دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

اگر کسی مسئلہ کاذکر متون میں ہوا اور اس کی تصحیح کی تصریح فقہا نے نہ کی ہو بلکہ اس کے مقابل کی تصحیح کی ہو توایسی صورت میں علامہ قاسم کے نزدیك دوسرے کوترجیح ہوگی کیونکہ تصحیح پر تصریح ہے اور متون میں تصحیح الزامی ہو اور تصحیح صریح تصحیح الزامی پرمقدم ہوتی ہے یہاں تصحیح التزامی سے مراد یہ ہے کہ متون نے یہ الزام کیاہوتاہے کہ ہم وہی ذکرکریں گے جومذہب میں صحیح قول ہوگا۔ (ت)

اب رہیں بعض تعلیلات ، اول توبعد تصحیح ائمہ ترجیح ہمیں نظر فی الدلیل کی حاجت نہیں ، نہ وہ ہمارا منصب ، پھربعونہٖ تعالٰی اس کاحال ملاحظہ تعلیقات سے واضح ہوگا جوفقیر نے کتاب مستطاب ردالمحتار پرلکھیں اسعا فاللمرام اس مقام سے اس کی نقل مسطور ،

قولہ ولنا انہ علیہ الصلاۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم فعاد الی المسجد وقدصلی اھل المسجد فرجع الی منزلہ فجمع اھلہ وصلی ولوجاز ذلك لما اختار الصلاۃ فی بیتہ علی الجماعۃ فی المسجد[1]۔

اقول :  اولًا لایتعین ھذا سببا لذلك فان فی اعادتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجماعۃ فی المسجد کان ایھام انہ لم یرض بجماعۃ القوم فلعلہ اراد دفع ذلك الوھم وتاکید تقریرھم علی مافعلوا۔

وثانیًا :  لعل الباقی من اھلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم للجماعۃ النساء الطاھرات وحدھن فاحب الجماعۃ ولم یحب ان یخرجھن وحدھن للجماعۃ للمسجد وعسی ان یراہ الناس ممن قدصلوا فیحبوا اعادۃ الصلوۃ خلفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اویجییئ بعض من لم یصل بعد فیقفوا خلفھن فتفسد صلاتھم۔                               

قولہ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض لوگوں کے درمیان صلح کے لئے تشریف لے گئے جب آپ مسجد میں واپس آئے تو اہل مسجد نے نماز ادا کرلی تھی تو آپ گھرتشریف لائے آپ نے اپنے اہل کو جمع کیا اور نماز ادا کی اگرتکرار جماعت جائز ہوتا تو آپ مسجد میں جماعت پرگھر کی جماعت کواختیار نہ فرماتے(ت)

اقول : (میں کہتاہوں ) (۱) تکرار جماعت کے ناجائز ہونے کے لئے اس کو سبب قراردینا متعین نہیں بلکہ اس کی وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ آپ مسجد میں جماعت کااعادہ فرماتے تو یہ وہم ہوتا کہ آپ نے لوگوں کی جماعت کو پسند نہیں کیا ، تو ممکن ہے آپ نے اس وہم کے ازالے اور لوگوں کی جماعت کو صحیح قراردینے کے لئے ایسا کیاہو۔ (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی صرف ازواج مطہرات ہی جماعت سے باقی رہ گئی ہوں آپ نے گھر میں ہی جماعت کوپسندفرمایا اور مسجد میں صرف ان کی جماعت کے لئے ان کو نکالنا پسند نہ فرمایا ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز اداکرلینے والے آپ کو دیکھ کر آپ کے پیچھے نماز کااعادہ پسند کریں یابعض لوگ پہلی جماعت میں شرکت نہ کرسکے تھے اب آئے تو ان خواتین کے پیچھے کھڑے ہوگئے تو اس صورت میں ان کی نماز فاسد ہوجائے گی۔

وثالث من فاتتہ الجماعۃ وحدہ فھو مخیرفی الانفراد واتباع الجماعات وان یاتی اھلہ فیجمع بھم کما نص علیہ فی الخانیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقدنصوا کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الاصح انہ لوجمع باھلہ لایکرہ وینال فضیلۃ الجماعۃ لکن جماعۃ المسجد افضل [2] ١ھ وقد کان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ربما یترك الافضل لبیان الجواز وکان حینئذ ھوالافضل فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما فیہ من التبلیغ المبعوث لہ من عند ربہ عزوجل فکیف یسلم قولہ ولوجاز ذلك لما اختار۔

وفیہ رابعًا :  مایفیدہ العلامۃ المحشی ان قد انعقد الاجماع بلانزاع علی جواز اعادۃ الجماعۃ فی المسجد العام بل صرحوا قاطبۃ انہ الافضل ومعلوم قطعا ان مسجدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس مسجد محلۃ فلوتم ھذا الاستدلال لصادم الاجماع واتی بتحریم مالیس فی حلہ بل ولافضلہ محل نزاع۔                   

(۳) جب تنہاآدمی جماعت سے رہ جائے تو اب اسے اختیار ہے کہ وہ تنہا نماز اداکرے یاجماعت کے ساتھ کہ وہ گھرچلاجائے اور اپنے اہل کو اکٹھا کرکے نماز پڑھے ، اس پر خانیہ ، بزازیہ وغیرہا میں تصریح ہے ، ردالمحتار وغیرہ میں یہ تصریح ہے اگر اس نے اپنے اہل کو جمع کرکے نماز ادا کی تو کراہت نہیں بلکہ جماعت کاثواب پائے گا ، البتہ مسجد کی جماعت افضل ہے ۱ھ ، اور بعض اوقات سرورعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  بیان جواز کے لئے افضل کوترك فرمادیتے تھے اور اس صورت میں آپ کے حق میں وہ بیان جوازہی افضل ہوگا کیونکہ اس میں احکام خداوندی کی تبلیغ (جس کے لئے اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں )ہے ان کایہ قول “ ولوجاز ذلك لمااختار “ کیسے درست ہوگا۔

(۴) جوعلامہ محشی نے کہا ہے کہ اس بات پراجماع کے انعقاد میں کوئی نزاع نہیں کہ مسجد عام میں اعادہ جماعت جائز ہے بلکہ واضح تصریح کی ہے کہ یہ افضل عمل ہے اور یہ بھی قطعًا معلوم ہے کہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی مسجد مبارکہ مسجد محلہ نہیں ، اگرمعترض کایہ استدلال درست ہو تو یہ اجماع سے ٹکرائے گا اور ایسی چیز کو حرام قراردینا ہوگا جس کے حلال بلکہ اس کے افضل ہونے میں کوئی محل نزاع نہیں ۔

اقول :   ومثلہ فی الضعیف بل اضعف ماقدم فی الاذان من الاستدلال بماروی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عہ ان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوا اذا فاتتھم الجماعۃ فی المسجد صلوا فی المسجد فرادی[3]  ، فانہ لیس فیہ ان الجماعۃ کانت تفوت جماعۃ منھم معاف کانوایصلون فی المسجد فرادی مجتمعین وحاش ﷲ متی عھد ھذا من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی منھم وانما کانت تفوت نادرا واحدا بعد واحد منھم ولادلالۃ بصیغ الجمع علی القرآن فی الفعل ، فان معناہ انھم کانواکل من فاتتہ الجماعۃ صلی فی المسجد منفردًاولم یکونوا یتتبعون المساجدنفیاللحرج فکان کقول انس ایضا صلیت خلف النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابی بکر وعمر وعثمان فکانوا یستفتحو ان القرأۃ بالحمدﷲ رب العٰلمن رواہ احمد ومسلم[4]                               

اقول :  (میں کہتاہوں ) اس کی طرح ضعیف ب لکہ اضعف ہے وہ استدلال جو اذان کی بحث میں اس حدیث کے حوالے سے گزرا جو حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ جب اصحاب رسول   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی مسجد میں جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نمازادا کرتے تھے کیونکہ اس میں یہ ہرگز نہیں کہ اگرصحابہ کے ایك گروہ کی معاجماعت فوت ہوجاتی تو وہ سب مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے حاشا ﷲ ایسی بات صحابہ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  سے ثابت نہیں البتہ نادرا کسی ایك صحابی کی کسی ایك وقت کی جماعت رہ جاتی تھی گروہ کی نہیں ، اور جمع کے صیغہ کی قران فی الفعل پر کوئی دلالت نہیں کہ ایك سے زیادہ افراد مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگران میں سے کسی کی جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نماز اداکرلیتا اور نفی حرج کی وجہ سے دیگرمساجد کی طرف نہ جاتے تھے یہ حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے اس قول کی طرح بھی ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ، ابوبکر ، عمر اور عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے تو وہ الحمدﷲ رب العالمین سے قرأت کی ابتداء کرتے تھے ، اسے احمداور مسلم نے روایت کیاہے

ھل لقائل ان یقول ان فی نفس الحدیث دلیلا علی ھذا المعنی وذلك انا لانسلم ان المراد بالجماعۃ الجماعۃ الاولی عینا بل نجریھا ھی علی ارسالھاوالجماعۃ لاتفوت الجماعۃ الاان یمنعوا عن تکرارھا ،  فیتوقف الاستدلال بہ علی اثبات ممانعۃ التکرارفیعودمصادرۃ علی المطلوب وقدذکرالبخاری فی صحیحہ عن انس نفسہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ جاء الی مسجد قدصلی فاذن واقام وصلی جماعۃ[5] ١ھ فلم تفتہ الجماعۃ اذلم یکن وحدہ و



[1]   ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹

[2]   ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۲

[3]   ردالمحتار باب الاذان  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱

[4]   مسند احمد بن حنبل  مروی ازمسند انس بن مالك  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۲۳

[5]   صحیح البخاری باب فضل صلوٰۃ الجماعۃالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن