دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

جماعت جتنی کثیر ہوگی ثواب عظیم ہوگا اورا س دس منٹ میں کچھ وقت تنگ نہیں ہوتا کثرت جماعت ہی کے لئے شرع مطہرنے نمازفجر کو آخر وقت میں پڑھنے پرثواب زیادہ رکھاہے اصل حکم یہ ہے اور اگر کسی جگہ کوئی خاص صورت باعث فتنہ ہو تو فتنہ سے بچنا لازم ہے اور وبال فتنہ کرنے والے پر ، اور مسجد محلہ میں امام معین اکثر اہل محلہ کے ساتھ جوجماعت بروجہ سنت اداکرے وہ جماعت اولٰی ہے اس سے پہلے دوچار بلاوجہ یا اپنے کسی کام کے سبب جماعت کرجائیں تو وہ ان اکثرین کی جماعت کاثواب کم نہ کرے گی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ۸۷۸ :          بتوسط جناب مولانا مولوی محمد وصی احمدصاحب محدّث سورتی            ۷صفر ۱۳۲۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مسجد میں آتے ہیں اور جماعت ابھی تك نہیں پڑھ گئی امام کے حاضر ہونے میں ابھی کچھ وقفہ ہے امام معین کی انتظاری نہیں کرتے ، اپنے میں سے ایك کو امام بنایا اور نمازباجماعت ادا کی اور چل دئیے امام سے بھی امامت کااذن نہیں لیا علٰی ہذا اگر جماعت ہوچکی اور دیکھا کہ دوچارآدمی اور بھی جمع ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے ایك کو امام بنایا اور جماعت کرائی اسی طرح پراورآئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا بعض کی عادت ہے کہ امام کا مصلی جو اس کے نام سے نامزد ہے اور وہ اس پرہمیشہ کھڑا ہوکر امامت کرتاہے جیسا کہ دستور ہے اٹھایا اور اس پر نماز ادا کی یا بیٹھ گئے امام سے پوچھا بھی نہیں ، لوگوں کو اگرمنع کیاجاتاہے تو کہتے ہیں کہ نیك کام ہے اس سے روکنا نہ چاہئے سابقوا الخیرات (خیرات میں سبقت حاصل کرو۔ ت) حکم ہے ، ضرورت کے وقت چونکہ شمولیت جماعت مقرر ہ سے شریعت کی جانب سے رخصت ہے اور انفرادی حالت میں بہ نسبت جماعت کے ثواب کم ہے اس واسطے شریعت کی جانب سے ایسی امامت کی نہی نہیں معلوم ہوتی اور مضمرات کی عبارت :

ولوصلی بعض اھل المسجد باقامۃ وجماعۃ ثم دخل المؤذن والامام وبقیۃ الجماعۃفالجماعۃ المستحبۃ لھم والکراھۃ للاولی[1]۔

(عالمگیریۃ)  اگراقامت وجماعت کے ساتھ بعض اہل محلہ نے نماز ادا کی ، پھر مؤذن ، امام اور بقیہ لوگ آئے تو ان کے لئے جماعت مستحب اور پہلی مکروہ ہوگی(ت)

کوبلاضرورت اقامت جماعت للاعراض عن المقررۃ یااحداث فتنہ پرمحمول رکھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مساجد کی وضع عبادت کے لئے ہے صفیں جیسے مقتدیوں کی نماز کے لئے ہیں ایسے مصلّٰی امام کے لئے ، امام صف پرنماز پڑھاسکتاہے ایسا ہی اگرمصلے پرکوئی غیر امام نمازپڑھ لے تو کچھ حرج نہیں ، بعض کا قول ہے مصلّٰی امام کی ملك نہیں ، فقہ کی متداولہ کتابوں پرنظرڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ معین امام کی انتظاری لازم ہے اور بغیر اجازت امام معین کے امامت نہ کرائیں اگر انتظار میں وقت مکروہ ہوتاہو یا کسی ضروری کام کے لئے جاناچاہتاہو مثلًا ریل کاوقت جاتارہے گا تو الگ الگ نمازپڑھ کر چلے جائیں ترك جماعت میں ان کے حق میں امام کااذن نہ دینا اس قبیل سے ہوگا جو اس حدیث میں ہے۔

حدیث لایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ[2] رواہ مسلم معناہ ماذکرہ اصحابنا وغیرھم ان صاحب البیت والمجلس وامام المسجد احق من غیرہ وان کان ذلك الغیر افقہ واقرء و اورع و افضل منہ [3] الخ نووی شرح مسلم۔ قولہ فی سلطانہ ای موضع یملکہ اویتسلط علیہ بالتصرف کصاحب المجلس وامام المسجد[4]۔  مجمع بحارالانوار لیس للقاضی ان یصلی بھم اذا لم یؤمر بہ صریحا اودلالۃ (کبیری[5]) 

ایك آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیرجماعت نہ کروائے اور نہ ہی اس کے گھرمیں بغیراجازت اعلٰی مقام پر بیٹھے ، اسے مسلم نے روایت کیا ، معنی یہ ہے ہمارے ائمہ نے یوں بیان کیاکہ صاحب خانہ ، صاحب مجلس اور امام مسجد غیر سے امامت کے زیادہ مستحق ہوتاہے اگرچہ وہ غیر اس سے زیادہ فقیہ ، قاری ، صاحب تقوٰی وفضیلت ہو الخ نووی شرح مسلم (ت)قولہ فی سلطانہ اس سے مراد اس کا مالك اور زیرتصرف ہوناہے جیسا کہ صدرمجلس اور امام مسجد۔ مجمع بحارالانوار (ت) قاضی کے لئے نمازپڑھانا جائز نہیں جب تك اس کو صراحۃً یااشارۃً حکم نہ ہو ، کبیری(ت)

علت نہی کی یہ ہے :

وھذالئلا یؤدی الٰی تھوین امرسلطنتہ و خلع ربقۃ الطاعۃ والی التباغض و الخلاف التی شرع الاجتماع لرفعہ[6]۔  مجمع بحارالانوار۔

یہ اس لئے ہے تاکہ امرسلطنت کو ہلکاجان کر لاپروائی نہ ہو اور طاعت امیر سے بغاوت اور بغض نہ ہو اور ایسا اختلاف نہ ہو جس کے رفع کے لئے اجتماع مشروع ہوا ، مجمع بحارالانوار(ت)

ان منقولات سے پایاجاتاہے کہ امام کہیں ہو جہاں تك ممکن ہو امام سے اجازت لے کر امامت کرائیں کہ امامت بلااذن منع ہے امام کا جماعت میں بالفعل موجود ہونا شرط نہیں اور عموم حدیث کی دلالت بھی اسی پرہے مرض الامیر فصلی الشرطی لم یجزالاباذنہ[7] (امیر بیمار ہوگیا کسی لشکری نے نماز پڑھائی تو اجازت کے بغیرجائز نہ ہوگی۔ ت) علمگیریہ کی عبارت کابھی یہی مقصود ہے بعض کاخیال ہے کہ حدیث مذکورہ بالا سے یہ امرثابت ہے کہ منع امامت امام دیگر ، بوقت حضورامام المحلہ ہے نہ بوقت عدم حضور کیونکہ مراد رجل اولٰی سے امام دیگرہے اور رجل ثانی سے امام محلہ یاصاحب البیت ہے اور کہا رجل اول رجل ثانی کی امامت نہ کرے ، اگررجل ثانی حاضر ہوگا تو اس کی امامت ممکن ہے اور نہی امور ممکنہ سے متعلق ہواکرتی ہے ، جماعت ثانیہ اگرتحت عموم حدیث کے ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور یہی علت ہے اگرخارج ہے توبھی فقہا نے اسے مکروہ تحریمہ لکھاہے اور بعض کہتے ہیں اگرہیئت اولٰی کے خلاف ہے تو مکروہ نہیں جیسا کہ امام ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے روایت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نفی جو امام ابی یوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے مذکور ہے مراد اس سے کراہت تحریمہ کی نفی ہے نہ مطلق ، بہرحال کراہت سے خالی نہیں ، مصلّی پر امام کے نماز پڑھنا یا بیٹھنا بلا اس کے اذن کے اس کی ممانعت بھی مذکورہ بالا کے آخری فقرہ میں ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ[8] سے پائی جاتی ہے

قولہ علی تکرمتہ ھو موضع خاص لجلوسہ عن فراش اوسریر ممایعد لاکرامہ ن ھی بفتح تاء وکسرھا ط کفراش وسجادۃ ونحوھما ، مجمع بحار الانوار[9]۔

قولہ تکرمتہ سے مراد وہ جگہ ہے جوبیٹھنے کے لئے ہو یا وہ چارپائی جواکرام کے لئے رکھی گئی ہوتی ہے ن اس کی تاء پرفتحہ اور کسرہ دونوں آسکتے ہیں ط مثلًا فراش اور سجادہ وغیرہ ، مجمع بحارالانوار۔ (ت)

چونکہ ہرسہ سوالات کی نسبت اقوال علماء وعبارات کتب مختلف ہیں اس واسطے بہت تردّد رہتاہے اور تسکین نہیں ہوتی ہے بظاہر عبارات کتب سے تونہی راجح معلوم ہوتی ہے اور اقوال علمائے مخالف ، اس لئے ادب سے التماس ہے کہ حقیقت امر سے مفصل اور مدلل طور پر بحوالہ کتب اور عبارات سے آگاہ فرمائیں تاکہ شق راجح عملدرآمد ہو۔ بینواتوجروا

الجواب :

 



[1]   فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفتہ واحوال المؤذن مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴

[2]   صحیح مسلم  باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶

[3]   شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶

[4]   مجمع بحارالانوار زیر لفظ سلطٰن مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۳۰

[5]   غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی  فصل فی الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۳

[6]   مجمع بحارالانوار زیرلفظ سلطٰن مطبوعہ المطبع العاد نولکشورلکھنؤ ۲ / ۱۳۰

[7]   فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵

[8]   صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶

[9]   مجمع بحارالانوار زیرلفظ کرم  مطبوعہ المطبع العاد نولکشور لکھنؤ ۳ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن