دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

قدقلت ان الصحیح تکرار الجماعۃ اذالم تکن علی الھیأۃ الاولٰی[1]۔

میں کہتاہوں کہ تکرار جماعت اس وقت صحیح ہے جب وہ جماعت پہلی ہیئت پرنہ ہو(ت)

یہ ان احکام میں اجمالی کلام تھا ،

وللتفصیل محل اٰخر الحمدﷲ العلی الاکبر والصلاۃ والسلام علی الحبیب الازھرواٰلہ واصحابہ الاطائب الغرر۔

واﷲ سبحٰنہ ،  وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔                              

تفصیل کے لئے دوسرامقام ہے تمام حمد اﷲتعالٰی کے لئے جوبلندوبرتر ہے۔ صلوٰۃ وسلام ہو حبیب خوب پر ، ان کی آل واصحاب پرجوپاکیزہ ہیں (ت)

مسئلہ۸۶۷ : زید نے وقت مغرب ایك مسجد میں داخل ہوکردیکھا کہ جماعت ہورہی ہے اور امام قرأت بجہر پڑھ رہاہے زید نے اس امام کی اقتداء نہ کی اور اس آن واحد میں علیحدہ اپنی قرأت بجہر شروع کردی اور دوسری جماعت قائم کی پس زید کاکیاحکم ہے اور جماعت ثانی کاجوبحالت موجودگی جماعت اول قائم ہوئی ہے کیا حکم ہے اور دوشخص ایك آن میں قرأت بجہر کرسکتے ہیں یانہیں ؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

تفریق جماعت حاضرین حضرت حق سبحٰنہ ، وتعالٰی کو نہایت ناپسند ہے حتی کہ انتہادرجہ کی ضرورت میں یعنی جب عساکر مسلمین ولشکر کفارمیں صف آرائی ہو مورچہ بندی کرچکے ہوں اور وقت نماز آجائے اس وقت بھی نمازِخوف کی وہ صورت قرآن مجید میں تعلیم فرمائی جس سے تفریق جماعت نہ ہونے پائے اور ایك ہی امام کے پیچھے نماز ہو ورنہ ممکن تھا کہ نصف برسرمعرکہ رہیں اور نصف باقی اپنی جماعت کرلیں پھر یہ نصف مقابلہ پر چلے جائیں اور وہ آکر اپنی نمازپڑھ لیں اتحادجماعت کی عنداﷲ ایسی ہی توکچھ سخت ضرورت ہے جس کے لئے عین نماز میں مشی کثیر جومفسد صلوٰۃ ہے روارکھی گئی ۔ علاوہ بریں صدہاآیات واحادیث اس فعل کی مذمت پردال ہیں اور حکمت ایك جماعت کی مشروعیت کہ ایتلاف مسلمین ہے کہ نہایت محبوب الٰہی ہے یہ فعل بالکلیہ اس کے مناقض ہے کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) جس زمانے میں نظم خلافت حقہ گسیختہ اور بنائے امامت راشدہ ازہم ریختہ ہوگئی تھی اورسلطنت فساق وفجار بلکہ بدمذہبان فاسدالعقیدہ کوپہنچی تھی وہ لوگ امامت کرتے اور صحابہ وتابعین وکافہ مسلمین بمجبوری ان کے پیچھے نماز پڑھتے اس وقت بھی ان اکابردین نے تفریق جماعت گوارا نہ کی پس اس دوسری جماعت کی شناعت میں کوئی شبہہ نہیں اور فاعل اس کا عوض ثواب کے مستوجب طعن وملام ہوا خصوصًا جبکہ وہ اس تفریق کاسبب کسی بغض دنیاوی کے جواسے امام اول سے تھا مرتکب ہوا یابوجہ اپنے فاسدالعقیدہ ہونے کے عنادًا امام اول کو بدمذہب ومبتدع ٹھہراکر اس کی اقتدا سے استنکاف کیاکہ ان صورتوں میں تشنیع اس پر اشدواکد ہے مگریہ کہ درحقیقت امام اول سے بدعت تابحدکفر وارتداد مرتقی ہوگئی ہو مثلًا سیدالمرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی عیاذًا باﷲ توہین کرتاہو ، حضور کے ختم نبوت میں کلام رکھتاہو حضوروالا کے بعد کسی کے حصول نبوت میں حرج نہ جانتاہو حضوراقدس کی تعظیم جوبعد تعظیم الٰہی کے تمام معظمین کی تعظیم سے اعلٰی واقدم ہے مثل اپنے بڑے بھائی کی تعظیم کے جانتاہو وعلٰی ہذاالقیاس دیگرعقائد زائغہ مکفرہ رکھتاہو اس تقدیر پرتوالبتہ یہ فعل زید کانہایت محمود ہوگا اور وہ اس پراجرجزیل پائے گا کہ صورت مذکورہ میں وہ جماعت عنداﷲ جماعت ہی نہ تھی کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز رأسًا باطل ہے۔

فی التنویر ویکرہ امامۃ المبتدع لایکفر بھا وان کفر بھا فلایصح الاقتداء بہ اصلا[2]ھ ملخصا۔

تنویر میں ہے اس بدعتی کی امامت مکروہ ہے جس کی بدعت حد کفر تك نہ پہنچے اوراگر حد کفر تك پہنچ جائے تو اس کی اقتداء بالکل درست نہ ہوگی اھ تلخیصا(ت)

اور اگر صورت مرقومہ میں امام ثانی مقتدا ومتبوع حضار کاہو اور جس وقت وہ شخص امامت کررہاہے عین اسی حالت میں اس کا دوسری جماعت قائم کردینااور اس کے پیچھے نماز سے احتراز مجمع میں ظاہر کرنا باعث اس کے زجروتوبیخ یاحاضرین کی نگاہ سے اس کے گرجانے کاہو تو اب یہ فعل اور بھی موکدوضروری ہوجائے گا اسی طرح اگرکفروارتداد کے سوا اور کوئی وجہ ایسی ہو جس کے سبب اس کے پیچھے نماز باتفاق روایات باطل محض ہوتی ہو تو جب بھی یہ جماعت ثانیہ قطعًا جائز ہوگی لماذکرنا ان الجماعۃ الاولٰی لیست بجماعۃ فی الحقیقۃ لبطلان الصلاۃ بالاقتداء بالامام الاول(جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ پہلی جماعت درحقیقت جماعت ہی نہیں کیونکہ امام اول کی اقتداء میں نماز ہی باطل ہے۔ ت)

لیکن اس فعل میں اگرکوئی غرض صحیح شرعی نہ ہو تو اس تقدیر پراس سے احترازاولٰی ہے ختم جماعت کاانتظار کرکے اپنی جماعت کرلے وھذا کلہ ظاھر جدالاخفاء فیہ عند عقل سلیم وراء نبیہ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم(یہ تمام کاتمام خوب واضح ہے ہرصاحب عقل سلیم اور سمجھدارپرکچھ مخفی نہیں واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ ت)

مسئلہ ۸۶۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں ایك شخص واسطے امامت کے مقرر ہے اگر وہ امام قبل ازنمازعشا یا کسی اور وقت میں کسی مقتدی سے یہ کہہ جائے کہ میں کسی کام کوجاتاہوں میراانتظار کرنا یعنی بعد پوراہونے وقت معینہ کے میراانتظار کرنا ، بعدہ ، سب مصلی اپنے وقت معینہ پرجمع ہوگئے اور اس کے بعد انہوں نے پاؤگھنٹا وقت معمول سے دیر کی واسطے تعمیل حکم امام صاحب کے ، پھر انہوں نے ایك شخص کو امام بناکر نمازپڑھ لی ، آیا ان سب کی نماز درست ہوگئی یانہیں ؟ اور اگرامام صاحب پھرآکر لوگوں سے کہیں کہ تم لوگوں کی نماز نہیں ہوئی ، تویہ قول امام صاحب کاصحیح ہوگا یانہیں ؟اور امام صاحب کوئی فتوٰی اپنے رائے سے واسطے خواہش نفس کے دیں توشرعًا کیاحکم ہوگا؟ بینواتوجروا

الجواب :

مقتدیوں کے ذمہ امام معین ہی کے انتظار میں بیٹھارہنا اور جب تك وہ نہ آئے جماعت نہ کرنا ہرگزضرور نہیں ، بعض اوقات حضوراقدس سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  جب مدینہ طیبہ میں کسی اور محلہ میں تشریف لے گئے ہیں اور واپس تشریف لانے میں دیر ہوئی ہے صحابہ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   نے جماعت اداکرلی ہے ، ایك بار صدیق اکبر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کوامام کیا ، ایك بار عبدالرحمن بن عوف   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ، اور حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے اسے پسند فرمایا کما ھومصرح بہ فی الاحادیث (جیسا کہ اس پر احادیث میں تصریح موجود ہے۔ ت) امام کاکہنا کہ تمہاری نماز نہ ہوئی اگرصرف اسی بنا پرہے کہ میراانتظار نہ کرنے اور دوسرے کوامام بنالینے سے تمہاری نماز نہ ہوئی تومحض باطل اور شریعت مطہرہ پرصریح افترا ہے اپنی خواہش نفسانی کے لئے اپنی رائے سے فتوٰی دینے والا لائق امامت نہیں ، ہاں جس شخص کو اس کی غیبت میں مقتدیوں نے امام بنایا وہ اگرقرآن مجید ایسا غلط پڑھتاتھا جس سے فسادنماز ہو یامعاذاﷲ اس کے مذہب میں ایسا فساد تھا جس سے اس کی امامت صحیح نہ ہو تو اس بناپر امام کاقول درست ہے کہ تمہاری نمازنہ ہوئی ، اس تقدیر پرمقتدیوں نے سخت خطا کی ، انہیں توبہ چاہئے اورا س نماز کی قضا پڑھیں واﷲ سبحٰنہ ،  وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۸۶۹ :            ازجامع مسجد                               ۱۸جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ہجری

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تارك الجماعت کس کو کہتے ہیں ؟ بینواتوجروا

الجواب :

تارك جماعۃ وہ کہ بے کسی عذر شرعی قابل قبول کے قصدًا جماعت میں حاضر نہ ہو مذہب صحیح معتمد پراگر ایك بار بھی بالقصد ایسا کیاگنہگار ہوا تارك واجب ہوا مستحق عذاب ہوا والعیاذباﷲ تعالٰی اور اگر عادی ہو کہ بارہا حاضرنہیں ہوتا اگرچہ بارہا حاضربھی ہوتا ہو تو بلاشبہہ فاسق فاجر مردودالشہادۃ ہے فان الصغیرۃ بعدالاصرار تصیر کبیرۃ (صغیرہ اصرار کی بنا پر کبیرہ ہوجاتاہے۔ ت) درمختار میں ہے :

 



[1]   ردالمحتار  باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹

[2]    درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن