کہ پہلے کھانا کھالے اور اگرکھانے میں کوئی خرابی یادقّت نہ آئے گی نہ اسے ایسی بھوك ہے توجماعت نہ کھوئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۴۴ :           مرسلہ اصغرعلی خاں بریلی بانس منڈی

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں دس بیس شخص نمازی روزمرہ جمع ہوتے ہیں ان سب کی رائے سے وقت ظہر دوبجے اور عصر پانچ۵ بجے اور عشا۹ بجے قرارپایاہے اذان ہوئی اور دوایك شخص تشریف لاکر بیٹھے رہے یہاں تك کہ اور نمازی بھی جمع ہوگئے اور صف باندھ کرکھڑے ہوئے تو ان صاحب نے جوپیشتر سے تشریف لائے ہیں کہا کہ ہم نے تو بھی وضو ہی نہیں کیاہے لہٰذا کچھ صاحبوں کی اہل جماعت سے رائے ہوئی کہ وضو کرلینے دو ، جملہ نمازی کھڑے رہے ، جب اُن صاحب نے وضوکرلیا بلکہ پاؤں دھوناباقی تھے کہ اس عرصہ میں دوچار شخص اور آگئے ان کووضوسے فارغ نہ ہونے دیا اور فورًا کھڑے ہوگئے ، دیگر یہ کہ کوئی صاحب تشریف لائے اور وضو کرکے جماعت میں دیر دیکھ کر اپنے مکان کو تشریف لے گئے تو ان کا انتظار کیاجائے یانہیں اور جماعت تیار ہے ، بینوا توجروا

الجواب :

یہ دو۱چارشخص جوبعد کو آئے اور ان کے وضو کاانتظار نہ کیا اور جماعت قائم کردی اگریہ لوگ اہل محلہ سے نہ تھے انہیں اس تعیین وقت پرجواہل مسجد نے مقرر کرلی ہے اطلاع نہ تھی اور وقت میں تنگی بھی نہ تھی اور حاضرین میں کسی پرانتظار سے کوئی حرج بھی نہ تھا تو اس صورت میں ان کے وضو کاانتظارکرلینا مناسب تھا خصوصًا جبکہ اس انتظار نہ کرنے میں ان کی دل شکنی ہو کہ بلاوجہ کسی مسلمان کی دل شکنی بہت سخت بات ہے ، دوچار منٹ میں وضوہوجائے گا ، اس میں ان کاایك نفع اور اپنے تین ، اُن کا تویہ کہ تکبیر اولٰی پالیں گے او اپنا پہلانفع یہ کہ اس فضیلت کے ملنے میں مسلمانوں کی اعانت ہوئی اور اس کا اجرعظیم ہے قال اﷲ تعالٰی وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- [2](اﷲ تعالٰی نے فرمایا : نیکی اورتقوٰی پرلوگوں کے ساتھ تعاون کرو(ت)

یہاں تك کہ عین نماز میں امام کو چاہئے کہ اگررکوع میں کسی کی پہچل سنے اور اسے پہچانانہیں تو ایك تسبیح زیادہ کردے کہ وہ شامل ہوجائے ، دوم اس رعایت سے ان مسلمانوں کادل خوش کرنا متعدد احادیث میں ہے :

احب الاعمال الی اﷲ بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم[3]  اوکما

فرائض کے بعد سب اعمال میں اﷲ کوزیادہ پیارا مسلمان کادل خوش کرنا ہے جیسا کہ حضوراکرم

قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔                                                   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کاارشاد مبارك ہے۔

سوم صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ :

انکم فی صلٰوۃ ماانتظرتم الصلٰوۃ [4] ۔

بیشك تم نماز ہی میں ہو جب تك نماز کے انتظار میں ہو۔

ورنہ انتظارنہ کرنے میں کوئی حرج نہ ہوا ، جوشخص جماعت میں دیر دیکھ کرچلاگیا وقت مقررہ کے بعد اس کے انتظار کی حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

 



[1]   القرآن ۲ / ۱۹۱

[2]   القرآن ۵ / ۲

[3]   الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۲۰۰ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۶۷ ، مجمع الزوائد باب فضل قضاء الحوائج  مطبوعہ دارالکتاب بیروت  ۸ / ۱۹۳

[4]   صحیح بخاری باب السمر فی الفقہ والخبر بعدالعشاء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ / ۸۴۔ ۹۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن