30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال) قال الزاھدی ارادوابالتاکید الوجوب (وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ) ای عامۃ
(جماعت مردوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے) زاہدی نے کہا یہاں تاکید سے مرادوجوب ہے (بعض نے کہا ہے کہ جماعت واجب ہے اور اکثرعلماء کی
مشائخنا وبہ جزم فی التحفۃ وغیرھا قال فی البحر وھوالراجح عنداھل المذھب (فتسن اوتجب) ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ [1] ١ھ مختصرًا۔
رائے یہی ہے) یعنی ہمارے اکثر مشائخ کی رائے یہی ہے اسی پرتحفہ وغیرہ میں جزم کیاہے ، بحر میں ہے کہ اہل مذہب کے ہاں یہی راجح ہے (پس سنت ہو یاواجب) اس کا ثمرہ اختلاف ایك بارترك کرنے پر گناہ کی صورت میں سامنے آئے گا۱ھ مختصرًا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ، قال فی البحر وقال فی النھر ھو اعدل الاقوال واقواھا ولذا قال فی الاجناس لاتقبل شہادتہ اذاترکہااستخفافا ومجانۃ اماسہوا او بتاویل ککون الامام من اہل الاھواء اولایراعی مذھب المقتدی فتقبل [2] ١ھ ط
اس کاقول ، کہابحر میں ہے اور کہانہر میں ہے کہ یہی معتدل اور قوی قول ہے اور اسی لئے اجناس میں ہے جب کسی نے سستی اور ہلکاسمجھتے ہوئے جماعت کوترك کیا تو اس کی شہادت قبول نہ ہوگی ، ہاں اگرسہوًا ترك ہو یاتاویلًا جیسے امام کا اہل ہوا میں سے ہونا یامذہب مقتدی کی رعایت نہ کرنے والا ہو توپھر شہادت قبول ہوجائے گی ۱ھ ط(ت) واﷲ سبحٰنہ ، وتعالٰی اعلم
مسئلہ۸۷۰ : ازبلڈانہ ملك ابرار مرسلہ شیخ فتح محمد صاحب حلال خور ۱۹جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں مسلمان حلال خور جوپنج وقتہ نمازپڑھتاہو اس طرح پر کہ اپنے پیشہ سے فارغ ہوکر غسل کرکے طاہرکپڑے پہن کر مسجد میں جائے تو وہ شریك جماعت ہوسکتاہے یانہیں ، اور اگرجماعت میں شریك ہو تو کیاپچھلی صف میں کھڑا ہو یا جہاں اس کو جگہ ملے یعنی اگلی صف میں بھی کھڑاہوسکتاہے اور اس طرف بعد نمازصبح وبعد نمازجمعہ نمازی آپس میں مصافحہ کرتے ہیں توکیا وہ بھی مسلمانوں سے مصافحہ اور مسجد کے لوٹوں سے وضو کرسکتاہے اور جو حلال خور اپنا پیشہ نہ کرتا ہو صرف جاروب کشی بازار وغیرہ کی کرتاہو اس کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے؟ ہردوصورتوں میں جو حکم شرع شریف کا ہو اس سے اطلاع بخشئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
بیشك شریك جماعت ہوسکتاہے اور بیشك سب سے مل کر کھڑا ہوگا اور بے شك صف اول یاثانی میں جہاں جگہ پائے گا قیام کرے گا ، کوئی شخص بلاوجہ شرعی کسی کو مسجد میں آنے یاجماعت میں ملنے یا پہلی صف میں شامل ہونے سے ہرگزنہیں روك سکتا ، اﷲ عزوجل فرماتاہے : وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ [3] بیشك مسجدیں خاص اﷲ کے لئے ہیں ۔ رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : العباد عباداﷲ [4]بندے سب اﷲ کے بندے ہیں ۔ جب بندے سب اﷲ کے ، مسجدیں سب اﷲ کی ، توپھرکوئی بندے کو مسجد کی کسی جگہ سے بے حکم الٰہی کیونکر روك سکتاہے۔ اﷲ عزوجل نے کہ ارشاد فرمایا :
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ [5]
اس سے زیادہ ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کوروکے ان میں خداکانام لینے سے۔
اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے کہ بادشاہ حقیقی عزجلالہ کایہ عام دربار خاں صاحب ، شیخ صاحب ، مغل صاحب یا تجار زمیندار معافی دارہی کے لئے ہے کم قوم یاذلیل پیشہ والے نہ آنے پائیں ، علماء جوترتیب صفوف لکھتے ہیں اس میں کہیں قوم یاپیشہ کی بھی خصوصیت ہے ہرگز نہیں ، وہ مطلقًا فرماتے ہیں :
یصف الرجال ثم الصبیان ثم الخناثی ثم النساء[6]۔
یعنی صف باندھیں مردپھرلڑکے پھرخنثی پھر عورتیں ۔
بیشك زبّال یعنی پاخانہ کمانے والا یاکناس یعنی جاروب کش مسلمان پاك بدن پاك لباس جبکہ مرد بالغ ہو تو وہ اگلی صف میں کھڑا ہوجائے گا اور خان صاحب اور شیخ صاحب مغل صاحب کے لڑکے پچھلی صف میں جو اس کا خلاف کرے گا حکم شرع کا عکس کرے گا شخص مذکور جس صف میں کھڑاہو اگر کوئی صاحب اسے ذلیل سمجھ کر اس سے بچ کر کھڑے ہوں گے کہ بیچ میں فاصلہ رہے وہ گنہگار ہوں گے اور اس وعید شدید کے مستحق کہ حضوراقدس سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : من قطع صفا قطعہ اﷲ[7]۔ جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے کاٹ دے گا۔
اور جو متواضع مسلمان صادق الایمان اپنے رب اکرم ونبی اعظم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاحکم بجالانے کو اس سے شانہ بشانہ خوب مل کر کھڑا ہوگا اﷲ عزوجل اس کا رتبہ بلند کرے گا اور وہ اس وعدہ جمیلہ کا مستحق ہوگا کہ حضورانورسیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : من وصل صفّا وصلہ[8] ۔ جو کسی صف کو وصل کرے اﷲ اسے وصل فرمائے گا۔ دوسری جگہ ہمارے نبی کریم علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اﷲ فرماتے ہیں :
الناس بنواٰدم واٰدم من تراب[9]۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ والبیھقی بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
لوگ سب آدم کے بیٹے ہیں اور آدم مٹّی سے۔ اسے ابوداؤد وترمذی نے روایت کرکے حسن کہا اور بیہقی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
دوسری حدیث میں ہے ، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
یاایھا الناس ان ربکم واحد وان اباکم واحد ألا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولالاحمر علی اسود ولالاسود علی احمد الا بالتقوی ان اکرمکم عنداﷲ اتقٰکم[10]۔ رواہ البیہقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع