دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

قد تدخل الواو علی ان المدلول علی جوابھابما تقدم ولاتدخل الاذاکان ضدالشرط اولی بذلك المقدم والظاھر ان الواو فی مثلہ اعتراضیۃ ونعنی بالجملۃ الاعتراضیۃ مایتوسط بین اجزاء الکلام متعلقا بمعنی مستانفا لفظا کقولہ ع :  تری کل من فیھا وحاشاك فانیاکقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم “ انا سیّد ولد اٰدم ولافخر “ فتقول فی الاول زید وان کان غنیا بخیل وفی الثانی زید بخیل وان کان غنیا والاعتراضیۃ تفصل بین ایّ جزئین من الکلام کانا بلاتفصیل اذا لم یکن احدھما حرفا[1]١ھ مختصرا      

کبھی واؤ اس لئے آتاہے کہ اس جواب کا مدلول سابقہ ہے یہ وہیں ہوگا جہاں ضد شرط اس مقدم کے زیادہ مناسب ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسے مقام پر واؤ اعتراضی ہوتی ہے او رجملہ معترضہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اجزائے کلام کے درمیان ایسے کلمات آجائیں جومعنی ومفہوم کے اعتبار سے اس سے متعلق ہوں اور لفظًا اس سے جدا ہوں جیسے شاعر کا یہ مصرعہ ہے : وہ دنیا میں ہرچیز کوفانی جانتاہے اور تومحفوظ رہے۔

بعض اوقات تمام کلام کے بعد واؤ آتی ہے ، مثلًا حضور   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کاارشاد گرامی ہے : میں اولاد آدم کاسردار ہوں مگرفخرنہیں ، پہلے کی مثال “ زید بخیل وان کان غنیا “ ہے ، جملہ معترضہ بلاتفصیل کسی بھی کلام کے دوجزوں میں فصل پیدا کرتاہے بشرطیکہ دونوں میں سے کوئی جز حرف نہ ہو ۱ھ مختصرًا (ت)

لاجرمصحیحین میں ابوذر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

مامن عبد قال لاالٰہ الا اﷲ ثم مات علی ذلك الادخل الجنّۃ وان زنی وان سرق وان زنی وان سرق وان زنی و ان سرق علی رغم انف ابی ذر[2]۔

جس بندے نے بھی لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہا پھر اسی پرفوت ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا اگرچہ اس نے زنا وچوری کی ہو ، اگرچہ اس نے زنا وچوری کی ، اگرچہ اس نے زناوچوری کی ، ابوذر کی ناك خاك آلود ہو۔ (ت)

ثانیا حدیث کی بہتر تفسیر حدیث ہے امام مالك و احمد و نسائی نے محجن بن اورع دیلمی    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کی رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :

اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلاۃ فصل مع الناس و ان کنت قد صلیت[3] ۔

جب تو مسجد میں آئے اور نماز پڑھ چکاتھا اور جماعت کھڑی ہوئی تو تو لوگوں کے ساتھ نمازپڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکاتھا۔ (ت)

یہاں یقینا وصلیہ ہے ، مرقاۃ میں ہے :

(فصل) ای نافلۃ لاقضاء ولااعادۃ (مع الناس وان) وصلیۃ ای ولو (کنت قدصلیت[4]۔

(تونماز پڑھ) یعنی نفل نماز نہ قضاء اور نہ اعادہ (لوگوں کے ساتھ اگرچہ) “ ان “ وصلیہ ہے یعنی اگرچہ (تونماز پڑھ چکا تھا)۔ (ت)

ثالثا : صرف “ ان “ کاوصلیہ یاشرطیہ ہونا یہاں احد المعنیین کی تعیین نہیں کرتا تو اس میں بحث فضول اور اس سے استناد نا مقبول مدارضمیر تکن کے مرجع اور ھذہ کے مشارالیہ پر ہے اگرضمیر ثانیہ کے لئے ہے اور اشارہ اولٰی کی طرف کہ وہی اقرب ذکرًا ہے کما قالہ عمرو(جیسا کہ عمرو نے کہا۔ ت) تو اولٰی فرض اور ثانیہ نفل ہوگی اگرچہ “ اِن “ شرطیہ ہو اور عکس ہے توعکس اگرچہ “ اِن “ وصلیہ ہو وھذا ظاھر جدا(اور یہ بہت واضح ہے۔ ت) ۔ اشعہ اللمعات میں ہے :

(وان کنت قدصلیت) و اگرچہ ہستی تو کہ بتحقیق نماز گزارد (تکن لك نافلۃ) باشد نمازیکہ دوم بارمیکنی بامردم نفل مرترا (وھذہ مکتوبۃ) وباشد ایں نماز کہ نخست گزاردہ فرض وایں معنی موافق است بظاہر احادیث کہ دلالت داردبربودن نمازدوم نفل ازجہت سقوط ذمہ بادائے اولٰی[5]۔          

(وان کنت قدصلیت) اگرچہ تونے نماز اداکرلی ہو(تکن لك نافلۃ) دوسری دفعہ لوگوں کے ساتھ جو تونے نماز پڑھی وہ تیری نفل نماز ہوگی (وھذہ مکتوبۃ) اور جوتونے پہلے پڑھی وہ فرض نماز ہوگی اور یہ معنی ومفہوم ان ظاہر احادیث کے موافق ہے جو اس بات پر دال ہے کہ دوسری نماز نفل ہوگی کیونکہ فرضی نماز پہلی نماز اداکرنے سے ساقط ہوگئی ۔ (ت)

پھر طیبی شافعی سے دوسرے معنی نقل کئے ، دیکھو اِنْ شرطیہ لیا اور نماز دوم کو نافلہ قراردیا ، مرقاۃ میں ہے :

(فصل معھم وان کنت قدصلیت) لیحصل لك ثواب الجماعۃ وزیادۃ النافلۃ (تکن) ای صلاتك الاولی (لك نافلۃ وھذہ) ای التی صلیتھا الاٰن قیل ویحتمل العکس (مکتوبۃ[6] )

 (لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تونماز پڑھ چکا ہو) تاکہ تجھے جماعت کاثواب اور نوافل میں اضافہ حاصل ہوجائے ، یعنی تیری پہلی نماز(تیرے لئے نفل اور یہ) یعنی وہ نماز جوتونے ابھی پڑھی ، بعض محدثین نے فرمایا کہ معاملہ میں اس کے عکس کا احتمال ہے(تیرے لئے فرض)۔ (ت)

شرح میں وان کنت قدصلیت کے بعد لیحصل لك الخ لانے سے ظاہر ہے کہ ان وصلہ لیا ورنہ شرط وجزا کے بیچ میں اس کے لانے کاکوئی محل نہ تھا فصل معھم کے بعدلکھتے اور نماز دوم کو فریضہ بتایا ۔

اقول :   ولایبعد ان یکون القدح فی ذھنہٖ اولاماھو الاوفق بالاحادیث و الالصق بالقواعد فجعل ان وصلیۃ ویؤیدہ

اقول :  ممکن ہے ان کے ذہن میں پہلے ہی وہ کھٹکا موجود ہو جو احادیث وقواعد کے موافق ہے تو انہوں نے اِنْ کو وصلیہ بنایا اس کی تائید ان کا

قولہ وزیادۃ النافلۃ وان امکن تاویلہ بان المراد بالنافلۃ ھی الاولی وترتبھا علی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فصل معھم مع وقوعھا سابقا باعتبار وصف نافلیۃ فانہ انما یظھر بصلاتہ معھم فافھم ثم اذا اتی علی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تکن حاد النظر الی حاشیۃ الطیبی فنقل مافیھا واﷲ تعالٰی اعلم۔                                    

قول “ وزیادۃ النافلۃ “ کررہاہے اگرچہ اس کی تاویل یوں بھی ممکن ہے کہ نافلہ سے مراد پہلی نماز ہے انہوں نے حضور علیہ السلام کے ارشاد گرامی فصل معھم(ان کے ساتھ نمازپڑھ) پر اسے مرتب کیا ہو اگرچہ اس کا وقوع باعتبار وصف نفل کے سابق ہے کیونکہ اس نفل نماز کا ظہورجماعت کے ساتھ ہوگا ، اسے یادرکھو ، پھر جب آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے ارشاد گرامی تکن پرآئے تو نظر حاشیہ طیبی کی طرف گئی جو کچھ وہاں تھا اسے نقل کردیا ، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)

عمرو کا قول صحیح اور دلائل زائل اولًا ہم بیان کرچکے کہ اِن کا وصلیہ ہونا کچھ مفید نہ شرطیہ ہونا مضر۔

ثانیًا دخول واؤ وصلیہ ہونے پر کیا دلیل شرطیہ پربھی عاطفہ آتاہے۔

 



[1]   شرح رضی مع الکافیۃ ، بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۵۸ ، ۲۵۷

[2]   صحیح البخاری کتاب اللباس باب الثیاب البیض مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۶۷

[3]   مؤطا امام مالك اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن