30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے عقل ونقل کے قاعدہ متفق علیہا سے واجب ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف ردکریں نہ کہ محکم کو محتمل سے رد کریں تو عبارت ظہیریہ سے ردنقول متظافرہ اجماع ناممکن ہے بلکہ اگروہ دوسرے معنی صحیح نہ رکھتی نہ اصلا محتمل بلکہ خلاف اجماع میں نص مفسر ہوتی تو حسب قاعدہ قاطعیہ نقول عامہ کے خلاف خود ہی بوجہ غرابت نامقبول ٹھہرتی نہ کہ بالعکس ، ردالمحتار باب سجود التلاوۃ میں ہے :
ھذا عزاہ فی البحر الی المضمرات و قال ان الثانی غریب ١ھ وجہ غرابتہ انہ انفرد بذکرہ صاحب الظھیریۃ ولذا عزاہ من بعدہ الیہا فقط[1]۔
اس کی نسبت بحر میں المضمرات کی طرف کی ہے اور کہا دوسرانادر ہے ۱ھ نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صرف صاحب ظہیریہ ہی نے ذکر کیاہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد والوں نے اس کی نسبت صرف ان کی طرف ہی کی ہے۱ھ(ت)
اسی کے باب المیاہ مسئلہ اعتبار عمق میں ہے :
قولہ فی الاصح ذکرہ فی المجتبی والتمر تاشی والایضاح والمبتغی وعزاہ فی القنیۃ الی شرح صدر القضاۃ وجمع التفاریق وھو متوغل فی الاعراب مخالف لما اطلقہ جمہورالاصحاب کما فی شرح الوھبانیۃ[2]۔
قولہ فی الاصح اسے مجبتی ، تمرتاشی ، ایضاح اور مبتغی نے ذکر کیا ، قنیہ میں اس کی نسبت شرح صدرالقضاۃ اور جمع التفاریق کی طرف کی ہے ، شرح الوہبانیہ کے مطابق جمہور کے اطلاق کی مخالفت کی وجہ سے یہ اغراب میں ڈوبا ہو ا ہے(ت)
پھر جبکہ بحال اعادہ اذان اصل مذہب وظاہرالروایۃ کراہت تحریم تھی ،
لما فی ردالمحتار قولہ ویکرہ ای تحریما لقول الکافی لایجوز والمجمع لایباح[3]۔
ردالمحتار میں وقولہ ویکرہ یعنی تحریمی مراد ہے کیونکہ صاحب کافی نے کہا یہ جائز نہیں ، اور مجمع میں ہے یہ مباح نہیں (ت)
اور بے اذان ثانی جواز وعدم کراہت پراجماع تو اب اس میں اختلاف ہوا کہ آیا یہ جوازواباحت محض خالص ہے یاکہیں کراہت تنزیہ سے بھی جامع ، امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت آئی کہ محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے :
فان المکروہ تنزیھا من قسم المباح کما فی رد المحتار وحققناہ فی جمل مجلیۃ۔
کیونکہ مکروہ تنزیہی قسم مباح ہی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور ہم نے اس کی تحقیق “ جمل مجلیہ “ میں کی ہے(ت)
اس باب میں امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت آئی کہ محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے اور اس سے ہٹ کر اصلًا کراہت نہیں ، ائمہ ترجیح نے اسی کی تصحیح کی ولوالجیہ و وجیزکردری و تاتارخانیہ و غنیہ وغیرہا میں اسی کو ھوالصحیح وبہ ناخذ (صحیح یہی ہے اورا سی کو ہم نے اختیار کیاہے۔ ت) فرمایا ، بحمداﷲ تعالٰی اس تقریر منیر وتوفیق وتحقیق سے واضح ہوا کہ نہ یہ تصحیحیں ظاہرالروایہ کے خلاف ہیں نہ ظاہرالروایہ کی حکایت اجماع کے خلاف ، اور مسئلے میں قول منقح یہ نکلا کہ مسجد محلہ میں بشرائط مذکورہ (جن کے محترزات کی تفصیل جمیل فتاوٰی فقیر میں مذکور ہے) باعادہ اذان جماعت ثانیہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے یہی ظاہرالروایہ ومذہب امام ہے اور بے اذان ثانی بلاشبہہ جائزاس پر خود اتفاق واجماع ائمہ ہے مگر محراب میں بکراہت اور اس سے ہٹ کر خالص مباح بلاکراہت ، یہی صحیح وماخوذ ومعتمد ہے اب شبہہ اصل سے منقطع ہوگیا اور بالفرض اگربراہ تنزّل مان بھی لیں کہ ائمہ نے خلاف ظاہر الروایہ کی تصحیحیں فرمائیں تو ہم پرلازم کہ انہیں کااتباع کریں ، ظاہر الروایہ کی ترجیح اس وقت ہے کہ اس کے خلاف پرتصحیحح صریح نہ ہوچکی ہو ورنہ ترجیح ضمنی تصریح تصحیح کے معارض نہ ہوسکے گی اور اسی تصحیح تصریح کا اتباع ہوگا۔ درمختار میں ہے :
امانحن فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتوافی حیاتھم[4]۔
ہمارے لئے اس قول کی اتباع وپیروی لازم ہے جسے فقہانے ترجیح دی اور تصحیح کی جیسے اس صورت میں ہم پر ان کی پیروی لازم تھی کہ اگروہ ہمارے زمانے میں زندہ ہوتے اور فتوٰی دیتے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ترجیح ضمنی لکل ماکان ظاھرالروایۃ فلایعدل عنہ بلاترجیح صریح لمقابلہ[5]۔
ہر ظاہر روایت کو ترجیح ضمنی حاصل ہوتی ہے پھر جب تك اس کے مقابل صریح ترجیح نہ ہو اس سے عدول نہیں کیاجاسکتا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
اذا ذیلت روایۃ بالصحیح اولماخوذ بہ لم یفت بمخالفہ[6] مختصرا۔
جب روایت کے بعد صحیح یاماخوذبہ لکھا ہوا ہو تو اس کے مخالف فتوٰی نہیں دیاجاسکتا ۱ھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا کان التصحیح بصیغۃ تقتضی قصرالصحۃ علی تلك الروایۃ فقط کالصحیح والماخوذ بہ ونحوھما مما یفید ضعف الروایۃ المخالفۃ لم یجز الافتاء بمخالفھا لما سیأتی ان الفتیا بالمرجوح جھل[7]۔
جب تصحیح ایسے صیغے کے ساتھ ہو جو صرف اسی روایت کی صحت کاتقاضاکررہاہو مثلًا لفظ صحیح یاماخوذبہ وغیرہما جو مخالف روایت کے ضعف پردال ہو تواب اس کے مخالف پرفتوٰی دیناجائز نہ ہوگا ، جیسا کہ عنقریب آرہاہے کہ مرجوح پرفتوٰی جہالت ہوتی ہے(ت)
اسی میں ہے :
لوذکرت مسئلۃ فی المتون ولم یصرحوا بتصحیحھا بل صرحوا بتصحیح مقابلھا فقد افادالعلامۃ قاسم ترجیح الثانی لانہ تصحیح صریح ومافی المتون تصحیح التزامی والتصحیح الصریح مقدم علی التصحیح الالتزامی ای التزام المتون ذکرماھو الصحیح فی المذھب[8]۔
[1] ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
[2] ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
[3] ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
[4] درمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
[5] ردالمحتار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۸
[6] درمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع