30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یصلی احدنا فی منزلہ الصلاۃ ثم یاتی المسجد فتقام الصلاۃ [1]۔
جب تو کوئی اپنے گھرمیں نماز پڑھتا ہے پھر مسجد کی طرف آتاہے پھر نماز کی جماعت کھڑی ہوجائے(ت)
حدیث ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں تھا :
فان ادرکتھا معھم[2]
(پس اگر توان کے ساتھ نمازکو پائے۔ ت)
سنن ابی داؤد میں حدیث یزید بن الاسود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایك لفظ یہ ہیں :
اذا صلی احدکم فی رحلہ ثم ادرك الصلاۃ مع الامام فلیصلھا معہ فانھا لہ نافلۃ [3] ۔
جب کسی نے گھر پرنماز پڑھ لی پھر امام کے ساتھ نماز پالی تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے کہ یہ اس کے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
حدیث ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما میں تھا
اذا صلیت فی اھلك ثم ادرکت[4]
(جب تونے اپنے اہل میں نماز پڑھ لی پھر تونے جماعت کو پایا۔ ت)
حدیث اخیر ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا میں ہے :
اصلی فی بیتی ثم ادرك الصلاۃ فی المسجد مع الامام[5]
(میں اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہوں پھر میں امام
کے ساتھ مسجد میں نماز کو پالیتا ہوں ۔ ت)دوسرے روز اس نماز کی جماعت نہیں ہوسکتی آج کی ظہر ، ظہر دیروزہ کی غیر ہے ولہٰذا امام ومقتدی کاقضاء ادا میں اختلاف مبطل اقتدا ہے او ر دوسرے دن اگرلوگ کل کی قضا بجماعت پڑھتے ہوں تو اسے ادراك نہ کہیں گے اور واجب سے تو اسے علاقہ ہی نہیں کہ وہ یاوتر ہے یانماز عیدین اول میں تنفل گناہ اور ثانی میں شریعت مطہرہ سے ثابت نہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۸۵ تا ۸۹۰ : ازکانپور محلہ بوچڑخانہ مولو ی نثار احمدصاحب ۲۰ / صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ، حامدا ومصلیا ومسلما (اﷲ تعالٰی کی حمد اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں صلوٰۃ وسلام عرض کرتے ہوئے۔ ت)۔ حضرات علمائے کرام ادام اﷲ بقاء ہم علٰی رؤس المسلمین وحماہم۔ ان چندسوالوں کاجواب مرحمت فرمائیں :
(۱) یہ کہ اختلاف علماء ہو یوم النحر میں ، توقربانی کواحتیاطًا ایك روز مؤخر کرانے والا اختلاف علماء سے بچنے کے لئے مجرم ہے یانہیں ۔
(۲) سہ شنبہ ۱۰ / ذی الحجہ کو عیدالاضحٰی کی نماز واجب کی نیت سے پڑھانے والا امامت سے بوجہ ثبوت شرعی ماننے کے اور چہارشنبہ کو اس جگہ حاضر ہوکر جہاں عیدالاضحٰی بوجہ ثبوت کامل نہ ہونے کے عید سہ شنبہ کو نہیں ہوئی تھی بلکہ آج چہارشنبہ کو عیدالاضحٰی تھی اور جماعت میں شریك ہوگیا ، نفلی نیت سے مجرم ہوا یانہیں ۔
(۳) سہ شنبہ کوامامت وخطبہ کے بعد احتیاطی جملہ کاتلفظ اور دوسرے روز اسی کاجماعت میں بہ نیت نفل شریك ہونا لوگوں کو شبہہ دلاتاہے کہ اس نے اپنی نماز دہرالی اور ہم لوگوں کی نمازیں خوب خراب کیں مگر امام کو دوشنبہ کو اعلان وقت نماز کے یقین تھا عید کا ، اور راضی تھا ، اور خود سہ شنبہ کو وہ ایك اعلان دینے پرراضی تھا کہ میں نے ثبوت کویقین جان کر بہ نیت واجب پڑھی اور امام ہوکر اقرارکرتاہے اصرار سے کہ واجب یقینی جان کرپڑھائی اوراحتیاطی جملہ میں بھی یہ عرض کیا کہ دینی بھائیو! آج عید ہے اور اکثرجگہ ہے ، نماز بھی عید کی پڑھی گئی مگر قربانی کل کرنے میں حتیاط ہے ، ایسی اختلافی حالت میں کس کے قول کو ماناجائے امام کے قول کو یامقتدیوں کے۔
(۴) پڑھی ہوئی نماز نفل کی نیت سے پھر پڑھنا حنفیوں کے نزدیك حدیث یزید ابن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جوباب “ من صلاۃ مرتین “ میں ہے ، سے ثابت ہوتا ہے یانہیں ۔
(۵) اس حدیث میں وان کنت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع