دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

صح ان رجلا دخل المسجد وقد صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصحابہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من یتصدق علی ھذافیصلی معہ فقام رجل من القوم فصلی معہ[1] رواہ احمد وابو داؤد والترمذی وابوبکر بن ابی شیبۃ والدارمی وابویعلی وابن خزیمۃ وابن حبان وسعید بن منصور والحاکم کلھم عن                                               

کیا کوئی قائل یہ کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے مضمون میں اس مفہوم پردلیل ہے؟ اور یہ اس لئے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ یہاں جماعت سے مراد جماعت اولٰی عینی ہے بلکہ ہم اسے مطلق جماعت پرمحمول کرتے ہیں اور ایك گروہ سے جماعت تب فوت ہوگی جب انہیں تکرار جماعت سے منع کیا ہو ، لہٰذا اس سے استدلال ممانعت تکرار کے اثبات پرموقوف ہوگا ، تو یہاں مصادرت علی المطلوب عود کرے گی ، اور بخاری نے اپنی صحیحمیں حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہی سے روایت کی ہے کہ وہ مسجد میں آئے حالانکہ جماعت ہوچکی تھی تو انہوں نے اذان دی تکبیر کہی اور جماعت کرائی۱ھ توتنہا نہ ہونے کی صورت میں ان کی جماعت فوت نہ ہوئی اور یہ بھی ثابت ہے کہ ایك شخص مسجد میں آیا حالانکہ حضورعلیہ السلام نے صحابہ کو جماعت کرادی تھی ، توآپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا اس پر کون صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا؟ توایك شخص کھڑا ہوا او ر اس کے ساتھ نماز ادا کی ، اس کو مسند ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، دارمی ، ابویعلی ، ابن خزیمہ ، ابن حبان ، سعید بن منصور اور حاکم ان سب نے حضرت ابوسعید خدری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ،

ابی سعید الخدری والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن عصمۃ بن مالك و ابن ابی شیبۃ عن الحسن البصری مرسلا عبدالرزاق فی مصنّفہ وسعید بن منصور فی سننہ عن ابی عثمن النھدی مرسلا ایضا وفی الباب عن ابی موسی الاشعری والحکم بن عمیر کما فی الترمذی رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین وفی بعضھا ان ذلك المتصدق علی الرجل ابوبکر ن الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنھما قولہ ولان فی الاطلاق ھکذا تقلیل الجماعۃ معنی فانھم لایجتمعون اذا علموا انھا لاتفوتھم[2]۔

اقول :   لسنانبیح تعمد ترك الجماعۃ الاولی اتکالا علی الاخری فمن سمع منادی اﷲ ینادی ولم یجب بلاعذر اثم وعزرفاین الاطلاق وانما نقول فیمن غابوا فحضروا اوکانوا مشتغلین بنحو الاکل تاقت الیہ انفسھم او التخلی وغیرذلك من الاعذار فتخلفھم عن الاولی قدکان باذن الشرع فعلی مایعاقبون بحرمان الجماعۃ وفیم تودی الی التقلیل وقد اثبتنا فی رسالتنا         

اورطبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ اور حضرت عصمہ بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا سے ، اور ابن ابی شیبہ نے حضرت امام حسن بصری سے مرسلًا روایت کیاہے ، عبد الرزاق نے مصنف اور سعید بن منصور نے سنن میں ابوعثمان النہدی سے بھی مرسلًا روایت کیاہے۔ اس باب میں حضرت ا بوموسٰی اشعری اور حکم بن عمیر سے بھی روایت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اور بعض روایات میں ہے کہ وہ صدقہ کرنے والے حضرت سیّدنا ابوبکرصدیق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تھے قولہ کیونکہ ایسے اطلاق سے تقلیل جماعت کامعنی پایاجاتاہے اس لئے کہ وہ جب جان لیں کہ جماعت فوت نہ ہوگی توجمع نہ ہوں گے۔

اقول : ( میں کہتاہوں ) ہم جماعت اولٰی کے عمدًا ترك کو دوسری جماعت پربھروسا کی بناء پر مباح نہیں رکھتے اور جس شخص نے بھی اﷲتعالٰی کی طرف سے بلاواسُنااور اس نے اسے قبول نہ کیا وہ گنہگار ہوگا اور وہ قابل تعزیر ہے تو یہاں اطلاق کہاں ہے ، ہم تو ان لوگوں کی بات کررہے ہیں جو موجود نہ تھے اب آئے یا وہ کسی معاملہ میں مشغول تھے مثلًا سخت بھوك کی وجہ سے کھاناکھارہے تھے یارفع حاجت کے لئے گئے تھے یا اس جیسے دوسرے اعذار ہوں تو اب ایسے لوگوں کا پہلی جماعت سے رہ جانا باجازت شرع ہوگا ، اب ان پرجماعت سے

 “ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ ان الواجب ھی الجماعۃ الاولی عینا ،  فاذا علموا انھم لولم یحضروا فاتھم الواجب فکیف لایجتمعون ،  اما الکسالی وقلیل المبالاۃ فلا یجتمعون وان علموا انھم تفوتھم الاولٰی و الاخری جمیعا الاتری ان عــــہ بعض العصریین ممن یدعی العلم والدین قدشدد فی ذلك تشدید ابلیغا وزعم ان تکرار الجماعۃ معصیۃ مطلقا فتبعہ بعض عوام تلك البلاد فی ترك تکرار الجماعۃ ولم یتبعوہ فی اتیان الاولی فتری فوجامن الاحابیش یاتون بعد الجماعۃ فیصلون معا فرادی فیزیدون مشابھۃ بالروافض واﷲ المستعان  ۔

قولہ ویؤیدہ مافی الظھیریۃ لودخل جماعۃ المسجد بعدماصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا و ھوظاھر الروایۃ ١ھ وھذا مخالف لحکایۃ الاجماع المارۃ[3]

محروم ہونے کی وجہ سے کیونکر ملامت کی جاسکتی ہے اور انہیں تقلیل جماعت کا سبب کیوں قرار دیاجائے؟ ہم نے رسالے “ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ میں ثابت کیا ہے کہ واجب عینی جماعت اولٰی ہی ہے پس جب انہوں نے جانا اگروہ حاضر نہ ہوئے تو واجب فوت ہوجائے گا تووہ جمع کیسے نہ ہوں ؟ رہا معاملہ سستی اور لاپروائی کرنے والوں کا ، وہ جمع نہیں ہوں گے خواہ انہیں علم ہو کہ ہماری پہلی اور دوسری جماعت فوت ہوجائے گی کیا آپ کے علم میں نہیں کہ بعض معاصرین جوعلم ودین کادعوٰی کرتے ہیں انہوں نے اس میں بہت زیادہ تشدید کی اور کہا کہ تکرارجماعت ہرحال میں معصیت وگناہ ہے اور ان کے علاقے میں کچھ عام لوگوں نے تکرارجماعت کے ترك میں اس کا اتباع کیا حالانکہ وہ پہلی جماعت کے درپے نہیں ہوئے آپ متعدد گروپوں کوملاحظہ کریں گے کہ وہ جماعت کے بعد آتے ہیں وہ ایك ہی مقام پر تنہاتنہا نماز اداکرتے ہیں تو اس عمل سے روافض کے ساتھ مشابہت میں اضافہ کرتے ہیں اور اﷲ ہی مدد کرنے والا ہے قولہ اور اس کی تائید ظہیریہ کی یہ عبارت کرتی ہے اگرکوئی جماعت مسجد میں داخل ہوئی حالانکہ اہل محلہ نے جماعت کرالی تھی تووہ تنہا نماز اداکرلیں ، اور یہ ظاہر روایت ہے۱ھ اور یہ بات سابقہ منقول اجماع کے خلاف ہے

 

عـــہوھو رشید احمد گنگوھی ۱۲(م)

اقول :   لاتائید ولاخلاف فان یصلون لیس نصافی الایجاب ومن تتبع ابواب صفۃ الصلاۃ والحج من ای کتاب شاء وجد قناطیر مقنطرۃ من صیغ الاخبار واردۃ فیما لیس بواجب بل ولاسنۃ انما اقصاہ الندب ،  وقد قال فی البحر الرائق والطحطاوی فی حاشیۃ الدر ان ذلك ای دلالۃ الاخبار علی الوجوب فیما اذا صدرمن الشارع اما من الفقھاء فلایدل ھو ولا الامر منھم علی الوجوب کما وقع لمحمد حیث ،  قال فی صفۃ الصلاۃ افترش رجلہ الیسری ووضع یدہ وامثال ذلك کثیرۃ ١ھ ولست انکرانہ کثیرا مایجیئ للوجوب کمابیناہ فی کتابنا “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ وانما ارید ان المحتمل لایقضی علی المفسر فکیف یرد بہ الاجماع المتظافر علی نقلہ المعتمدات بل کیف یصح ان یحمل علی مایصیر بہ مخالف للاجماع ولوکان کذا لکان ھو احق بالرد من الاجماع اذ الحاکی الواحد عن                          

اقول :  (میں کہتاہوں یہاں نہ تائید ہے نہ ہی مخالفت ، کیونکہ لفظ “ یصلون “ سے صراحۃً ایجاب ثابت نہیں ہوتا اور جس نے بھی کسی کتاب کے ابواب صفۃ صلوٰۃ وحج کامطالعہ کیا ہے وہ بہت س)ے الفاظ خبر کا ذخیرہ پائے گا جو ایسی جگہ وارد ہیں جو واجب بلکہ سنت بھی نہیں ، ہاں زیادہ سے زیادہ مستحب کے درجے میں ہوتے ہیں ، بحرالرائق میں ہے اور طحطاوی نے حاشیہ در میں کہا ہے جملہ خبریہ کی دلالت وجوب پر اس وقت ہوتی ہے جب وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہو ، اور اگروہ فقہاء کرام سے منقول ہو تو اس جملہ خبریہ بلکہ فقہاء کے امر کی بھی وجوب پردلالۃ نہیں ہوتی جیسا کہ امام محمد سے واقع ہے انہوں نے صفۃ صلوٰۃ میں فرمایا نمازی بایاں پاؤں بچھائے اور ہاتھ رکھ دے اور اس پر متعدد مثالیں شاہد ہیں ۱ھ اور میں اس بات کامنکر نہیں کہ بہت سے مقامات پرمفید وجوب بھی ہیں جس طرح ہم نے اس کی تفصیل گفتگو “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ می

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن