دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

مسجد اگرجامع یاسرایابازار یااسٹیشن کی ، غرض مسجد عام ہے کہ ایك جماعت خاصہ سے مخصوص نہیں  جب تو اس میں ان سوالات کامحل ہی نہیں اس کی سب جماعتیں جماعت اولٰی ہیں جو گروہ آئے اپنی جماعت کرے اور محراب ہی میں امامت کرے ، اور افضل یہ ہے کہ ہرگروہ جداجدا اذان واقامت کرے کما نص علیہ فی فتاوٰی قاضی خاں وغیرھا (جیسا کہ فتاوٰی قاضی خاں وغیرہ میں اس پرتصریح ہے۔ ت) ہاں مسجد محلہ جس کے لئے جماعت معین امام معین ہے اس میں ضرور امام مقرر کا حق مقدم ہے جبکہ اس کی طہارت ، قرأت ، عقیدے ، عمل میں خلل نہ ہو کما فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الاسفار (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار اور دیگرکتب میں ہے۔ ت) اور قصدًا بلاوجہ شرعی تفریق جماعت ضرور مو جب ذم وشناعت ، خواہ یوں ہوکہ امام معین سے پہلے پڑھ جائیں یاجماعت اولی فوت کرکے اپنی جماعت الگ بنائیں ۔ رہے اہل ضرورت وہ مستثنٰی ہیں اور ان کی جماعت اگرچہ پہلے ہو(مثلًا جماعت معینہ کا ابھی وقت نہ آیا اور انتظار میں ریل کا وقت نہ رہے پڑھ کر چلے گئے) امام اور اہل محلہ کے حق میں جماعت اولٰی نہ ہوگی تو اس سے حق امامت میں مزاحمت نہ ہوگی الالایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ (آدمی کو دوسرے کی حکومت میں جماعت نہیں کروانی چاہئے۔ ت) کاکچھ خلاف نہ ہوا کہ نہ امام معین کی امامت کی نہ اس کی امامت میں مزاحمت کی اور ہرگز شرع مطہر سے کوئی دلیل نہیں کہ ایسے لوگ بے اذن امام جماعت سے ممنوع ہیں نہ اصلًا کہیں ان پر یہ حکم ملے گا کہ مجتمع ہوتے ہوئے الگ الگ پڑھیں اور روافض سے تشبہ کریں ، یوں ہی جواتفاقًا بلاتقصیر جماعت سے رہ گئے وہ شرعًا انفراد پرمجبورنہیں ، نہ شرع سے کوئی دلیل کہ جماعت میں اذن امام کے محتاج ہیں کہ یہاں بھی اس کے حق میں مزاحمت نہیں البتہ تمیز جماعت اولٰی وابانت فرق واحتراز صورت مزاحمت کے لئے محراب سے الگ ہوناچاہئے۔

وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ ھو الصحیح وبہ ناخذ[1]  کمااثرہ ،  فی ردالمحتار۔

محراب سے ہٹ کر نماز ادا کرنے سے ہیئت مختلف ہوجاتی ہے یہی صحیح ہے اور ہم اس پرعمل پیراہیں جیسا کہ ردالمحتار میں منقول ہے(ت)

عبارت مضمرات کا محل وہی صورت تفریق بلاضرورت ہے یونہی حکم انتظار محل عدم ضرورت میں ہے

وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- [2]

تم پردین میں اس نے تنگی نہیں کی(ت)

بصورت ضرورت بوجہ مذکور جماعت میں نہ امام معینہ کی تہوین نہ کوئی وجہ تباغض نہ تحزین ، عبارت علمگیری وعبارت کبیری دونوں دربارہ جمعہ ہیں اور جماعات کا اس پر قیاس باطل کہ جمعہ میں شرط ہے کہ امام خود سلطان ہو یا اس کا ماذون اسی کی تفریع میں دونوں کتابوں کی وہ عبارات ہیں کبیری میں فرمایا :

الشرط الثانی کون الامام فیھاسلطانااومن اذن لہ السلطان(الی ان قال)المتغلب الذی لامنشورلہ اذاکان سیرتہ فی الرعیۃ سیرۃ الامراء یجوزلہ اقامتھا لان بذٰلك تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط ولیس للقاضی ان یصلی بھم [3]الخ

دوسری شرط یہ ہے کہ امام سلطان ہو یا جسے سلطان نے حکم دیاہو(آگے کہا) اقتدارپرغلبہ پانے والا وہ شخص جس کو اجازت نامہ حاصل نہیں ، اگررعیت میں وہ امیر جیسی صورت ومقبولیت حاصل کرلے تو جمعہ کاقیام جائز ہے کیونکہ اس صورت میں اقتدار قائم ہونے سے جمعہ کی شرط پائی گئی ہے (سلطان یانائب) کی موجودگی میں قاضی کوجمعہ پڑھانا جائز نہیں الخ(ت)

علمگیریہ میں ہے :

منھا السلطان حتی لاتجوز اقامتھا بغیر امر السلطان اوامرنائبہ مرض الامیر[4]  الخ

ان میں سے سلطان ہے حتی کہ اقامت جماعت امرسلطان یا اس کے نائب کے حکم کے بغیر جائز نہیں امیر بیمار ہوگیا الخ(ت)

حدیث کی عبارۃ النص اگرچہ صورت امامت للامام میں ہے مگربلاوجہ شرعی اس کی امامت فوت کرکے خود امام بن جانے کو بھی دلالۃً شامل ،

لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشروا ولا تنفروا [5]۔

حضور اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمان اقدس ہے لوگوں کو خوشخبری دو ، نفرت نہ دلاؤ(ت)

اور جوصورتیں اوپر گزریں نہ ان میں عبارۃ منصوص نہ دلالۃ داخل ، جماعت ثانیہ کی تفصیل فتاوٰی فقیر میں ہے جس کامجمل یہ ہے کہ مسجد عام میں ہرجماعت اولٰی ہے اور مسجد محلہ میں قصدًا تفریق یا اولٰی کی تفویت بلاعذر صحیح شرعی ناجائز ورنہ باعادہ اذان ہو تو مکروہ تحریمی ، اور محراب نہ بدلیں تو خلاف اولٰی ورنہ اصلًا کراہت نہیں ھوالصحیح وبہ ناخذ (یہی صحیح ہے اور اسی پر ہماراعمل ہے۔ ت) تاترخانیہ مصلّٰی اگرملك امام ہے جب توظاہر کہ اس کے بے اذن اس میں تصرف حرام اور اگرواقف نے خاص جماعت اولٰی کے لئے وقف کیا جب بھی اور لوگ استعمال نہ کریں لان شرط الواقف کنص الشارع (کیونکہ واقف کی شرط نص شارع کی طرح ہے۔ ت) ورنہ اس پرنماز میں اصلًا حرج نہیں جبکہ بلاوجہ امام سے مزاحمت یاتنفر ناحق یااثارت فتنہ نہ ہو ، احکام کہ فقہ میں مذکور ہوئے آپ پرواضح ہیں اور بعض کی استبانت کے لئے یہ عبارت بحرالرائق پیش نظر ہونانافع :

قال رحمہ اﷲ تعالٰی من ھنایعلم جہل بعض مدرسی زماننا من منعھم من یدرس فی مسجد تقرر فی تدریسہ اوکراھتھم لذلك زاعمین الاختصاص بھادون غیرھم حتی سمعت من بعضھم انہ یضیفھا الی نفسہ ویقول ھذہ مدرستی اولاتدرس فی مدرستی وھذا کلہ جہل عظیم فقد قال اﷲ تعالٰی وان المسٰجد فلایتعین مکان مخصوص لاحد حتی لوکان للمدرس موضع من المسجد یدرس فیہ فسبقہ غیرہ الیہ لیس لہ ازعاجہ و اقامتہ منہ[6] ١ھ مختصرا واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔            

صاحب بحرالرائق   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا : یہاں سے ہمارے دور کے بعض مدرسین کی جہالت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اس شخص کو اس مسجد میں تدریس کرنے سے منع کرتے ہیں جس تدریس کے لئے ان کاتقرر ہو یا اسے مکروہ جاننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان مدارس کو دوسروں کے علاوہ اپنے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں حتی کہ بعض لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ میرا مدرسہ ہے ، یا تو میرے مدرسے میں تدریس نہ کر ، یہ تمام بہت بڑی جہالت ہے اﷲ تعالٰی کافرمان ہے بیشك مساجد اﷲ کی ہیں پس کوئی جگہ کسی کے لئے مخصوص نہیں لہٰذا اگرایك مدرس مسجد کے کسی مقام پر بیٹھ کر درس دیتا تھا پھر کوئی دوسرا اس کی جگہ پربیٹھاتو پہلے مدرس کوجائز نہیں کہ دوسرے کو وہاں سے ہٹا کر خود وہاں بیٹھے ، ۱ھ مختصرًا واﷲ سبحٰنہ ، وتعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ۸۷۹ :           ازشہر محلہ مسجد جامع مسؤلہ مولوی محمد احسان صاحب

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب بہ ہنگام ضرورت محراب مسجد میں یعنی آثاردیوار پچھیت مسجد کے اندرکھڑا ہے اور اپنے دائیں وبائیں برابر ایك ایك یا زیادہ مقتدی کھڑے کرلئے باقی اور صفیں عقب حدود مسجد میں ہوں توایسی صورت میں نماز ہوجائے گی یا نہیں ، بینواتوجروا۔

 



[1]   ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱

[2]   القرآن  ۲۲ / ۷۸

[3]   غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۳

[4]   فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵

[5]   صحیح بخاری باب ماکان النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   یتخولہم بالموعظۃ الخ  مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۶

[6]   بحرالرائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن