دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ثالثًا  کنت اور قد بھی منافی شرطیہ نہیں قد کا دخول خود فعل شرط پرممنوع ہے فعلی ھذا لاتقول ان قد فعلت وان قد تفعل[1]۱ھ “ رضی “ یہاں فعل شرط کنت ہے جسے ابقائے معنی ماضی ہی کے لئے شرط کرتے ہیں

کقولہ تعالٰی عن عبدہ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام     اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗؕ-[2]

وقولہ تعالٰی عن شاھد یوسف علیہ الصلاۃ والسلام    وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ[3]۔                                        

جس طرح اﷲتعالٰی نے اپنے بندے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کایہ قول ذکر کیا “ اگر میں نے یہ کہا تو تو جانتا ہے “ اﷲ تعالٰی نے حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گواہ کے حوالے سے فرمایا اگر ان کاقمیص پیچھے سے پھٹا ہے (ت)

یعنی وہ فعل ماضی جسے شرط کرنا اور معنی ماضی پرباقی رکھنا منظور ہو ، اگر اس پر ان داخل کرتے مستقبل کردیتا لہٰذا اسے خبر کان اور کان کو شرط کرتے ہیں اب وہ فعل اپنے معنی ماضی پرباقی رہتاہے ، رضی میں ہے :

اعلم ان یکون شرطھا فی الاغلب مستقبل المعنی فان اردت معنی الماضی جعلت الشرط لفظ کان کقولہ تعالٰی ان کنت قلتہ ،  وان کان قمیصہ وانمااختص ذٰلك بکان لان الفائدۃ التی تستفاد منہ فی الکلام الذی ھو فیہ الزمن الماضی فقط ومع النص علی المضی لایمکن استفادہ الاستقبال[4] ۔                              

پھر جان لے کہ (اِن) کے لئے اغلب طور پر یہ شرط ہے کہ وہ معنی کے اعتبار سے مستقبل پردلالت کرتاہے اگرتو معنی ماضی کاارادہ کرے تو تو لفظ کان کو شرط کردے جیسے فرمان الٰہی ہے “ ان کنت قلتہ وان کان قمیصہ “ اسے کان سے اس لئے مختص کیا ہے کہ وہ فائدہ جو اس میں مقصود ہے وہ فقط ماضی والی کلام سے حاصل ہے اور ماضی پرنص کے باوجود استقبال کااستفادہ ممکن نہیں رہتا۔ (ت)

اور جب وہ فعل معنی ماضی پربحالہ ہے تو ماضی کے لئے قد کاآنا کیامحال ہے۔

رابعًا : نماز اول اگر قریب ذکرًا ہے دوم قریب وقوعًا ہے اور شك نہیں کہ جدید متاخرالوقوع قدیم متاخر الذکر سے اقرب ہے۔

خامسًا : ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر سابقہ کی طرف اور اس کا تقاضا اقتضائے ھذہ سے پہلے ہولیا۔

سادسًا : شرط بلاشبہہ کنت ہے مگرمعنی سببیت کہ شرط میں نفس فعل شرط میں نہیں ہوتے بلکہ مع جمیع متعلقات ان تلوتم یٰسۤ فی بیتی عند رأسی ثلاث لیال مستقبلی القبلۃ متؤضیین فانتم احرار(اگر تم میرے گھر میں ، میرے سر کے قریب تین راتیں باوضو قبلہ رو ہوکر یٰسۤ پڑھو تو تم آزاد ہو۔ ت) ان ساتوں قیود کے جمع ہونے سے آزاد ہوں گے مجردتلاوت سے نہیں ہوتے خصوصًا کان جس کی دلالت حدث مطلق وزمانہ ماضی کے سوا کسی چیز پر نہیں کما قدمنا اٰنفا عن الرضی (جیسا کہ ہم نے رضی کے حوالے سے ابھی ذکر کیا۔ ت) تو سبب کَوْن ، مخاطب نہیں بلکہ کَوْنہ قدصلی یعنی تقدم ایقاع صلاۃ کہ اس کا نافلہ ہونا اس کے وقوع پرموقوف۔

سابعًا : امر کے لئے جواب لاسکتے ہیں نہ یہ کہ امرطالب جواب ہے بخلاف قسم ، تونامستدعی جواب کا تقدم ، شرط مستدعی جزا کے اقتضا پرمرجح نہیں ہوسکتا۔

ثامنًا : اگرتکن جواب امرہی ہو تو یہ بھی تعیین احد المعنیین سے عاری ہے جزائے ان کنت نہ سہی اس سے پہلے قد صلیت کلام میں توواقع ہے رجوع ضمیر کو اتنا ہی درکا ہے۔

بالجملہ دلائل طرفین کچھ نہیں ہمیں اس تمام بیان کی حاجت نہ تھی اگرسوال میں نہ ہوتا کہ کس کی دلیلیں قبول کی جاسکتی ہیں اور طریق صحیح یہ ہے کہ

اوّلًا : کلام اس میں ہے کہ پہلے فرض بہ نیّت فرض وقت میں باستجماع شرائط اداکرچکا ہو ورنہ بداہۃً پہلی نماز نماز ہی نہ تھی یاکوئی نفل تھی اگردوسری میں شامل نہ ہوتا جب بھی وہ نفل یا باطل ہی رہتی اور جب صورت یہ ہے تو قطعًا اس وقت پڑھنے سے فرض ذمہ سے ساقط ہوگیا اب نہ وہ وقت میں عود کرسکتا ہے نہ وقت میں دو فرض ہوسکتے ہیں تو یقینا یہ دوسری نہ ہوگی مگرنفل ۔ ہاں اس کافائدہ یہ ہوگا کہ برکت وثواب جماعت میں حصہ ملے گا۔

کما فی حدیث مالك وابی داؤد عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذلك لہ سھم جمع[5]۔

جیسا کہ امام مالك اور ابوداؤد نے حضرت ابوایّوب انصاری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : یہ اس کے لئے جماعت کے ثواب کا حصہ ہے(ت)

واقول ثانیًا : اگرثانی فرض ہو تو طلب جماعت فرض ہو حالانکہ اس حکم کو حدیث نے مصلی کے آنے پر محمول فرمایاہے کہ

اذا جئت الی الصلاۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت[6]۔

جب تونماز کے لئے اور لوگوں کو نماز میں پائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکا ہو(ت)

یہ نہیں فرمایا :

اذا صلیت فی رحلك افترض علیك ان تأتی الجماعۃ فتصلی معھم۔

جب تونے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تو تجھ پر فرض ہے کہ تو جماعت کی طرف آئے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرے۔ (ت)

ابوداؤد و ترمذی و نسائی کی حدیث میں یزید بن الاسود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

اذا صلیتما رحالکما ثم اٰتیتما مسجد جماعۃ فصلیا  معھم فانھا لکما نافلۃ[7]۔

جب تم دونوں اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرچکو پھر تم مسجد کی طرف آؤتو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھو کہ (جماعت والی نماز) تمہارے لئے نفل ہوگی(ت)

بلکہ حدیث میں تخییر کی تصریح ہے کہ جی میں آئے توشامل ہوجاؤ ، سنن ابی داؤد میں عبادہ ابن صامت انصاری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے :

عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال سیکون علیکم بعدی امراء تشتغلھم اشیاء عن الصلٰوۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلٰوۃ لوقتھا فقال رجل یارسول اﷲ اصلی معھم قال نعم ان شئت [8]۔

 



[1]   شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۶۲

[2]   القرآن ۵ / ۱۱۶

[3]   القرآن ۱۲ / ۲۷

[4]   شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۶۴

[5]   سنن ابی داؤد باب من صلی فی منزلہ الخ  مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵ ، مؤطا الامام مال اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۶

[6]   سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن