30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۹۳۰ : ازشہرجوناگڈھ محلہ کیتانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
جوشخص جماعت کے ساتھ نمازپڑھنے کومستحب کہے اس کو علمائے دین کیاکہیں گے ، یہاں پرایك مدرسہ ہے اس میں تھوڑے عرصہ سے شوروغوغا مچاہے اور آپ علمائے دین کی منصفی پرسب کااتفاق ہے برائے خدا ہم جاہلوں کوراہ راست بتائیں ۔
الجواب :
جماعت کو مستحب سمجھنے کے اگریہ معنی ہیں کہ اسے واجب یاسنت مؤکدہ نہیں جانتا صرف ایك مستحب بات مانتاہے توسخت مبطل شدیدخاطی ہے اور احادیث صحیحہ اور تمام کتب فقہ کے ارشاد کامخالف ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۱ : ازترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمددادصاحب ۲ / جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
ایك ہی مسجد میں جماعت ثانی بلاوجہ ہوسکتی ہے یانہیں ، مثلًا سہو سے جماعت اول کونہ پہنچ سکے اور بعد میں جماعت ثانی کرلے خواہ گاؤں ہو یاشہر ، شارع عام ہو یاکوچہ ، قائم امام ہو یانہ ہو۔
الجواب :
جومسجد شارع یابازار یاسریااسٹیشن کی ہو کہ کسی محلہ یاامام سے مخصوص نہیں اس میں سب جماعتیں جماعت اولٰی ہیں جوگروہ آئے نئی اذان واقامت سے محراب میں جماعت کرے اور جومسجد محلہ ہے جس کے لئے امام وجماعت معین ہے اس میں جب امام پہلی جماعت باعلان اذان مطابق سنت اداکرچکا توبعد کوجوآئیں انہیں اعادہ اذان ناجائز ہے اور محراب میں امامت مکروہ ، اور بلااعادہ اذان ، محراب سے ہٹ کر بے کراہت جائز۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۲ : ازشہرکہنہ محلہ مروہی ٹولہ مسؤلہ بشیرالدین صاحب ۱۹ / رمضان شریف ۱۳۳۶ھ
ایك مصلی پردوشخص علیحدہ نمازفرض اداکریں تو ایسی حالت میں فرض اداہوتے ہیں یانہیں ؟
الجواب :
اگر اُن میں کوئی امامت کے قابل ہے اور قصدًا ترك جماعت کیااور یہ مسجد محلہ نہ تھی یاتھی اور یہ جماعت جماعت اولٰی ہوتی تو جس کی طرف سے یہ ترك ہے وہ گناہگار ہوا ایك خواں دونوں ، اور اگر یہ مسجد محلہ تھی اور یہ جماعت جماعت اولٰی نہ ہوتی تو براکیا ، رافضیوں سے مشابہت توقدیم سے تھی اب دیوبندیوں گنگوہیوں سے بھی ہوئی ، اور اگر ان میں کوئی قابل امامت نہ تھا توحرج نہیں بہرحال فرض ادا ہرصورت میں ہوجائیں گے ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۳ : ازنمبر۱۰۱ ثلی تال کوہ نینی تال مرسلہ مولوی محمدحسین صاحب تاجرطلسمی پریس ۲۵ / شوال ۱۳۳۶ھ
جماعت صرف عورتوں کی جن کامحض امام مرد ہو درست ہے یانہیں ؟ اور امام کے سہو کو وہ لڑکی یا عورت بتاسکتی ہے یانہیں جس سے پردہ نہیں ہوتا؟
الجواب :
اگریہ جماعت مسجد میں ہو مطلقًا مکروہ ہے کہ عورات کوحاضری مسجد منع ہے اوراگرمکان ہو اور مرد کوحاضری مسجد سے کوئی عذر صحیح شرعی مانع نہیں تومطلقًا مکروہ ہے کہ مرد پرحاضری مسجد واجب ہے اور اگر اسے عذر ہے اور جماعت میں جتنی عورتیں اس کی محرم یازوجہ یاغیرمشتہاۃ لڑکیوں کے سوانہیں تومطلقًا بلاکراہت جائز ہے اور نامحرم مشتہاۃ ہیں تومکروہ بہرحال ، اگرامام کوسہو ہو توعورت تصفیق سے اسے متنبہ کرے یعنی سیدھی ہتھیلی بائیں پشت دست پرمارے آواز سے تسبیح وغیرہ نہ کہے کہ مکروہ ہے۔ درمختار :
المرأۃ تصفق لاببطن علی بطن ولو صفق اوسبحت لم تفسد وقدترکا السنۃ تاتارخانیۃ [1]۔
عورت تصفیق سے متنبہ کرے مگر باطن ہتھیلی کوبائیں ہتھیلی کے باطن پرنہ مارے ، اگرمرد نے تصفیق کی عورت نے تسبیح کہی تونماز فاسد نہ ہوگی البتہ دونوں نے سنت کو ترك کردیا ، تاتارخانیہ۔ (ت)
اقول : ہاں اگر امام نے قرأت میں وہ غلطی کی جس سے نماز فاسد ہو توعورت مجبورانہ آوازہی سے بتائے گی جبکہ وہ تصفیق پرامام کویاد نہ آجائے وذلك لان الضرورات تبیح المخطورات (اور وہ اس لئے کہ ضرورتیں ممنوعات کومباح کردیتی ہیں ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۹۳۴ : یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کاجونمازخوب جانتاہے اگرتنہاہو تو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دورکھڑا ہویاصف میں بھی کھڑاہوسکتاہے؟ بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکرکھڑا کرنا تومنع ہے
فان صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا وقدامر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بسدالفرج
کیونکہ ممیزبچے (جونماز کوجانتاہو) کی نمازقطعًا صحیح ہے اور حضوراکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صفوف میں خلا نہ چھوڑنے اور متصل رکھنے کا
والتراض فی الصفوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید۔
حکم دیا ہے اوراس کے خلاف پرنہی شدید فرمائی ہے۔ (ت)
اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑا ہو ، علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں ، درمختار میں ہے :
یصف الرجال ثم الصبیان ظاھرہ تعددھم فلو واحد ادخل الصف [2]۔
مردصف بنائیں پھربچے ، اس کاظاہرواضح کررہاہے یہ اس وقت ہے جب بچے متعدد ہوں ، اگراکیلا ہوتو اسے صف کے اندرکھڑاکرلیاجائے(ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال[3]۔
اگربچے زیادہ نہیں توایك بچے کومردوں کی صف میں کھڑاکرلیاجائے۔ (ت)
بعض بے علم جویہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تواسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے ، اسی طرح یہ خیال کہ لڑکابرابر کھڑا ہوتو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع