دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جماعت فرض وتراویح میں اس کی بابت کوئی حکم تخصیصی ہے؟ ایك فریق کہتاہے کہ بیٹھ کرپڑھنے والے آخر صف میں نماز پڑھیں دوسرافریق مجوز ہے کہ ایسی جماعت بلاکراہت صحیح ودرست ہے چاہے کسی صف میں کوئی شخص بیٹھ کر پڑھتا ہو یا کھڑا ہوکر اس میں کوئی محظور شرعی نہیں ہے ایسی حالت میں کون حق پرہے؟ بینواتوجروا

الجواب :

دربارہ صفوف شرعًا تین باتیں بتاکیداکیدماموربہ ہیں اور تینوں آج کل معاذاﷲ کالمتروك ہورہی ہیں ، یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نااتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔

اول تسویہ کہ صف برابر ہوخم نہ ہو کج نہ ہو مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایك خط مستقیم پرواقع ہوں جو اس خط پرکہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزراہے عمود ہو ، رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

عباد اﷲ لتسون صفوفکم اولیخالفن اﷲ بین وجوھکم [1]۔

اﷲ کے بندو! ضرور یا تم اپنی صفیں سیدھی کروگے یااﷲ تمہارے آپس میں اختلاف ڈال دے گا۔

حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے صف میں ایك شخص کاسینہ اوروں سے آگے نکلا ہواملاحظہ کیا ، اس پر یہ ارشاد فرمایا۔ رواہ مسلم عن النعمٰن بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنھما (اس کو مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے روایت کیاہے۔ ت)دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

راصّوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالاعناق فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشیاطین تدخل من خلٰل الصف کانھا الخذف [2]۔  رواہ النسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

اپنی صفیں خوب گھنی اورپاس پاس کرو اور گردنیں ایك سیدھ میں رکھو کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں شیاطین کودیکھتاہوں کہ رخنہ صف سے داخل ہوتے ہیں جیسے بھیڑ کے بچے۔ اس کو نسائی نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

تیسری حدیث صحیح میں ہے فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

اقیموا الصفوف فانما تصفون بصف الملٰئکۃ وحاذوا بین المناکب [3] ۔  رواہ احمد وابوداو ، د والطبرانی فی الکبیر و ابن خزیمۃ والحاکم وصححاہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔

صفیں سیدھی کرو کہ تمہیں توملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور شانے ایك دوسرے کے مقابل رکھو۔ اس کو امام احمد ، ابوداؤد ، طبرانی نے المعجم الکبیر میں ، ابن خزیمہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے روایت کرکے اسے صحیح قراردیا۔

دوم : اتمام کہ جب تك ایك صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگرکوئی صف ناقص چھوڑے مثلًا ایك آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی اسے بغیر پوراکئے پیچھے اور صفیں باندھ لیں ، بعد کو ایك شخص آیا اس نے اگلی صف میں نقصان پایا تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتاہوا جاکروہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پوراکرے کہ انہوں نے مخالفت حکم شرع کرکے خود اپنی حرمت ساقط کی جو اس طرح صف پوری کرے گا اﷲ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمائے گا۔ رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

الاتصفون کما تصف الملٰئکۃ عن ربھا[4]۔

ایسی صف کیوں نہیں باندھتے جیسی ملائکہ اپنے رب کے حضور باندھتے ہیں ۔

صحابہ نے عرض کی : یارسول اﷲ ! ملائکہ کیسی صف باندھتے ہیں ؟ فرمایا :

یتمون الصف الاول ویتراصّون فی الصّف[5] ۔  رواہ مسلم وابوداؤد و

اگلی صف پوری کرتے اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کو مسلم ، ابوداؤد ،

النسائی وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت جابربن سمرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

اور فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

اتموا الصف المقدم ثم الذی یلیہ فما کان من نقص فلیکن فی الصف المؤخر[6]۔  رواہ الائمۃ احمد وابوداو ، د والنسائی وابن حبان وخزیمۃ والضیاء باسانید صحیحۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

پہلی صف پوری کرو پھر جو اس کے قریب ہے کہ جو کمی ہو تو سب سے پچھلی صف میں ہو۔ اسے ائمہ کرام احمد ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن حبان ، ابن خزیمہ اور ضیاء مقدسی نے اسانید صحیحہ کے ساتھ حضرت انس بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

اور فرماتے ہیں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ[7] ۔  رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی تعالٰی عنھما وھو من تتمۃ حدیثہ الصحیح المذکور سابقا عند احمد وابی داؤد والثلثۃ الذین معھما۔

جوکسی صف کو صل کرے اﷲ اسے وصل کرے اور جوکسی صف کو قطع کرے اﷲاسے قطع کردے۔ اسے نسائی اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے روایت کیاہے ، یہ عبداﷲ ابن عمر کی حدیث اس حدیث صحیح مذکور سابقہ کاتتمہ ہے جسے امام احمد اور ابوداؤد اور دیگرمحدثین نے روایت کیاہے۔

ایك حدیث میں ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

 



[1]   صحیح مسلم ،   باب تسویۃ الصفوف الخ ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲

[2]   سنن النسائی حث الامام علی رص الصفوف الخ  مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳

[3]   سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، مسند احمد بن حنبل مروی ازعبداﷲ ابن عمر      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۹۸

[4]   صحیح مسلم باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۱ ، سنن ابوداؤد  باب تسویۃ الصفوف  مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن