دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

ہے کہ لفظ کے لغوی معنی غلطی سے کچھ سے کچھ خیال کرتے ہیں لہٰذا مکلف خدمت ہوں کہ جواب مع دلیل تحریر فرمائیں ، مکرر یہ کہ زیدمحراب کے محاذ میں جماعت ہونے کی فضیلت میں کوئی قول منقول پیش نہیں کرتا محض قیاس سے کام لیناچاہتاہے عمرقیاس کو رَد کرکے منقول دلیل مانگتاہے۔

الجواب :

فی الواقع سنت متوارثہ یہی ہے کہ امام وسط مسجد میں کھڑا ہو اور صف اس طرح ہو کہ امام وسط صف میں رہے محراب کانشان اسی غرض کے لئے وسط مسجد میں بنایاجاتاہے اور اس میں ایك حکمت یہ بھی ہے کہ اگرامام ایك کنارے کی طرف جھکا ہواکھڑا ہو تو اگرجماعت زائد ہے فی الحال امام وسط صف میں نہ ہوگا اور ارشاد حدیث توسطوا الامام(امام کو درمیان میں کھڑا کرو۔ ت) کاخلاف ہوگا اور اگر ابھی جماعت قلیل ہے توآئندہ ایسا ہونے کااندیشہ ہے لاجرم خود امام مذہب سیدامام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کانص ہے کہ گوشہ میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کنارہ مسجد میں کھڑاہونا مکروہ ہے کہ حدیث کاارشاد ہے امام کو وسط میں رکھو یہ طاق جسے اب عرف میں محراب کہتے ہیں حادث ہے زمانہ اقدس وزمانہ خلفائے راشدین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   اجمعین میں نہ تھا محراب حقیقی وہی صدرمقام اس کا مسجد میں قریب حدقبلہ ہے یہ محراب صوری اس کی علامت ہے جس مسجد کے دوحصے ہوں ایك مسقف دوسراصحن ، جیسا کہ اب اکثرمساجد یوں ہی ہیں وہ دومسجدیں ہیں مسقف مسجد شتوی ہے یعنی جاڑوں کی مسجد اور صحن مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی مسجد ، ہرمسجد کے لئے وہ محراب حقیقی موجود ہے ، اگرچہ محراب صوری صرف مسجد شتوی میں ہوتی ہے اعتبار اسی محراب حقیقی کاہے یہاں تك کہ اگرمحراب صوری وسط میں نہ ہو یاجانب مسجد بنادینے سے اب وسط میں نہ رہے توامام اس میں نہ کھڑا ہو بلکہ محراب حقیقی میں کہ وسط مسجد ہے ، اور جب یہ حکم عام ہے جملہ مساجد کوشامل ، اور صحن مسجد بھی ایك مسجد ہے تووہ بھی یقینا اس حکم منصوص میں خود داخل ہے نہ کہ یہاں کسی قیاس کی حاجت ہے ، صحن مسجد میں جوجگہ قریب حد قبلہ وسط میں ہے وہ خود محراب حقیقی ہے خواہ محراب صوری کے محاذی ہو یانہ ہو یاسرے سے اس مسجد میں محراب صوری نہ بنی ہو اس محراب حقیقی میں امام کاکھڑاہونا سنت ہے بشرط جماعت اولٰی ، لیکن جماعت ثانیہ کے لئے اسی مقام سے دہنے یابائیں ہٹ کرامامت کرنا ، نافی کراہت ہے ، معراج الدرایہ شرح ہدایہ میں ہے :

فی مبسوط بکر ،  السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ والاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ قال اکرہ ان یقوم بین الساریتین اوفی زاویۃ اوفی ناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ خلاف عمل الامۃ قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم توسطوا الامام وسدوالخلل[1] ۔

مبسوط بکرمیں ہے امام کا محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں اعتدال ہو ، اگر وہ صف کی کسی جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہوگا ، اگرمسجد صیفی جانب شتوی میں ہو اور مسجد بھرجائے توامام دیوار کی طرف کھڑا ہوتا کہ قوم دونوں اطراف میں برابر ہوجائے ، اصح طور پر امام ا بوحنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں امام کے دوستونوں کے درمیان یاگوشہ مسجد یاکنارہ مسجد یاستون کی طرف کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہوں کیونکہ یہ عمل امت کے مخالف ہے ، حضوراکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کاارشاد گرامی ہے : امام کودرمیان میں کھڑاکرو اور صفوں کے خلا کو پُرکرو۔ (ت)

اسی میں ہے :

المحاریب مانصبت الا اوسط المساجد و ھی قدعینت لمقام الامام[2]۔

محراب نہیں بنائے جاتے مگر درمیان مسجد میں اور وہ مقام امام کومتعین کرتے ہیں ۔ (ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۸۴ :          ازکان پور نئی سڑك مسئولہ حاجی فہیم بخش صاحب عرف چھٹن         ۱۳صفر ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین زید اور عمرو کے بارے میں ، دونوں حنفیت کادعوٰی کرتے ہیں اور ترجمہ حدیث یزید بن عامر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کاجوباب من صلی الصلاۃ مرتین (جس نے نماز دوبارپڑھی۔ ت)

میں ہے حسب ذیل کرتے ہیں زید آخری حصہ حدیث :

اذا جئت الصلٰوۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت کن لك نافلۃ وھذہ مکتوبۃ[3]۔

جب تو نماز کے لئے آیا تو لوگوں کو نماز اداکرتے پایا تو ان کے ساتھ نماز میں شامل ہوجا اگر تونماز پڑھ چکا تو وہ نفلی ہوگی اور یہ فرضی ہوگی۔ (ت)

کا ترجمہ یہ کرتاہے کہ پہلی نماز جو گھر میں پڑھی گئی ہو نفل ہوگی اور جوجماعت کے ساتھ پڑھی جائے وہ فرض ہوجائے گی دلیل یہ ہے : وان کانت قدصلیت تکن لك نافلۃ میں آیاکرتاہے اس کے بعد مستقل جملہ اور کلام مستانف ہواکرتاہے یہاں ایسا نہیں ، عمرو کہتاہے کہ زیدکا یہ ترجمہ مذہب حنفی کے موافق نہیں بلکہ مخالف ہے ، عمرو آخری حصہ حدیث مندرجہ بالا کاترجمہ یوں کرتاہے کہ گھروالی نماز جوپہلے پڑھی ہے وہ فرض ہوگی اور جو بعد میں جماعت سے پڑھی ہے وہ نفل ہوگی ، اس وجہ سے کہ ان وصلیہ ہے ، دلیل یہ ہے کہ وان کنت قدصلیت میں اول واؤ داخل ہے دوسرے کنت موجود ہے جوماضی کے لئے مخصوص ہے اور قد تحقیق ماضی کے لئے نیز ھذہ اسم اشارہ قریب ذکری کے لئے ہے پس قدصلیت سے جوصلوٰۃ مدلول ہے وہ مشارٌ الیہ ہے اور یہ پہلی ہی ہوگی وہ فرض ہوگی اور جوصلوٰۃ فصل معھم سے مدلول وہ بعیدذکرًا ہے وہ مشارٌ الیہ نہیں اگرخود کنت ماضی کو شرط بنایاجائے تو تکن جزاء مرتب کون مخاطب پرنہیں ہے نیز فصل معھم امربھی جواب کوچاہتاہے اور شرط بھی جزا کو علٰی سبیل التسلیم تب بھی تکن لك نافلۃ جواب امر کا ہے جزا نہیں بوجہ مقدم ہونے امر کے جیسے جملہ قسمیہ جب مقدم ہو شرط پرتوجزا نہیں ہوتی بلکہ جواب قسم سے استغنا ہوجاتاہے ان دونوں قائلوں میں کون ساقائل راستی پر ہے نیز اوپربیان کی ہوئی دلیلیں قابل قبول ہیں یانہیں ؟ زید و عمرو کی دلیلوں میں سے کس کی دلیلیں زیادہ صحت کے ساتھ مانی جاسکتی ہیں اور قبول کی جاسکتی ہیں ؟ دیگرجونماز رکوع وسجود والی علاوہ مجرد عصرومغرب جماعت سے پڑھی یاپڑھائی ہو عام ہے کہ نماز عید وجمعہ ہی کیوں نہ ہو دوبارہ جماعت ملنے پرنفلًا تکرارنماز کرسکتاہے یانہیں ؟ اگراوپر بیان کی ہوئی حدیث سے تکرار نماز پر اس طور سے کہ پہلے پڑھی ہوئی نماز فرض یاواجب اقتدا یاامامت کرکے دوسری جماعت دوسرے روز ملنے پرتکرار نماز کرسکتاہے اور وہ نفل ہوگی استدلال لایاجائے تو صحیح ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا رحمکم اﷲ تعالٰی۔

الجواب :

زید کا قول غلط اور دلیل باطل

اولًا :  ان وصلیہ کاآخر کلام ہی میں آنا اور اس کے بعد جملہ اور وہ بھی کلام مستانف ہی ہونا سب باطل وبے اصل ہے وہ کلام واحد کے وسط اجزا میں آتاہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

قولہ تعالٰی وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ(۱۰۳)[4]۔

اﷲتعالٰی کا ارشاد ہے اگرچہ آپ (ایمان پر) حریص ہیں مگر اکثرلوگ ایمان نہ لائیں گے۔ (ت)

رضی میں ہے :

 



[1]   ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰

[2]   ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰

[3]   سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵

[4]   القرآن ۱۲ / ۱۰۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن