دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اقول :  وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلوا کما رأیتمونی اصلی[1] رواہ البخاری عن مالك بن الحویرث رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

اقول : (میں کہتاہوں )اور نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا ہے کہ تم اس طرح نمازپڑھو جس طرح تم مجھے نمازاداکرتے دیکھتے ہو۔ اس کو امام بخاری نے حضرت مالك بن حویرث   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔ (ت)

یہاں امرہے اور امر کامفاد وجوب توجب تك دلیل خصوص مثلًا ترك احیانًا یااقرار علی الترك ثابت نہ ہوا اس عموم میں داخل اور وجوب حاصل اور ترك واجب مکروہ تحریمی اورمکروہ تحریمی گناہ صغیرہ اور صغیرہ بعد اعتیاد کبیرہ اور کبیرہ کامرتکب فاسق اور مردودالشہادۃ اور گناہ توایك ہی بار میں ثابت ، نسأل اﷲ العفو والعافیۃ ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم

مسئلہ ۹۳۶تا ۹۳۷ : ازگونڈہ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۳جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ

سوال اول : زید کی امامت سے جماعت ثانیہ مسجد ، بازار یاسرائے میں ہورہی ہے اسی مسجد میں بکر بھی آیا اس کومعلوم ہوگیا کہ یہ جماعت ثانیہ ہے اس نے علیحدہ وتنہا جماعت کے قریب یا کسی قدر فاصلے سے اپنی نماز اداکی تونماز بکرکی ادا ہوگئی یانہیں ؟

سوال دوم : ایك عالم صاحب فرماتے ہیں کہ جماعت ثانیہ کیا بلکہ جماعت اولٰی بھی ہوتی ہو تو اس وقت کوئی دوسراشخص اس مسجد میں آئے اور تنہا اپنی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی جماعت کا پچیس۲۵ گناثواب نہ ملے گا ، نماز ہوجانے کاسبب یہ بتایا کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے نہ فرض ہے نہ واجب ، اس بارے میں کیاارشاد ہے؟

الجواب :

جواب سوال اول : نمازبایں معنی توہوگئی کہ فرض سرسے اترگیا مگرسخت کراہت ولزوم معصیت کے ساتھ کہ بے عذرشرعی ترك جماعت گناہ وشناعت ہے نہ کہ خود بحال قیام جماعت صریح خلاف و اضاعت ، یہاں تك کہ اگر کسی نے تنہافرض شروع کردئیے ہنوزجماعت قائم نہ تھی اس کے بعد قائم ہوئی اور اس نے بھی پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیا تو اسے شرع مطہر مطلقًا حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑدے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ مغرب وفجر میں تو جب تك دوسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو حکم ہے کہ نیت توڑکرمل جائے اور باقی تین نمازوں میں دوبھی پڑھ چکا ہوتو انہیں نفل ٹھہراکر جب تك تیسری کاسجدہ نہ کیا ہو شریك ہوجائے۔

فی التنویر شرع فیھا اداء منفردا ثم اقیمت یقطعھا قائما بتسلیمۃ واحدۃ ویقتدی بالامام ان لم یقید الرکعۃ الاولٰی بسجدۃ

تنویر الابصار میں ہے کسی نے تنہا نماز اداکرنا شروع کی پھر اسی فرض کی جماعت کھڑی ہوگئی تو وہ سلام واحد کے ساتھ کھڑے کھڑے نماز ختم کردے اور امام کی اقتدا کرے بشرطیکہ اس نے پہلی رکعت کا

اوقیدھا فی غیرر باعیۃ اوفیھا وضم الیھا اخری وان صلی ثلثا منھا اتم ثم اقتدی متنفلا ویدرك فضیلۃ الجماعۃ الافی العصر[2]۔

سجدہ نہ کیاہو یاپہلی رکعت کا سجدہ کرلیا ہے مگرنماز غیررباعی ہو(یعنی فجرومغرب کی نماز میں ) یانماز رباعی ہومگر اس کے ساتھ ایك اور رکعت ملاچکا ہے (ان صورتوں میں نماز توڑ کرامام کی اقتداکرے) اگرتین رکعت اداکرچکا ہے تونماز پوری کرے اس کے بعد بنیت نوافل امام کی اقتداکرے تواسے ثواب جماعت حاصل ہوجائے گا البتہ نمازعصر میں ایسا نہیں کرسکتا(کیونکہ بعدازعصرنفل پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ ت)

جب پیش ازجماعت تنہاشروع کرنے والے کویہ حکم ہے حالانکہ اس نے ہرگز مخالفت جماعت نہ کی تھی اورنیت توڑنا بے ضرورت شرعیہ سخت حرام ہے قال اﷲ تعالٰی وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳)[3] اپنے عمل باطل نہ کرو ، مگرشرع مطہرنے جماعت حاصل کرنے کے لئے نیت توڑنے کو ابطال عمل نہ سمجھا اکمال عمل تصورفرمایا تویہاں کہ جماعت قائمہ کے خلاف اپنی الگ پڑھتاہے کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوسکتاہے بلکہ جوشخص مسجد میں نمازتنہا پوری پڑھ چکا ہو اب جماعت قائم ہوئی ہے اگرظہر یاعشا ہے توشرعًا اس پرواجب ہے کہ جماعت میں شریك ہوکہ مخالفت جماعت کی تہمت سے بچے اور باقی تین نمازوں میں حکم ہے کہ مسجد سے باہر نکل جائے تاکہ مخالفت جماعت کی صورت نہ لازم آئے ،

فی الدرالمختار من صلی الظھر والعشاء وحدہ مرۃ فلایکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ الاعند الشروع فی الاقامۃ فیکروہ لمخالفتہ الجماعۃ بلاعذر بل یقتدی متنفلا ومن صلی الفجر والعصر والمغرب مرۃ فیخرج مطلقا وان اقیمت ،  وفی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ   

نہر میں ہے مناسب یہ ہے کہ جماعت ہونے کے وقت اس کانکل جانا واجب ہے کیونکہ بغیرنماز کے وہاں مسجد میں رکے رہنا زیادہ مکروہ ہے۱ھ مختصرًا اگرچہ درمختار میں ہے جس نے ظہر وعشاء کی نمازتنہا ایك مرتبہ اداکرلی اس کے لئے مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں بلکہ جماعت کاترك مکروہ ہوا مگر اس صورت میں جب اقامت شروع ہوگئی تومکروہ ہے بلاعذر نکلنا بسبب اس کی مخالفت جماعت کے ، بلکہ وہ مسجد میں ٹھہرے اور بنیت نوافل امام کی اقتداء کرے ، اور جس نے فجر ، عصر اور مغرب کی نماز ادا کرلی تووہ ہرحال میں مسجد سے نکل سکتاہے اگرچہ

مکثہ بلاصلاۃ اشد[4] ١ھ مختصرا فی ردالمحتار تحت قولہ الاعند الشروع فی الاقامۃ لان فی خروجہ تھمۃ قال الشیخ اسمٰعیل وھو المذکور فی کثیر من الفتاوٰی والتھمۃ ھنانشأت من صلاتہ منفردا فاذا خرج یؤیدھااہ [5]  وفیہ عن المحیط مخالفۃ الجماعۃ وزرعظیم[6]۔                                             

تکبیر شروع ہوجائے ، ۔ ردالمحتار میں “ الاعند الشروع فی الاقامۃ “ کے تحت ہے کہ اس کے نکلنے میں تہمت ہے۔ شیخ اسمٰعیل فرماتے ہیں کہ بہت سے فتاوٰی میں یہی مذکور ہے اور یہ تہمت کاسبب اس کاتنہا نمازاداکرنا ہے اور جب وہ نکل کھڑا ہواتو اس سے تائید ہوجائے گی الخ  اسی میں محیط کے حوالے سے ہے کہ مخالفت جماعت میں بہت بڑاگناہ ہے۔ (ت)

جب جماعت سے پہلے تنہا پڑھنے والا جماعت میں شریك نہ ہو تو متہم اور مخالف جماعت اور وزرعظیم میں مبتلا پاتاہے تو جوباوصف قیام جماعت قصدًا مخالفت کرکے اپنی الگ شروع کردے کیونکر سخت متہم وصریح مخالف وگرفتار گناہ شدید نہ ٹھہرے گا بلکہ علمافرماتے ہیں کہ قیام جماعت کی حالت میں اگرکچھ لوگ آکردوسری جماعت جدا قائم کردیں مبتلائے کراہت ہوں گے کہ تفریق جماعت کی حالانکہ یہ نفس جماعت کے تارك نہ ہوئے نہ ان پر اصل جماعت سے مخالفت کی تہمت آسکتی ہے تواکیلا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنانے والا کس قدر شدید مخالف ہوگا ،

فی الخلاصۃ ثم الھندیۃ قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم

خلاصہ پھرہندیہ میں ہے کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ مسجد سے باہربیٹھے تھے کہ مؤذن نے اقامت کہی تو باہروالوں میں سے ایك شخص نے امامت کرائی اسی طرح اہل داخل میں سے ایك شخص نے امامت کرائی ان دونوں میں سے جو پہلے

 



[1]   صحیح البخاری باب الاذان للمسافرالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۸

[2]   درمختار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹

[3]   القرآن ۴۷ / ۳۳

[4]   درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹

[5]   ردالمحتارباب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن