دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۰) [1] (کیا تم اﷲکے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جسے تم نہیں جانتے۔ ت)ہاں اگر ایك دن نماز عید ہوکر دوسرے دن مطلقًا ناجائز ہوتی حتی کہ اس امام صالح امامت عید وقوم کوبھی جس نے کل بعذرنہ پڑھی تو البتہ اسے شریك ہونا جرم ہوتا اگرچہ ان پر جرم کیسا ، وہ اپناادائے واجب کررہے تھے کہ ان کو کل کاثبوت نہ پہنچاتھا مگر اس کے اعتقاد میں توعید کل ہوچکی تھی آج  دوسرادن تھا جس میں نماز ناجائز تھی تو یہ اپنے اعتقاد کی رو سے ایك ناجائز فعل میں شرکت کرتا اور مجرم ہوتا فان المرء مواخذ بزعمہ (ہرآدمی کامواخذہ اس کے زعم واعتقاد پرہوگا۔ ت)مگرایسا ہرگزنہیں بلکہ قطعًا جواز ہے کمانصوا علیہ قاطبۃ (جیسا کہ اس پر تمام فقہا نے نص کی ہے۔ ت) تو ایك جماعت جائزہ میں متنفلا شریك ہونا کس نے منع کیا نماز عید ، نمازجنازہ نہیں جس سے تنفل میں شرعًا عدم جواز کاحکم ثابت ہے ، بدائع امام ملك العلماء میں ہے :

لایصلی علی میت الامرۃ واحدۃ لاجماعۃ ولاوحدانا عندنا لنا ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلی علی جنازۃ فلما فرغ جاء عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ومعہ قوم فاراد ان یصلی ثانیا فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الصلٰوۃ علی الجنازۃ لاتعادوا لکن ادع للمیّت واستغفرلہ وھذا نص فی الباب (الٰی قولہ) دلیل علی عدم جواز التکرار[2]۔                                              

ہمارے نزدیك میّت پرفقط ایك دفعہ نماز ادا کی جائے گی دوبارہ نہیں ، نہ تنہا نہ جماعت کے ساتھ ، کیونکہ منقول ہے کہ حضور   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے جنازہ پڑھایا جب فارغ ہوئے تو حضرت عمراور ان کے ساتھ کچھ لوگ آئے اورانہوں نے دوبارہ جنازہ پڑھنے کاارادہ کیا آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : جنازہ کی نماز لوٹائی نہیں جاسکتی البتہ میّت کے لئے دعا اور استغفار کرو ، یہ اس باب میں نص ہے (یہاں تك ) یہ تکرار کے عدم جواز پردلیل ہے۔ (ت)

صلاۃ عید میں نہی کہاں ، ہاں ثبوت بھی نہیں ، پھر عدم ثبوت کو ثبوت عدم سے کیاعلاقہ وھذا بحث لقد فرغنا عنہ فی الرد علی الوھابیۃ مرارًا(یہ وہ بحث ہے جس کو ہم وہابیوں کے رد میں بارہا تفصیلًا بیان کرچکے ہیں ۔ ت) غایت یہ کہ بے طلب شرع بے وجہ ہے جبکہ کوئی عارض خاص نہ ہو مثلًا مرید یاتلمیذ یا ابن کے نزدیك کل ثبوت شرعی ہوگیا تھا پڑھ لی شیخ یااستاذ یا اب کے یہاں آج ملنے کو حاضر ہوا ان کے نزدیك آج عید ہے ، یا نماز کوکھڑے ہوئے اب ان کی مخالفت اس امر میں کہ شرعًا ممنوع وحرام نہیں معیوب وقبیح ہے لہٰذا متنفلًا شریك ہوگیا تو یہ صورت بے وجہ بھی نہیں بلکہ بوجہ وجیہ ہے ، امام مجتہد مطلق عالم قریش سیدنا امام شافعی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے تو جب مزارمبارك امام الائمہ سیدنا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے حضور نماز صبح پڑھائی دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ وآمین جہر سے کہی نہ غیرتحریمہ میں رفع یدین فرمایا علی مافی الروایات (جیسا کہ روایات میں ہے)

خود اپنا مذہب مجتہد نے ترك کیا اور عذر بھی بیان فرمایا کہ مجھے ان امام اجل سے شرم آئی کہ ان کے سامنے ان کا خلاف کروں کما بیناہ فی حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات   (جیسا کہ ہم نے “ حیات الموات فی بیان سماع الموات “ میں بیان کیا ہے۔ ت) (۳) امام اپنے قلب سے نیت کرتاہے اور قلب غیب ہے اور زبان اس کاذریعہ بیان۔ ہرمسلم اپنے مافی الضمیر پرامین ہے جب تك ظاہر اس کا مکذب نہ ہو ، رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالھا ام لا[3] رواہ مسلم۔

کیاتونے اس کا دل چیرکردیکھا ہے حتی کہ تونے جان لیا کہ اس نے دل سے کہا یانہیں ۔ اسے مسلم نے روایت کیا(ت) ۱؎

مقتدیوں کا یہ وسوسہ بد گمانی ہے اور بدگمانی :

قال تعالٰی

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ[4]
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب
[5] الحدیث۔        

اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے اے ایمان والو! بہت زیادہ ظن سے بچاکرو کیونکہ بعض ظن گناہ ہوجاتے ہیں ۔

اور نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے(ت)

(۴) ہاں ثابت ہے کما فصلناہ فی الفتوی السابقۃ بمالامزید علیہ (جیسا کہ ہم نے سابقہ فتوٰی میں اس کی تفصیل بیان کی جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ ت) فجرومغرب کاحدیث میں استثناء فرمایا[6]رواہ الدار قطنی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (اسے دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا کے حوالے سے نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے بیان کیاہے۔ ت) تعلیل حکم نے فجر سے عصر ، مغرب سے وتر کا الحاق بتایا اور یہی مذہب حنفیہ ہے۔

(۵) وصلیہ اولٰی ہے بدلیل حدیث محجن   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  :

عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلٰوۃ فصل مع الناس وان کنت قدصلیت[7]۔

نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : جب تومسجد میں آئے جبکہ کہ تو نماز اداکرچکاتھا پس جماعت کھڑی ہوگئی تو تو لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر اگرچہ تونے نماز پڑھ لی تھی(ت)

یہ وہی مضمون وحکم ہے اور اس میں وصلیہ متعین والحدیث خیرتفسیرللحدیث (ایك حدیث دوسری حدیث کے لئے سب سے بہترتفسیر ہوتی ہے۔ ت)

(۶) ہاں درست ہے جہاں شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو اور یہ عموم آیہ کریمہ کی تخصیص نہیں بلکہ وہ (ممنوع) عموم میں داخل ہی نہیں کہا من تطوع خیرافرمایا ہے اور ممنوع خیرنہیں کہ خیرممنوع نہیں ۔ اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ شے مطلوب الفعل اوالترك باحد الطلبین الجازم وغیرہ ہوگی یا لاولا یہیں سے احکام خمسہ پیداہوئے ان کا خامس مباح وتمام الکلام فیہ بحیث لایوجد فی شیئ من الکتب فی رسالتنا الجود الحلو فی ارکان الوضوء (اس سے متعلق تحقیق ہمارے رسالے “ الجود الحلوفی ارکان الوضو “ میں ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔ ت) اربع اول کو ثبوت درکار اور عدم ثبوت طرفین کانتیجہ خامس مگر یہ خامس کسی مستحسن کے نیچے اندراج اور نیت حسنہ کے اندراج سے مستحسن ہوجاتاہے جیسے نیت قبیحہ سے مستقبح ، فعل لوح سادہ ہے اور نیت نقش صورت اخیرہ میں وہ مکروہ حرام اور اس سے بدتر ہوسکتااور اولٰی میں تطوع ہوکر دونوں آیہ کریمہ کے عموم میں آئے گا۔ اشباہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے :

 



[1]   القرآن ۲ / ۸۰

[2]   بدائع الصنائع فصل فی صلوٰۃ الجنازہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱۱

[3]   صحیح مسلم باب تحریم قتل الکافر بعد قول لاالٰہ الااﷲ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۶۸

[4]   القرآن ۴۹ / ۱۲

[5]   صحیح البخاری کتاب الوصایا  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۸۴

[6]   المصنف لعبدالرزاق ب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن