30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا عنقریب میرے بعد تم پر ایسے امراء آئیں گے جنہیں بعض اشیاء کی مشغولیت نماز بروقت سے غافل رکھے گی یہاں تك کہ وقت چلاجائے گا ، تو تم نماز بروقت اداکرو ، ایك آدمی نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں ؟ فرمایا : ہاں اگر تو چاہے تو پڑھ۔ (ت)
فرض میں اختیار کیسا!
اقول : والمراد بالوقت المستحب ای یؤخرون الی وقت الکراھۃ اذھو المعھود من اولٰئِك الامراء ، لا ان یصلوا العصر جماعۃ بعد الغروب والعشاء بعد الطلوع۔
میں کہتاہوں یہاں وقت سے مراد وقت مستحب ہے یعنی وہ مکروہ وقت تك نماز کو مؤخر کریں گے یہی بات ان امرا سے معروف ہے یہ نہیں کہ وہ نما ز عصر کی جماعت غروب کے بعد اور نماز عشاء کی جماعت طلوع کے بعد کریں گے(ت)
وثالثًا : دارقطنی بسند صحیح عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے راوی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
اذا صلیت فی اھلك ثم ادرکت فصلہا الا الفجر والمغرب[1]۔
جب تونے اپنے اہل میں نماز ادا کرلی پھر تو نے جماعت کوپالیا تو اسے دوبارہ پڑھ سوائے فجر و مغرب کے۔ (ت)
فجرومغرب کا استثناء اسی بناء پر ہوسکتاہے کہ یہ دوسری نفل ہو کہ نہ فجر میں تنفل ہے نہ نفل میں ایتار ، اگر یہ فرض ہوتی تو فجر و مغرب میں ادائے فرض سے کون مانع ہے۔
ورابعا : حدیث بتارہی ہے کہ ان میں ایك کانفل ہونا اس کے شریك جماعت ہونے پرمرتب ہے “ تکن “ اگرجواب امر ہے جب توظاہر اور جزائے ان کنت قدصلیت ہے جب بھی مطلب یہی ہے یہ ہرگز مراد نہیں کہ جس وقت فرض پہلے پڑھے تھے اسی وقت وہ نفل ہوئے تھے چاہے بعد کو جماعت ملتی یا نہیں ، شریك ہوتا یانہیں ، اور جب ترتب نفلیت شرکت پر ہے اب اگر اس ایك سے نماز دوم مراد لو تو بے تکلف مستقیم ہے کہ یہ نفل اسے شرکت ہی سے ملیں گے ، اور اگر اول مراد لو تو معنی یہ ہوں گے کہ اب تك اس سے فرض اداہوئے تھے اس جماعت کی شرکت ان فرضوں کونفل کی طرف منقلب کردے گی اور یہ کہ حتمًا مطلوب نہ تھی فرض واقع ہوگی ، ان دونوں باتوں کے لئے شرع میں نظیرنہیں ۔
وخامسًا : مسند احمدوصحیح مسلم میں ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کیف اذاکانت علیك امراء یمیتون الصلاۃ اوقال یوخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت فما تأمرنی قال صل الصلٰوۃ لوقتھا فانھا لك نافلۃ[2]۔
رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اس وقت تمہارا حال کیاہوگا جب تم پر ایسے امراء مسلّط ہوں گے جو نماز کو فوت کریں گے ، یافرمایا : وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے۔ کہا میں نے عرض کیا : حضور! آپ کا میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا : تم نماز اپنے وقت پرپڑھو ، پھر اگر ان کے ساتھ جماعت پالے تو نماز پڑھ لے کہ یہ تیرے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
اس میں ضمیر انھا صاف نماز ثانی کی طرف راجع ہے اولٰی کی طرف ارجاع بعد عن الفہم ہونے کے علاوہ ارشاد اقدس صل الصلٰوۃ لوقتھا (نماز کو اس کے وقت پرپڑھو۔ ت) کے منافی ہے کہ پہلی کو اس کے وقت میں پڑھ کہ اوقات فرائض کے لئے ہیں نہ کہ نفل کے واسطے۔
وسادسًا : حدیث مذکور عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مسند احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ میں یوں ہے کہ فرمایا واجعلوا صلا تکم معھم تطوعا[3] (تم اپنی نماز کو ان کے ساتھ نفل بنالو۔ ت) اس میں صاف تصریح ہے کہ یہ دوسری نفل ہوگی۔
سابعًا : اگریہی ماناجائے کہ نافلہ پہلی اور مکتوبہ دوسری کو فرمایا تو فقیر کے ذہن میں یہاں ایك نکتہ بدیعہ ہے ظاہر ہے کہ نماز تنہا ناقص اور جماعت میں کامل ہے ، جس نے فرض اکیلے پڑھ لئے پھرنادم ہوکر جماعت میں ملاتو قضیہ اصل وحکم عدل یہ ہے کہ اس کے فرض ناقص اور نفل کامل ہوئے مگر اس کی ندامت اور جماعت کی برکت نے یہ کیا کہ سرکار فضل نے اس کامل کو اس کی فہرست فرائض میں داخل فرمالیا اور ناقص کونفل کی طرف پھیردیا تو یہ نفل کامل فرض لکھے گئے اور وہ فرض ناقص نفل میں محسوب ہوئے کہ کمال فرض کا جمال فضل پائے اور یہ اس کی رحمت سے بعید نہیں جوفرماتاہے :
فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-[4]
اﷲتعالٰی لوگوں کے گناہوں کونیکیوں کے ساتھ بدل دیتاہے (ت)
جب اس کا کرم گناہوں کونیکیوں سے بدل لیتاہے نفل کو فرض میں گن لینا کیادشوار ہے۔ اب حاصل یہ رہا کہ ہے تو پہلی ہی فرض اور دوسری نفل مگررحمت الٰہی اس نفل کو فرض میں شمار فرمائے گی ، اسی طرف مشیر ہے عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا کاارشاد جب ان سے پوچھا گیا میں ان دونوں میں کس کو اپنی نماز یعنی فرض تصور کروں ؟ فرمایا :
وذلك الیك انما ذلك الی اﷲ عزوجل یجعل ایتھما شاء [5]۔ رواہ الامام مالك ھذا ماعندی ، العلم بالحق
یہ کیا تیرے ہاتھ ہے ، یہ تو اﷲکے اختیار میں ہے ان میں جسے چاہے (فرض) شمار فرمائے گا۔ اسے امام مالك نے روایت کیا ، یہ میری تحقیق ہے
عند ربی۔ حق کا علم میرے رب کے ہاں ہے(ت)
ظہروجمعہ وعشا نفلًا دوبارہ پڑھ سکتاہے نماز عید کے ساتھ تنفل شرع سے ثابت نہیں ۔ حدیث دوسرے روز ملنے پرکسی طرح دلیل نہیں کہ وہ اس صورت میں ہے کہ یہ نماز تنہا پڑھ چکا اب اس کی جماعت قائم ہوئی ، حدیث محجن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں تھا :
کنت قدصلیت فاقیمت الصلٰوۃ[6] ۔
تونے نماز پڑھ لی پھر نماز کے لئے تکبیر کہی گئی(ت)
حدیث ابوایوب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں ہے :
[1] المصنف لعبد الرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ ثم یدرك الجماعۃ حدیث ۳۹۳۹ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۴۲۲ ، کنزالعمال اعادۃ الصلوٰۃ حدیث ۲۲۸۳۲ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۸ / ۲۶۲
[2] صحیح مسلم باب کراہۃ تاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی ۱ / ۲۳۰
[3] مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ابن امرأۃ عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۷
[4] القرآن ۲۵ / ۷۰
[5] مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ابن امرأۃ عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع