30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فیہ اجماعا[1] فلیتامل اقول : انما نشأ الاشکال من حملہ علی مسئلۃ التکرار وقد علمت ان لم یقصدوھا وانما انکرواتعمد التفریق وھو محظور قطعا ولوفی مسجد شارع فالعجٍب من السیّد العلامۃ المحقق المحشی یورد علی مسئلۃ التکرار مالاورودلہ علیھا ثم یستشکل ھذا الوارد بمالااشکال بہ اصلا ولکن لکل جواد کبوۃ نسأل اﷲ سبحٰنہ عفوہ۔
ثم اقول : واشد العجب من العلامۃ الشیخ رحمۃ اﷲ رحمۃ اﷲ تعالی حیث قال الاحتیاط فی عدم الاقتداء بہ “ ای بالمخالف “ ولومرا عیا [2] کما سینقلہ المحشی عنہ ثم قال ھھنا بکراھۃ ترتیب الجماعۃ وادعی الاتفاق علی خلاف ماعلیہ الجمہورولیت شعری اذاکان ھذا مکروھا وفاقا فکیف یعمل بالاحتیاط الذی اعترفتم بہ ایجعل الناس کلھم علی مذھب واحد ام یسکن مقلدوا کل امام فی بلدہ علیحدۃ اویجعل لکل منھم مسجد بحیالہ ویمنع
میں مزید غورکرناچاہئے اقول : (میں کہتاہوں ) یہ اشکال تب ہے جب اس کو مسئلہ تکرارپرمحمول کیاجائے حالانکہ آپ جان چکے وہ ان کے یہاں مقصود نہیں ، انہوں نے دانستہ تفریق سے انکارکیا ہے اور وہ یقینا ممنوع ہے اگرچہ مسجد شارع ہی کیوں نہ ہو توتعجب ہے علامہ محقق محشی پرکہ انہوں نے اسے مسئلہ تکرار پرمحمول کیا حالانکہ اس کایہ محل نہیں ہے پھر اس حمل پرمبنی ایسااشکال بنالیا جس سے کوئی اشکال پیداہی نہ ہوسکتاتھا لیکن ہرشاہسوار کے لئے ٹھوکرہوتی ہے ہم اﷲ تعالٰی سے اس پر ان کے لئے معافی کے طلبگار ہیں
ثم اقول : (پھرمیں کہتاہوں ) سب سے زیادہ تعجب علامہ شیخ سندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پرکہ انہوں نے یہ فرمایاہے “ مخالف کی اقتداء نہ کرنے میں احتیاط ہے اگرچہ وہ رعایت کرتاہو “ جیسا کہ محشی عنقریب اس کو ان سے نقل کرے گا ، پھریہاں کہا کہ ترتیب جماعت مکروہ ہے اور جمہور کے مؤقف کے خلاف اتفاق کادعوٰی کیا ، افسوس صدافسوس اگریہ عمل بالاتفاق مکروہ ہے تو اس احتیاط پرعمل کیسے ہوگا جس کا تم نے خود اعتراف کیاہے ، کیا تمام لوگ ایك مذہب کے ہوجائیں گے یاہرشہر میں ہرمذہب کے مقلدین الگ الگ آباد ہوں گے ، یا ہرمذہب کی الگ الگ مسجد بنائی جائے گی ، اور ان
اھل ثلثۃ مذاھب عن الصلاۃ فی المسجدین الکریمین اوتجعل الجماعۃ لمذھب واحد ویؤمرالباقون بالصلاۃ فرادی ،
ثم اقول : ویرد مثلہ علی تقریر العلامۃ خیرالملۃ والدین الرملی رحمہ اﷲ تعالٰی لما مروھوالناقل کماسیأتی حاشیۃ عن العلامۃ الرملی الشافعی انہ مشی علی کراھۃ الاقتداء بالمخالف حیث امکنہ غیرہ وبہ افتی الرملی الکبیر واعتمدہ السبکی والاسنوی وغیرھماقال والحاصل ان عندھم فی ذلك اختلافا وکل ماکان لھم علۃ فی الاقتداء بناصحۃ وفسادا و افضلیۃ کان لنامثلہ علیھم وقدسمعت مااعتمدہ الرملی و افتی بہ والفقیر اقول مثل قولہ فیما یتعلق باقتداء الحنفی بالشافعی والفقیہ المنصف یسلم ذلك ؎
وانا رملی فقہ الحنفی
لامر ابعد اتفاق عالمین[3] ١ھ
فاذا کان الفقہ والانصاف ھوکراھۃ الاقتداء بالمخالف فکیف ینکر علی مافعلہ اھل الحرمین لاجرم رجع العلامۃ
دومبارك مساجد سے بقیہ تین مذاہب کے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے روك دیاجائے گا یا ایك مذہب والوں کی جماعت ہوگی اور دوسرے لوگوں کو تنہا نماز اداکرنے کوکہاجائے گا ،
ثم اقول : (پھر میں کہتاہوں ) اسی طرح کااعتراض علامہ خیرالملت و الدین رملی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پربھی وارد ہوتاہے جیسا کہ گزرا وہی ناقل ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا حاشیہ علامہ رملی شافعی سے ہے کہ جب مخالف کے علاوہ کسی امام کوپانا ممکن ہو تو مخالف کی اقتداء مکروہ ہے ، اسی پر رملی کبیر نے فتوٰی دیا ، سبکی اور اسنوی وغیرہ نے اس پراعتماد کیا ہے کہا ، الحاصل ، ان کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے اور ہروہ علت جس کی بنا پر ہماری اقتداء ان کے لئے صحیح ، فاسد یا افضل ہے ایسا ہی معاملہ ہمارا ان کے ساتھ ہے اور آپ نے وہ سن ہی لیا ہے جس پر رملی نے اعتماد کیا اور فتوٰی دیا ہے میں فقیر انہی کی مثل کہتاہوں اس مسئلہ میں جہاں حنفی کسی شافعی کی اقتداء کرے انصاف پسند فقیہ اسے تسلیم کرے گا ؎
اور میں فقہ حنفی کا رملی ہوں (رملی شافعی اور رملی حنفی)
دونوں عالموں کے اتفاق کے بعد کوئی جھگڑانہیں ہے۔
پس جب دانش وانصاف کافیصلہ مخالف کی اقتدا کامکروہ ہوناہے تو اہل حرمین کے عمل پر انکار کیسے کیاجاسکتاہے یقینا علامہ خیرالدین رملی نے شرح
نفسہ فی حاشیتہ علی شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی والمتن للامام ابن الہمام الی موافقۃ الجمہورفقال کمانقلہ فی منحۃ الخالق علی البحرالرائق بقی الکلام فی الافضل ماھو الاقتداء بہ اوالانفراد لم ارمن صرح بہ من علمائناوظاہر کلامھم الثانی ، والذی یظھرو یحسن عندی الاول لان فی الثانی ترك الجماعۃ حیث لاتحصل الابہ ولولم یکن بان کان ھناك حنفی یقتدی بہ الافضل الاقتداء [4] بہ الخ فقداعترف ان الافضل الاقتداء بالحنفی اذا وجد وان کان الشافعی الذی یؤم صالحا عالما تقیا نقیا یراعی الخلاف کما وصفہ فی تلك الحاشیۃ
زاد الفقیر علامہ غزی جس کا متن امام ابن ہمام کاہے کے حاشیہ میں رجوع کرکے جمہور کے ساتھ موافقت کی اور کہا جیسا کہ اسے منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں نقل کیاہے ، باقی رہا معاملہ اس بات کا کہ مخالف کی اقتدا افضل ہے یاانفراد ، تو اس بارے میں ہمارے علماء میں سے کسی کی تصریح میری نظر سے نہیں گزری ، بظاہر ان کی عبارات سے دوسری بات (انفراد کاافضل ہونا) ہی سمجھ آتی ہے اور جومیرے نزدیك واضح واحسن ہے وہ پہلی بات (اقتدائے مخالف) ہے کیونکہ دوسری صورت میں ایسی جگہ ترك جماعت لازم آئے گا جہاں اس کے بغیر جماعت حاصل نہیں ہوتی اور اگرایسی صورت نہ ہو مثلًا وہاں کسی حنفی کی اقتداء کی جاسکتی ہے تو اقتدائے حنفی ہی افضل ہوگی الخ تویہاں انہوں نے خود اس بات کااعتراف کرلیا ہے کہ اگرحنفی امام موجود ہو تو اسی کی اقتداء افضل ہے اگرچہ شافعی امام صالح ، متقی ، صاحب ورع اور اختلافی صورت میں حنفی مذہب کی رعایت کرنے والا موجود ہوجیسا کہ اسی حاشیہ میں اس کے اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔ (ت)
یہ تمام عبارات تعلیقات فقیر علی ردالمحتار کی ہے اور بحمداﷲ تعالٰی اس سے حق واضح وجلی ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۸۳ : ازسنبھل ضلع مرادآباد مرسلہ از سید محمد علی مدرس فارسی مدرسہ جارج مسلم اسکول
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید کہتاہے کہ مسجد کے فرش پرمحراب کے محاذ میں جماعت ہونا افضل ہے خواہ نمازی کم ہو ، خواہ کسی درخت وغیرہ کے ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی طبیعت پربارہو اور دلیل اس کی یہ ہے کہ شامی کے اندر یہ مضمون ظاہرکرتاہے کہ محراب میں امام کاکھڑاہونا افضل ہے اسی پرقیاس کرلیاجائے ، عمریہ کہتاہے کہ تمام فرش مسجد کا ایك حکم میں ہے ، کسی جگہ کے واسطے فضیلت نہیں ہوسکتی ، اگر اس قدرنمازی ہوں کہ محراب سے راست وچَپ میں جماعت ممکن ہو اور نمازیوں کوبھی وہاں آسائش ہو تو ضرور جماعت کرلی جائے دوسرے یہ کہ ائمہ مجتہدین کے قیاسات کااختتام ہوگیا ، علمائے حال کاقیاس کیاہوسکتاہے جبکہ علمائے حال کی یہ کیفیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع