30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بملاحظہ مولانا المبجل المکرم المکین جعلہ اﷲ تعالٰی ممن شیدبہم رکن الدین۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ ہمارے امام ہمام سراج الامہ امام الائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مذہب مہذب وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ مسجد محلہ جس کے لئے اہل معین ہوں جب اس میں اہل محلہ باعلان اذان وامام موافق المذہب صالح امامت کے ساتھ جماعت صحیحہ مسنونہ بلاکراہت اداکرچکے ہوں توغیراہل محلہ یاباقی ماندگان اہل محلہ کو اذان جدید کے ساتھ اس میں اعادہ جماعت مکروہ وممنوع وبدعت ہے۔ مجمع البحرین و بحرالرائق میں ہے :
لاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان
محلہ کی مسجد میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت
عــــہ اول یہ ہے دوسرانوافل میں مسطورہے۱۲ (م)
ثان[1]
جائز نہیں ۔ (ت)
شرح المجمع للمصنف و فتاوٰی علمگیریہ میں ہے :
المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان[2]۔
جب مسجد کاامام اورجماعت محلہ میں متعین ہو اور اہل محلہ نے جماعت کے ساتھ نمازادا کرلی تو دوسری اذان کے ساتھ اس میں تکرار جماعت مباح نہ ہوگی(ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح کبیرمنیہ و غرر و درر و خزائن الاسرار و درمختار و ذخیرۃ العقبٰی وغیرہا میں ہے اور اس کا حاصل حقیقۃ کراہت اعادئہ اذان ہے
فان الحکم المنصب علی مقید انما ینسحب علی القید کما قدعرف فی محلہ ولھذا۔
وہ حکم جو کسی مقید پر ہو وہ قید پر وارد ہوتاہے جیسا کہ یہ ضابطہ اپنے مقام ومحل پرمعروف ہے(ت)
امام محقق ابن امیر الحاج حلبی ارشد تلامذہ ابن الہمام نے حلیہ میں اسی مذہب مہذب کو اس عبارت سے ادا فرمایا :
المسجد اذاکان لہ اھل معلوم فصلوا فیہ اوبعضھم باذان واقامۃ کرہ لغیراھلہ والباقین من اھلہ اعادۃ الاذان والاقامۃ[3]۔
جب مسجد کے اہل معلوم ہوں اور ان تمام یابعض نے اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرلی تو اب غیراہل اور بقیہ لوگوں کے لئے اذان واقامت کا اعادہ جائز نہیں (ت)
ولہٰذا کتب مذہب طافحہ ہیں کہ بے اعادہ اذان مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے اس کے جواز واباحت پرہمارے جمیع ائمہ کااجماع ہے عباب و ملتقط و منبع و شرح در البحار و شرح مجمع البحرین للمصنف و شرح المجمع ابن ملك ورسالہ علامہ رحمت اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام و ذخیرۃ العقبٰی و خزائن الاسرار شرح تنویر الابصار و حاشیۃ البحر للعلامۃ خیرالدین رملی و فتاوٰی ہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس پر اتفاق واجماع نقل فرمایا ، خزائن میں ہے :
لوکرر اھلہ بدونھمااوکان مسجد
اگراذان واقامت کے بغیر اہل محلہ تکرارجماعت
طریق جاز اجماعا[4]۔
کریں یا وہ مسجد راستہ کی ہو تو یہ تکرار جماعت بالاجماع جائز ہے(ت)
علمگیریہ و شرح المجمع للمصنف میں ہے :
اما اذا صلوا بغیر اذان یباح اجماعا[5]۔
ہاں اگر انہوں نے نماز بغیر اذان کے ادا کی تو یہ بالاجماع جائز ہے(ت)
ردالمحتار میں منبع سے ہے :
التقیید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز عن الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذا صلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیر اذان حیث یباح اجماعا[6]۔
مسجد کو محلہ کے ساتھ مختص کرنے سے مسجد شارع اس سے خارج ہوگئی اور اذان ثانی کی قید سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے ، جب اہل محلہ نے اذان ثانی کے بغیر جماعت کروائی ہو کیونکہ اس صورت میں تکرارجماعت بالاجماع مباح ہے(ت)
حاشیۃ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
اما اذا کررت بغیر اذان فلاکراھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون[7]۔
جب بغیر اذان کے تکرار جماعت ہو تو اب بہرحال کراہت نہیں اور تمام مسلمان اسی پرہیں (ت)
یہ عبارت تونہ صرف ہمارے ائمہ کااتفاق بلکہ جملہ مسلمانوں کا اسی پرعمل بتاتی ہے اور خود لفظ اجماع ائمہ کتب میں واقع اسی طرف ناظر تو کیونکر ممکن کہ ظاہرالروایۃ اس کے خلاف ہو ، ظہیریہ میں کہ تنہا پڑھنا لکھ کر اسے ظاہرالروایۃ بتایا ۔ اقول : واجب کہ اس سے مراد نفی وجوب جماعت ہو نہ وجوب نفی جماعت کہ اجماع کے خلاف پڑے اور یہ ضرور حق ہے اس کا حاصل اس قدر کہ جس طرح جماعت اولٰی چھوڑ کرتنہا پڑھنا ناجائز و گناہ تھا یہاں ایسا نہیں یہ الگ الگ پڑھ لیں وہ نہیں پڑھ سکتے
[1] بحرلرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۵۔ ۳۴۶
[2] فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
[3] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[4] ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
[5] فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
[6] ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
[7] حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع