دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم[1]

شروع ہوا وہ امام ہے اور اس کی اقتدا کرنے والے درست ہیں اور ان میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)

اور اس جماعت کاجماعت ثانیہ ہونا ان شناعتوں سے نہیں بچ سکتا اگرچہ جماعت ثانیہ کی مخالفت کا تہمت سے مطلقًا بری ہونا مان بھی لیاجائے کہ جب مسجد مسجد محلہ نہیں بازاریاسراکی مسجد ہے تو اس کی ہرجماعت جماعت اولٰی ہے کماحققناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی میں کی ہے۔ ت) ہاں اگر یہ امام قرآن عظیم ایسا غلط پڑھتاہے جومفسد نماز ہو یا اس کی بدمذہبی تاحد فساد ہے یانقص طہارت وغیرہ کوئی اور وجہ فساد کی ہے تو الزام نہیں کہ ان صورتوں میں وہ جماعت خود جماعت ہی نہیں بلکہ اب اس میں شرکت ممتنع ہوگی لبطلان الصلاۃ خلفہ (کیونکہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے۔ ت) واﷲ سبحٰنہ ،  وتعالٰی اعلم

جواب سوال دوم : اس کاجواب سوال اول سے واضح ہے۔ ہوجانا بمعنی سقوط فرض مسلم مگر اس قائل کے فحوائے کلام سے ظاہر ہے کہ صرف اس قدراس کی مرادنہیں بلکہ اس میں فقط کمی ثواب مانتا اور لحوق اثم سے پاك جانتاہے ولہٰذا تعلیل میں نہ واجب کالفظ بڑھایا اور نہ سقوط فرض ، توبحال ترك جمیع واجبات بھی حاصل ہے اب یہ قول محض غلط ہے ، اوّلًا مذہب معتمدمیں جماعت واجب ہے اور اسے سنت مؤکدہ کہنا بوجہ ثبوت بالسنۃ ہے اور نہ بھی سہی تاہم اس کے قصدی ترك میں لحوق گناہ سے مفرنہیں ،

فی الدر المختار الجماعۃ سنۃ موکدۃ للرجال قال الزاھدی ارادوابالتاکید الوجوب الخ وفیہ وقیل واجبۃ و علیہ العامۃ ای عامۃ مشائخنا و بہ جزم فی التحفۃ وغیرھا قال فی البحر وھوالراجح عنداھل المذہب [2] ھ  وفی البحر من باب صفۃ الصلٰوۃ الذی یظھر من کلام اھل المذھب ان

 درمختار میں ہے مردوں کے لئے جماعت سنت مؤکدہ ہے۔ زاہدی نے کہا یہاں تاکید سے وجوب مراد لیاگیاہے الخ

اسی میں ہے وجوب کا قول بھی کیاگیاہے اور ہمارے عام مشائخ اسی پرہیں ، تحفہ وغیرہ میں اسی پرجزم ہے ، بحر  میں فرمایا ،  اہل مذہب کے ہاں یہی راجح ہے۱ھ اور بحرمیں باب صفت صلوٰۃ میں ہے کہ اہل مذہب کے کلام سے جوظاہرہوتاہے وہ یوں ہے کہ صحیح

الاثم منوط بترك الواجب اوالسنۃ المؤکدۃ علی الصحیح لتصریحھم بان من ترك سنن الصلٰوۃ الخمس قیل لایأثم والصحیح انہ یاثم ذکرہ فی فتح القدیر وتصریحھم بالاثم لمن ترك الجماعۃ مع انہا سنہ موکدۃ علی الصحیح وکذا فی نظائر لمن تتبع کلاھم ولاشك ان الاثم مقول بالتشکیك بعضہ اشد من بعض فالاثم لتارك السنۃ لمؤکدۃ اخف من الاثم لتارك الواجب [3] ھ وفی ردالمحتار عن النھر عن الکشف الکبیر عن اصول ابی الیسرحکم السنۃ ان یندب الٰی تحصیلھا ویلام علی ترکھا مع لحوق اثم یسیرا[4] ھ 

قول کے مطابق گناہ کامدارترك واجب یاترك سنت موکدہ پرہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ جس نے صلوات خمسہ کی سنن کوترك کیا اس کے بارے میں ایك قول ہے کہ وہ گنہگار نہیں ہوگا ، اور صحیح یہ ہے کہ وہ گنہگار ہوگا۔ فتح القدیر میں اس کوذکرکیاہے اور یہ بھی ان کی تصریح ہے کہ جس نے جماعت ترك کی وہ گنہگار ہوگا حالانکہ صحیح یہی ہے کہ جماعت سنت موکدہ ہے اسی طرح اس کی دیگر نظائر کاحکم ہے ان کے کلام سے تلاش کرنے والے کو یہی ملے گا ، بلاشبہ گناہ کے بارے میں تشکیکی قول ہے ، بعض کاقول بعض سے سخت ہے توتارك سنت مؤکدہ کاگناہ تارك واجب سے اخف اور کم ہوگا۱ھ

اور ردالمحتار میں نہر سے الکشف الکبیر کے حوالے سے ہے ، اصول ابوالیسر سے ہے کہ سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کوحاصل کرنا مندوب ومستحب ہے اور اس کے ترك پر تھوڑے سے گناہ کے ساتھ ملامت ہوگی۱ھ(ت)

سیّدنا عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :

لقدرأیتنا ومایتخلف عنھا الامنافق معلوم النفاق۔

یعنی ہم نے اپنے آپ کوعہد رسالت میں دیکھاکہ جماعت سے پیچھے نہ ہٹتا تھا مگر کھلا منافق۔

لوترکتم سنّۃ نبیکم لضللتم رواہ مسلم (اگرتم اپنے نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی سنت ترك کروگے گمراہ ہوجاؤگے (اسے مسلم نے روایت کیا۔ ت)اور ایك روایت میں ہے : لکفرتم تم کافرہوجاؤگے رواہ ابوداؤد (اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ ت) یعنی کفران یایہ کہ معاصی بریدکفر ہیں ۔ والعیاذباﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۳۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز میں امام کے واسطے مصلّٰی مخصوص کرنا اور مقتدی بغیرمصلے کے قصدًا کھڑے کئے جاتے ہیں بایں نیت کہ امام بہ نسبت مقتدیوں کے ممتازہوناچاہئے مکروہ ہے یاغیرمکروہ بینواتوجروا۔

الجواب :

اتفاقًا ایساہوجائے تو مضائقہ نہیں یاامام نے خود نہ چاہا نہ کسی مقتدی نے نہ اس لئے کہ امام ومقتدی میں امتیاز چاہئے بلکہ امام کو کسی فضل دینی کی تعظیم کے لئے ، مثلًا وہ عالم دین ہے اس کے نیچے مصلّٰی بچھادیا تو بھی حر ج نہیں اورخاص اس نیت سے بالقصد مقتدیوں کو بے مصلی کھڑاکرنا کہ نماز میں امام ومقتدیان کایوں امتیاز ہوناچاہئے محض بے اصل وخلاف سنت اور دین میں نئی بات نکالنا ہے۔ واﷲ سبحٰنہ ،  وتعالٰی 

مسئلہ ۹۳۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی رمضان میں اور مسجد میں کلام شریف سننے جائے تو اپنی مسجد میں عشاء کی جماعت اس کے جانے سے بالکل جاتی ہے کیاایساشخص مقیم جماعت نہ ہوگا گوامام مقرر مسجد نہیں مگرقرآن شریف مایجوزبہ الصلوٰۃ پرقادر ہے ، درصورت اس کے موجود ہونے کے جماعت ہوسکتی ہے؟ چنانچہ جمعہ مسجد میں یہی شخص پڑھاتاہے اس کو غیرمسجد میں جانا اپنی مسجد کو ایك وقت معطل چھوڑنا بغرض استماع قرآن جائز ہے یامکروہ یاکراہت ہے؟ لیکن استماع قرآن تراویح میں صرف تراویح سے ثواب اتنازیادہ ہے کہ کراہت کان لم تکن (یعنی کراہت اصلًا نہ رہے۔ ت) ہوجائے۔ بینواتوجروا

الجواب :

ایساشخص بلاشبہ مقیم جماعت ہے اسے چاہئے کہ نماز فرض اپنی مسجد میں پڑھاکر تراویح کے لئے دوسری مسجد میں چلاجائے کہ جب اپنی مسجد میں قرآن عظیم نہ ہوتا ہو تودوسری مسجد میں اس غرض سے جاناکوئی باك نہیں رکھتا بلکہ مطلوب ومندوب ہے ، ہاں تعطیل جماعت فرض جائز نہیں ، ولہٰذا فرض یہاں پڑھاکر دوسری جگہ جائے واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۹۴۰ : ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی فی جواب ھذا السؤال (اے علما ! اﷲ تم پررحم فرمائے اس سوال کاکیاجواب ہے؟ت) جماعت تراویح میں بعض لوگ صف اول ودوم میں متفرق طور پر اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ چارآدمی کھڑے ہوکر پھرچار بیٹھ کر بعد ہی اس کے دوکھڑے ہوئے ازاں بعد پھر تین بیٹھے ہوئے پڑھتے اور قرآن سنتے ہیں اگرچہ یہ بیٹھنے والے سب ضعیف ومعذور نہیں ہیں بلکہ بیشتر نوجوان ہیں جن کو بخیال تطویل قرأت امام برابر کھڑا رہنا بوجہ اپنی کاہلی وتکاسل کے ناگوار ہے آیابیٹھ کرنماز پڑھنا ان کا اندرصفوف بلاکراہت جائز ہے؟ کیاتسویہ صفوف کاحکم اس سے قطعًا غیرمتعلق ہے؟ کیا

 



[1]   خلاصۃ الفتاوی الفصل الخامس عشرفی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۱۴۵ ، خلاصہ ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴

[2]   درمختار باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲

[3]   بحرالرائق باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰۲

[4]   ردالمحتار مطلب فی السنۃ وتعریفہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن