30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماظھر لی وعند ربی علم حقیقۃ کل حال۔ واﷲ تعالٰی اعلم میں تفریق کی اجازت نہیں ہے حتی کہ دشمنوں کے سامنے بھی اﷲتعالٰی نے مسلمانوں کے لئے ایسے عمل کو پسند نہیں کیا تو دیگر حالات میں یہ کیسے ہوسکتاہے ، یہ بات مجھ پر آشکار ہوئی ہے حقیقت حال کاعلم میرے رب کریم کے پاس ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۹۲۴تا۹۲۷ : ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷ / ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین :
(۱) ایك مسجد میں دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے ، چاہئے یانہیں ؟
(۲) کراہت جماعت ثانیہ میں آپ کی کیاتحقیق ہے؟
(۳) ایك مسجد میں ایك ہی وقت دوتین آدمیوں کافردًا فردًا فرض پڑھنا کیسا ہے؟
(۴) اور اگرفردًا فردًا چندشخص فرض پڑھیں تونمازہوجائے گی یانہیں ؟
الجواب :
(۱) مسجد دوقسم ہے ایك مسجد عام جسے کسی خاص محلہ سے خصوصیت نہیں جیسے مسجد جامع یابازار یاسرایا اسٹیشن کی مسجد(۲) دوسری مسجد محلہ کہ ایك محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہو اس کی معمولی جماعت معین ہے اگرچہ کچھ راہگیر یامسافر بھی متفرق اوقات میں شریك ہوجایاکریں ، اور یکے بعددیگرے چندجماعتیں کرنے کی بھی دوصورتیں ہیں ، ایك یہ کہ جماعت موجودہ کے دویاچندحصے کردیں ، جب ایك حصہ کرلے تودوسرا کرے۔ دوسرے یہ کہ وہ حاضر ہواپڑھ گیا دوسرا اس کے بعد آیا یہ اب جماعت کرتاہے تعدد جماعت کی پہلی صورت بلاضرورت شرعیہ مطلقًا حرام ہے خواہ مسجد محلہ ہو یامسجد عام ، ہاں بضرورت جائز ہے جیسے صلوٰۃ الخوف میں ۔ رہا یہ کہ مسجد میں کوئی بدمذہب گمراہ یافاسق معلن یاقرآن مجید کاغلط پڑھنے والا امامت کرتاہے کچھ لوگ براہ جہل یاتعصب اس کے پیچھے پڑھتے ہیں دوسرے لوگ اس کے روکنے پرقادرنہیں یہ اس کی اقتدا سے بازرہتے ہیں اور اس کے فراغ کے بعد اپنی جماعت جداکرتے ہیں جس کاامام سب بلاؤں سے پاك ہے یہ صورت مطلقًا جائز بلکہ شرعًا مطلوب ہے مسجد عام ہو خواہ مسجد محلہ۔ اور تعدد جماعت کی صورت ثانیہ کہ یہ گروہ پہلی جماعت کے وقت حاضرنہ تھا یہ مسجد عام میں مطلقًا جائزومطلوب ہے یہاں تك کہ کتابوں میں تصریح ہے کہ بازار وغیرہ کی عام مساجد میں افضل یہ ہے کہ جو گروہ آتاجائے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے سب جماعتیں جماعت اولٰی ہوں گی کما فی فتاوی الامام قاضی خاں وغیرہ (جیسا کہ فتاوٰی امام قاضی خاں وغیرہ میں ہے۔ ت) اور مسجد محلہ میں بھی اگرپہلی جماعت کسی غلط خواں یابدمذہب یامخالف مذہب نے کی یا بے اذان دئیے ہوگئی یااذان آہستہ دی گئی دوسری جماعت مطلقًا جائز ومطلوب ہے اور اگر ایسانہیں بلکہ اہل محلہ موافق المذہب سنی صالح صحیح خواں امام کے پیچھے باعلان اذان کہہ کر پڑھ گئے اب باقی ماندہ آئے توانہیں دوبارہ اذان کہہ کر جماعت کرنی مکروہ تحریمی ہے اور بے اذان دیئے محراب جماعت اولٰی میں امامت کرنی مکروہ تنزیہی ، اور اگرمحراب بدل دیں تواصلًا کراہت نہیں ۔ اس مسئلہ کی تفصیل تام فقیر نے اپنے فتاوٰی میں ذکرکی۔
(۲) اس کاجواب اول میں آگیا۔
(۳) اگران میں کوئی شرعی حیثیت سے قابل امامت ہو اور دانستہ بلاوجہ شرعی ترك جماعت کریں توگنہگار ہوں گے اگرچہ نمازہوجائے گی۔ اور نادانستہ ہو یعنی ایك شخص فرض پڑھ رہاہے دوسراآیا اسے معلوم نہیں کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اس نے بھی فرض کی نیت الگ باندھ لی ، اسی طرح تیسراآیا اس نے بھی فرض کی نیت باندھ لی یااُن میں کوئی قابل امامت نہیں تو حرج نہیں ۔
(۴) نماز ہوجاتی ہے مگرترك جماعت سے گناہ ہوتاہے جبکہ کوئی عذرشرعی نہ ہو۔
مسئلہ ۹۲۸ : ۲۹صفر۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیرکرنا مقتدیوں کودرست ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب :
وقت کراہت تك انتظار امام میں ہرگز تاخیرنہ کریں ، ہاں وقت مستحب تك انتظارباعث زیادت اجروتحصیل افضلیت ہے ، پھر اگروقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تك تاخیرحاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اس پرراضی ہیں تو جہاں تك تاخیر ہواتناہی ثواب ہے کہ ساراوقت ان کانماز ہی میں لکھاجائے گا۔
وقدصح عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم انتظار النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی مضی نحو من شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ، وقال انکم لن تزالو فی صلاۃ
صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین کاحضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کایہاں تك انتظارکرنا ثابت ہے کہ رات کاکافی حصہ گزرجاتا اور نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کے اس عمل کوبرقراررکھااور فرمایا : تم جب سے نماز کے انتظار میں ہو
ماانتظرتم الصلاۃ[1]۔
وہ تمام وقت تمہارانماز میں گزرا۔ (ت)
ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تك حاضرین پرشاق نہ ہو ،
فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃ عن المنتقی للامام الحاکم الشھید ان تاخیرالمؤذن و تطویل القرأۃ لادراك بعض الناس حرام ، ھذا اذا کان لاھل الدنیا تطویلا وتاخیرا یشق علی الناس و الحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃ اھل الخیر غیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظار اوسطا[2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
انقرویہ میں تاتارخانیہ سے امام حاکم شہید کی المنتقی کے حوالے سے ہے کہ بعض لوگوں کی خاطر مؤذن کا اذان کو مؤخر کرناا ور امام کاقرأت کولمباکرنا حرام ہے ، یہ تب ہے جب دنیاداروں کی خاطرایساکرے اور تطویل وتاخیر لوگوں پرشاق ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل خیر کی اعانت کی وجہ سے کچھ تاخیر کرنے میں کوئی کراہت نہیں لہٰذا امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرلینے میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
مسئلہ ۹۲۹ : ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربع الاخری۱۳۳۶ھ
اگرکوئی پیریامولوی عربی خواں مسجد کے قریب رہتاہو اور اس مسجد کامنتظم ہوجماعت میں شریك نہ ہو اور اذان وقت بے وقت ہو اور کبھی نہ ہو لوگ بلااذان نمازپڑھ جائیں ایسا شخص گنہگار ہے یانہیں ؟
الجواب :
ترك جماعت اور ترك حاضری مسجد کاعادی فاسق ہے اور فاسق قابل اتباع نہیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع