دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

من نظر الٰی فرجۃ فی صف فلیسدھا بنفسہ فان لم یفعل فمرمارفلیتخط

جوکسی صف میں خلل دیکھے وہ خود اسے بند کردے اور اگراس نے بند نہ کیا اوردوسراآیا توا سے چاہئے

علی رقبتہ فانہ لاحرمۃ لہ [1]۔  رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔

کہ وہ اس کی گردن پرپاؤں رکھ کر اس خلل کی بندش کوجائے کہ اس کے لئے کوئی حرمت نہیں ۔ اسے مسند فردوس میں حضرت عبداﷲابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے روایت کیاہے۔

اور فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

ان اﷲ وملٰئکتہ یصلون علی الذین یصلون الصفوف ومن سد فرجۃ رفعہ اﷲ بھا درجۃ [2] ۔  رواہ احمد و ابن ماجہ وابن حبان والحاکم وصححہ واقروہ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔

بیشك اﷲتعالٰی اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ان لوگوں پرجوصفوں کو وصل کرتے ہیں اور جوصف کافرجہ بند کرے اﷲتعالٰی اس کے سبب جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے گا۔ اسے امام احمد ، ابن ماجہ ، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیااور صحیح کہا اور ان تمام نے اسے حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت کیاہے۔

سوم : تراصّ یعنی خوب مل کر کھڑاہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے ، اﷲ عزوجل فرماتاہے : صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴) [3]  ایسی صف کے گویا وہ دیوار ہے رانگاپلائی ہوئی۔ رانگ پگھلا کر ڈال دیں تو سب درزیں بھرجاتی ہیں کہیں رخنہ فرجہ نہیں رہتا ، ایسی صف باندھنے والوں کو مولی سبحٰنہ وتعالٰی دوست رکھتاہے اس کے حکم کی حدیثیں اوپرگزریں ، اور فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

اقیموا صفوفکم وتراصّوا فانی ارٰکم من وراء ظھری[4] ۔  رواہ البخاری و النسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

اپنی صفیں سیدھی اور خوب گھنی کرو کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتاہوں ۔ اسے بخاری اور نسائی نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

یہ بھی اسی اتمام صفوف کے متممات سے اور تینوں امرشرعًا واجب ہیں کماحققناہ فی فتاوٰنا وکثیر من الناس عنہ غافلون(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی خوب تحقیق کی ہے اور بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ت) اور یہاں چوتھا امر اور ہے تقارب کہ صفیں پاس پاس ہوں بیچ میں قدرسجدہ سے زائد فضول فاصلہ نہ چھوٹے جس کاذکرحدیث دوم میں گزرا وہ یہاں زیربحث نہیں صف میں کچھ مقتدی کھڑے کچھ بیٹھے ہوں تو اس سے امراول یعنی تسویہ صف پرتو کچھ اثرنہیں پڑتا کہ قائم وقاعد بھی خط واحد مستقیم میں ہوسکتے ہیں تسویہ میں ارتفاع کی برابری ملحوظ نہیں نہ وہ ملحوظ ہونے کے قابل کہ ایك پیمائش کے قدرکہاں سے آئیں گے ، ہاں جبکہ بیٹھنے والے محض کسل وکاہلی کے سبب بے معذوری شرعی بیٹھیں گے توفرائض وواجبات مثل عیدین ووتر میں امردوم وسوم کاخلاف لازم آئے گا کہ جب بلاعذر بیٹھے توان کی نماز نہ ہوئی اور قطع صف لازم آیا کہ نمازیوں میں غیرنمازی دخیل ہیں ، ان بیٹھنے والوں کو خودفساد نماز ہی کاگناہ کیاکم تھا مگرانہیں یہاں جگہ دینا اور اگرقدرت ہو تو صف سے نکال نہ دینا یہ باقی نمازیوں کاگناہ ہوگا کہ وہ خود اپنی صف کی قطع پرراضی ہوئے اور جو صف کوقطع کرے اﷲ اسے قطع کردے ، ان پرلازم تھا کہ انہیں کھڑے ہونے پرمجبور کریں اور اگرنہ مانیں توصفوں سے نکال کردور کریں ، ہاں نمازی اس پرقادرنہ ہوں تومعذور ہیں اور قطع صف کے وبال عظیم میں یہی بیٹھنے والے ماخوذ ہیں جوحکم فرائض وواجبات کاتھا ، رہی تراویح اس میں ہمارے علما کو اختلاف ہے کہ آیا یہ بھی مثل واجبات وسنت فجر بلاعذربیٹھ کرناجائز وفاسد ہوتی ہیں یامثل باقی سنن جائز ہوجاتی ہیں اگرچہ خلاف توارث کے سبب مکروہ ہوتی ہیں بعض علما حکم اول کی طرف گئے اور صحیح ثانی ہے ، درمختار میں ہے :

(التراویح تکرہ قاعد) لزیادۃ تاکدھا حتی قیل لاتصح (مع القدرۃ علی القیام) کمایکرہ تاخیر القیام الی رکوع الامام للتشبیہ بالمنافقین[5]۔

(نمازتراویح بیٹھ کراداکرنا مکروہ ہے) کیونکہ ان میں تاکید زیادہ ہے حتی کہ بعض فقہأ کے قول کے مطابق بیٹھ کر نمازتراویح ہوتی ہی نہیں (قیام پرقدرت کے ہوتے ہوئے) جیسا کہ رکوع امام تك قیام کو مؤخرکرنا (یعنی امام کے رکوع کے وقت نماز کاشروع کرنا) مکروہ ہے ، کیونکہ اس میں منافقین کے ساتھ مشابہت ہے۔ ت)

خانیہ و ردالمحتار میں ہے :

لوصلی التراویح قاعدا قیل لایجوز بلاعذر لماروی الحسن عن ابی حنیفۃ لوصلی سنہ الفجر قاعدا بلاعذر لایجوز فکذا التراویح لان کلامنھما سنۃ موکدۃ وقیل یجوز وھوالصحیح والفرق ان سنۃ الفجر سنۃ موکدۃ بلاخلاف والتراویح دونھا فی التاکد فلایجوز التسویۃ بینھم [6]۔

اگرکسی نے تراویح بیٹھ کرادا کیں توبعض فقہا کے نزدیك بلاعذر ایساکرنا درست نہیں کیونکہ امام حسن نے امام ابوحنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے نقل کیاہے کہ اگر کسی نے فجر کی سنتیں بلاعذر بیٹھ کر ادا کیں تو یہ جائز نہیں ، اسی طرح تراویح کامعاملہ ہے ، کیونکہ دونوں سنت مؤکدہ ہیں ، بعض فقہا کے نزدیك جائز ہے اور یہی صحیح ہے ، فرق یہ ہے کہ سنن فجر بغیر کسی اختلاف کے سنت مؤکدہ ہیں اور تراویح کادرجہ تاکید میں ہونا اس سے کم ہے لہٰذا ان کے درمیان مساوات وبرابری نہ ہوگی۔ (ت)

قول اول پرکاہلوں کابلاعذر صف میں بیٹھنا ویساہی ناجائز ومورث گناہ وموجب قطع صف ہوگا جیسا واجبات میں کہ اس قول پریہ لوگ بھی نماز سے خارج ہیں اور قول ثانی پرمستحب ہوگا کہ ان اہل کسل کومؤخر کیاجائے اور صفوں میں یوں دخیل نہ ہونے دیاجائے کہ ایك قول پروہ گناہ ومعصیت ہے اور دوسرے پرمحض بے ضرورت ہے تو اس سے احتراز ہی میں فضیلت ہے۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے مذاہب جواپنے مذہب سے بے علاقہ ہیں جیسے حنفیہ کے لئے شافعیت مالکیت حنبلیت ان کے خلاف کی رعایت رکھنی بالاجماع مستحب ہے جب تك اپنے مذہب کامکروہ نہ لازم آتاہو تو یہ خلاف توخود اپنے علمائے مذہب میں ہے ، درمختارمیں ہے :

لاینقضہ مس ذکر وامرأۃ لکن یندب للخروج من الخلاف لاسیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ[7]۔

مَسِ ذکر اور مَسِ امرأۃ سے وضونہیں ٹوٹتا لیکن ایسی صورت میں اختلاف سے بچتے ہوئے وضو کرلینا مستحب ہے خصوصًا امام کے لئے بشرطیکہ امام کے اپنے مسلك میں مکروہ کاارتکاب لازم نہ آئے(ت)

مگریہاں ایك اور نکتہ واجب اللحاظ ہوگا کہ تاخیر اتنے کاہلوں کی ہو جس قدر تمام صف سے زائد ہوں ورنہ اطراف صف آخر میں اقامت ہوتا کہ مذہب صحیح پرقطع صف نہ لازم آئے اس سے تحرز مستحب تھا یہاں واجب ہوگا ، توضیح یہ کہ یہاں تین۳ صورتیں ہوں گی :

 



[1]   المعجم الکبیر مروی از ابن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۱ / ۱۰۵۔ ۱۱۳

[2]   مسند احمدبن حنبل مروی از مسند عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۸۹

[3]   القرآن ۶۱ / ۴

[4]   صحیح بخاری باب اقبال الامام علی الناس عند تسویہ الصفوف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۰

[5]   درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹

[6]   ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۹

[7]   دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن