دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اوّل یہ کہ قائمین بقدرکمال صف ہوں یعنی ان سے ایك یاچند صفیں پوری کامل ہوجائیں کہ نہ آدمی زائد بچے نہ صف میں جگہ رہے اس صورت میں صفوف سابقہ کاملہ قائمین سے کرلی جائیں اور کاملین سب سے آخر میں اپنی صف یاصفیں کامل یاناقص جس قدر ہیں باندھیں یہ صورت کاہلین کی تاخیرمطلق کی ہوگی۔

دوم قائمین سے اکمال صف نہیں ہوتا خواہ اس قدر کم ہیں کہ پہلی ہی صف پوری کرنے کو اور آدمیوں کی حاجت ہے یاکثیر ہیں ایك یاچند صفین ان سے مکمل ہوگئیں اور اب اتنے بچے جن سے بعد کی صف پوری نہیں ہوتی اور قاصرین سے تکمیل ہوجائے گی اور زیادہ نہ بچیں گے تولازم ہے کہ قائمین کی اخیر صف میں کاہلین کو ایك کنارے پرجگہ دے کرتکمیل صف کریں حتی کہ اگرصف اول ہی ناقص تھی تو اسی کے کنارے پرانہیں رکھیں اس صورت میں کاہلوں نے اصلًا تاخیرنہ پائی ، ہاں ایك کنارے پرجمع کردئیے گئے۔

سوم تکمیل صف میں کاہلین کی حاجت ہے اور وہ بعد تکمیل بھی بچتے ہیں تو جس قدر تکمیل کے لئے مطلوب ہیں قائمین کی صف آخر کے ایك کنارے پرانہیں رکھ کرباقی کی صف تاصفوف ناقص یاکامل اخیر میں کردی جائیں یوں بعض کی تاخیر اور بعض کی طرف پر اقامت ہوگی اور وجہ ان سب کی وہی ہے کہ جب مذہب صحیح میں کاہلین کی نماز میں صرف کراہت ہے نہ باطل محض اور قائمین کی صف کوتکمیل کی حاجت ہے تواس سے ہٹا کر کاہلین کو صف دیگر میں رکھنا صف اخیر قائمین کوناقص چھوڑناہوگا اور یہ جائز نہیں پھربہرحال اگراور قائمین آتے جائیں یاانہیں میں سے بعض توفیق پاتے جائیں تووہ بجائے کاہلین فی طرف الصف ہوں اور کاہلین فی الطرف مؤخر ہوتے جائیں یہاں تك کہ مثلًا صورت ثانیہ صورت اولٰی کی طرف رجوع کرے اور ثالثہ ثانیہ یااولٰی ہوجائے الٰی غیر ذلك من الاحتمالات (اس کے علاوہ دیگر احتمالات) یہ سب اس صورت میں ہے کہ کاہلین دست شرع میں نرم ہوں ورنہ بحال فتنہ قدر میسور پرعمل چاہئے ، وباﷲ التوفیق ھذا ماافادہ التفقہ والکتاب واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بالصواب۔

مسئلہ ۹۴۱ :            ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی محمدجان صاحب مرسلہ محمداحمدخان صاحب  ۲۰ / شوال ۱۲۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کتاب میں یہ عبارت لکھی ہے البتہ چارمصلّے جو کہ مکہ معظمہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امرزبون ہے کہ تکرارجماعت وافتراق اس سے لازم آگیا کہ ایك جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی ہے اور شریك جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں مگریہ تفرقہ نہ ائمہ دین حضرات مجتہدین سے ہے نہ علمائے متقدمین سے بلکہ کسی وقت سلطنت میں کسی وجہ سے یہ امرحادث ہواہے کہ اس کو کوئی اہل حق پسندنہیں کرتا پس یہ طعن نہ علمائے اہل حق مذاہب اربعہ پر ہے بلکہ سلاطین پرہے کہ مرتکب اس بدعت کے ہوئے فقط واﷲتعالٰی اعلم۔ پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ چارمصلّے کس کی سلطنت میں ہوئے اور کس امروبنیاد پر قائم کئے گئے کہ جوزیدلکھتاہے کہ لاریب یہ امرزبون ہے صدہاعلمائے کاملین وصلحائے مقبولین گزرے کسی نے آج تك یہ اعتراض نہیں کیا کہ جواب زید یہ اعتراض کرتاہے اس کالکھنا درست ہے یاخلاف؟ اور زید کو شرعًا کیاکہناچاہئے؟ جواب مدلل مکمل صاف صاف تحریر فرمائیں بینوابالتفصیل جزاکم اﷲ الرب الجلیل۔

الجواب :

حقیقت امر یہ ہے کہ حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفًا وتعظیمًا میں چاروں مذاہب حقہ اہلسنت حفظہم اﷲتعالٰی کے لوگ مجتمع ہیں اور اُن میں باہم طہارت ونماز کے مسائل میں اختلاف رحمت ہے ، ایك بات ایك مذہب میں واجب دوسرے میں ممنوع ، ایك میں مستحب دوسرے میں مکروہ ، ایك کے نزدیك ایك امرناقص طہارت دوسرے کے نزدیك نہیں ، ایك کے یہاں کسی صورت میں وضو تمام دوسرے کے یہاں نہیں ، تو جب امام کسی مذہب کا ہو اگر اس نے دوسرے مذہب کے فرائض طہارت وصلاۃ کی رعایت اور ان کے نواقض ومفسدات سے مجانبت نہ کی جب تو اس مذہب والوں کی نماز اس کے پیچھے باطل وفاسد ہی ہوگی اور اگرمراعات ومجانبت مشکوك ہو تومکروہ اور تلفیق مذاہب باجماع جمہورائمہ حرام وباطل اور بحال رعایت بھی ہرمذہب کے مکروہات سے بچنایقینا محال اور بعض امور ایك مذہب میں سنت اور دوسرے میں مکروہ ہیں اگربجالایا تومذہب ثانی اور تارك ہوا تو مذہب اول پر کراہت ولہٰذا غایت امکان قدرفرائض ومفسدات تك ہے ، محققین نے تصریح فرمائی کہ بہرحال موافق المذہب کی اقتداء اکمل وافضل ، تو انتظار موافق کے لئے نوافل یاذکروغیرہما میں مشغول رہنا جماعت سے اعراض نہیں بلکہ اکمل واعلٰی کی طلب ہے اور یہ تفریق جماعت نہیں بلکہ تکمیل وتحسین ہے خصوصًا ان دومسجد مبارك میں کہ مسجد محلہ نہیں ہرجماعت جماعت اولٰی ہے اس لئے آٹھ سوبرس یا زائد سے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس و جدہ و مصرو شام وغیرہا بلاد ِاسلام میں عامہ مسلمین کا عمل اس پرجاری وساری رہا اور بعض کاانکار شاذومہجور قرارپایا تو بعد وضوح حق واستقرار امر اسے زبون وحرام وبدعت کہنا باطل وجہل وسفاہت ہے ، چارمصلّے ہونا اسی طریقہ ا نیقہ سے عبارت جسے علمائے مذاہب نے بنظرمصالح جلیلہ مذکورہ پسند ومقرررکھا باقی کسی مکان یاعلامت کابننا کہ یہ بھی صدہاسال سے معہود ومقبول ہے نہ اس کے لئے ضرور نہ ان میں مخل بلکہ وہ بھی منافع پرمشتمل ، درمختارمیں ہے :

یکرہ تطوع عند اقامۃ صلٰوۃ مکتوبۃ ای اقامۃ امام مذھبہ [1]۔

نماز فرض کی اقامت کے وقت نوافل مکروہ ہیں یعنی اقامت سے مراد اپنے ہم مذہب امام کی اقامت ہے(ت)

ردالمحتار میں :

لوانتظر امام مذھبہ بعیدا عن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ[2]۔

اگرکوئی شخص صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظارکرتارہا تو یہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ یقینا معلوم ہے کہ وہ اس موجودہ جماعت سے اکمل جماعت کاارادہ رکھتاہے(ت)

شیخ علمائے مکہ معظمہ مولانا علی قاری مکی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  رسالہ اہتداء میں فرماتے ہیں :

لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی ما استحسنہ عامہ المسلمین وعمل بہ جمہور المومنین من اھل الحرمین والقدس ومصر و الشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم[3] ۔

اگرہرمذہب کاالگ امام موجود ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توپھر اپنے موافق کی اقتدا افضل ہے خواہ وہ پہلے ہو یا بعد جیسا کہ اس کو عامہ مسلمین نے پسند کیا ، جمہورمومنین اہل حرمین ، قدس ، مصر اوراہل شام کا اسی پرعمل ہے ، اس کی مخالفت کرنے والے شاذونادر کاکوئی اعتبارنہیں ۔ (ت)

علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں :

قد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبہ التی یصلون فیھا الاٰن باربعۃ ائمۃ علی مقتضی المذاھب الاربعۃ فاجاب بانھا بدعۃ ولکنھا بدعۃ حسنۃ لاسیئۃ لانھا تدخل بدلیل السنۃ الصحیحۃ و تقریرھا فی السنۃ الحسنۃ لانھا لم یحدث منہا ضرر ولاحرج فی المسجد ولافی المصلین من المسلمین لعامۃ اھل السنۃ والجماعۃ بل فیھا عمیم النفع فی المطروالحر الشدید والبرد و فیھا وسیلۃ للقرب من الامام فی الجمعۃ وغیرھا فھی بدعۃ حسنۃ و ویسمون بفعلھم للسنۃ الحسنۃ و ان کانت بدعۃ اھل السنۃ لااھل البدعۃ لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال من سن سنۃ [4]  حسنۃ الٰی اٰخرما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملك الوھاب واﷲ تعالٰی اعلم۔                  

 



[1]   درمختار ،   کتاب الصلوٰۃ  مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۲

[2]   ردالمحتار  باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵

[3]   ردالمحتار بحوالہ رسالہ اہتدائ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷

[4]   حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ وقدسئل بعض العماء عن ہذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبۃ  مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۱ / ۱۱۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن