دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

(۲) جبکہ امام رکوع میں ہے اور ایك شخص ایك تکبیر کہہ کر شامل جماعت ہوگیا تو یہ کبیر تحریمہ ہوئی یا مسنونہ ، اس صورت میں نماز اس مقتدی کی ہوگی یانہیں ؟

الجواب :

(۱) تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور غسل کرکے پھر اعادہ کرے۔

(۲) اگر اس نے تکبیرتحریمہ کہی یعنی سیدھے کھڑے ہوئے تکبیر کہی کہ ہاتھ پھیلائے توزانو تك نہ جائے تو نماز ہوگئی اور اگرتکبیر انتقال کہی یعنی جھکتے ہوئے تکبیر کہی تو نماز نہ ہوگی اسے دوتکبیر کہنے کاحکم ہے تکبیرتحریمہ اور تکبیرانتقال ، پہلی تکبیر تحریمہ قیام کی حالت میں اور دوسری تکبیرانتقال رکوع کوجاتے ہوئے۔

درمختار میں ہے :

لووجد الامام راکعا فکبر منحنیا ان الی القیام اقرب صح ولغت فیہ تکبیرۃ الرکوع [1]۔  واﷲ تعالٰی اعلم

اگرکسی نے امام کو حالت رکوع میں پایا تو اس نے جھکتے ہوئے تکبیر کہی اگریہ مقتدی قیام کے زیادہ قریب ہوتودرست ہے اور ا س کی تکبیر رکوع لغو ہوجائے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ۸۹۶ : دوشخص ایك چٹائی ایك مصلے پرجداجدا برابرکھڑا ہوکر ایك ہی نماز فریضہ قبل جماعت یابعد جماعت پڑھ رہے ہیں ان کی نماز ہوجائے گی یانہیں ؟

الجواب :

نماز تو ہرطرح ہوجائے گی لیکن قبل جماعت الگ الگ پڑھیں اور ایك کاحال دوسرے کومعلوم ہو اور ان میں ایك قابل امامت ہے ا س کوکوئی عذرشرعی نہ ہو تو ان پرترك جماعت کاالزام ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم 

مسئلہ ۸۹۷ :           ازشہر بریلی محلہ باغ احمدخاں                         ۲۰ / ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ

جماعت جمعہ کے اندر پہلی صف میں دو یاتین شخض جن کی داڑھی منڈی ہوئی اور ایك شخص کی کتری ہوئی اس نے یہ لفظ کہا کہ بزرگ لوگ پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں وہ اگلی صف میں آجائیں اور منڈی اور کتری ہوئی پیچھے چلے جائیں ، لہٰذا اس نے گناہ کیا یانہیں ، اور اگلی صف میں منڈی ہوئی ہیں اور پیچھے صف میں پرہیزگار اور متقی ہیں ان کو پہلی صف میں لے جائیں اور منڈی ہوئی کوپیچھے ہٹایاجائے یانہیں ، اور وہ لوگ جن کی داڑھی منڈی ہوئی ہے اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کونماز پڑھنے کوجاتے ہیں اورایك کے ساتھ ایك یادو داڑھی والے بھی جاتے ہیں اس بات کو ان لوگوں نے نہایت ناگوارمعلوم کیا۔

الجواب :

داڑھی کترانا منڈانا حرام ہے اور اس کے مرتکب فاسق ان کوتفہیم ہدایت کی جائے ، بہتریہ ہے کہ امام کے قریب دانشورلوگ ہوں ، حدیث میں فرمایا :

لیلینی منکم اولوالاحلام والنھی [2]۔

تم میں سے دانشور اور عقلمند لوگوں کو میرے قریب ہونا چاہئے۔ (ت)

اور وہی دانشور ہے جو متقی ہو ، متقیوں کوچاہئے تھا کہ یہی پہلے آتے کہ سب سے اول میں جگہ پاتے اب کہ وہ دوسری قسم کے لوگ پہلے آگئے تو انہیں مناسب ہے کہ متقیوں کے لئے جگہ خالی کردیں ورنہ انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں خصوصًا جبکہ سبب فتنہ ہو اعمال میں ہدایت نرمی سے چاہئے کہ سختی سے ضد نہ بڑھے واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۸۹۸ :           ازشہر بانس منڈی مسؤلہ محمدجان بیگ                            ۱۰ / محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص پانچوں وقت کی نماز اداکرتاہے اور صوم وصلوٰۃ کابھی پابند ہے مگرمسجد میں صرف تین وقت کی نمازیں ظہروعصر ومغرب باقی عشاء وفجر کی اپنے مکان پرتنہاپڑھتاہے اوروجہ تنہائی میں پڑھنے کی یہ ہے کہ بعد نماز عشاء وفجر کے وظیفہ میں زیادہ وقت لگتاہے اورقرآن عظیم کی تلاوت بھی کرتاہے تنہاپڑھنے میں علیحدہ کوئی حرج تو نہیں ؟

الجواب :

پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایك وقت کابھی بلاعذر ترك گناہ ہے ، وظیفہ وتلاوت باعث ترك نہیں ہوسکتے فرض مسجد میں باجماعت پڑھ کر وظیفہ وتلاوت مکان پرکرے ورنہ صورت مذکورہ فسق وکبیرہ ہے فان کل صغیرۃ بالاعتیاد کبیرۃ وکل کبیرہ فسق (ہرصغیرہ گناہ کا معمول اسے کبیرہ بنادیتاہے اور ہرکبیرہ گناہ فسق ہے۔ ت) حدیث میں ہے ظلم اور کفرنفاق سے ہے۔ یہ بات کہ آدمی اﷲ کے منادی یعنی مؤذن کوپکارتا سنے اور حاضر نہ ہو ، وہ وظیفہ وتلاوت کہ جماعت مسجد سے روکین وظیفہ وتلاوت نہیں بلکہ ناجائز ومعصیت۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۸۹۹ : از اسیریاں محلہ سادات ضلع فتح پور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳ / محرم ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ میں اقامت کہ جائے یانہیں اور جماعت ثانیہ میں امام کو زور سے جہری نماز میں قرأت کرنی چاہئے یاجماعت اولٰی کے لوگ جوسنتیں پڑھ رہے ہوں ان کے خیال سے برائے نام آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کی نماز میں ذہن نہ منتقل ہو جوحکم شرعی ہو ارشاد فرمائیں ؟

الجواب :

جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے تکبیر میں حرج نہیں اور اس کا امام نماز جہری میں بقدرحاجت جماعت جہر کرے گا اگرچہ اور لوگ سنتیں پڑھتے ہوں واﷲ تعالٰی اعلم 

مسئلہ ۹۰۰ :            از شہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسؤلہ حبیب اﷲ خاں صاحب                  ۲۹محرم ۱۳۳۹ھ

(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید و بکر باہم رشتہ دار ہیں دونوں میں خانگی معاملات میں مع دیگررشتہ داران زید و بکر عرصہ سے نااتفاقی ہے اور زید وبکر دونوں شریك ہوکر ایك جماعت میں ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں ، اما صاحب سے کسی کو کچھ کدورت نہیں ہے اب اہل محلہ زید و بکر سے کہیں کہ تم دونوں باہم میل کرلو ، بکر یہ جواب دے کہ ہم باہم رشتہ دار ہیں ہمیں میل کرنے میں کچھ انکارنہیں ہے مگراس معاملہ میں دیگررشتہ دار داماد بھائی حقیقی وغیرہ بھی شریك ہیں جن کے ساتھ زیدکو مع دیگررشتہ داران ناراضگی ہے ان کی موجودگی کی بھی ضرورت ہے ـــــــــــــــــــــ اس وقت پورا میل ہوسکتاہے تنہامیل کرنے میں دیگررشتہ داران کومجھ سے<

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن