30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بقی لوکان مقتدیا بمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولومخالفا وشك فی مراعاۃ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمٰی و الاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھا تحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمیہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھتانتہ[1]الخ
باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کوئی شخص ایسے امام کی اقتدا میں ہے جس کی اقتدا مکروہ تھی ، ساتھ ہی ایسا امام جماعت کروائے جس میں کراہت نہیں توآیا اب وہ نماز توڑ کر اس کی اقتدا کرے یانہ ، ط نے کہا ظاہر یہ ہے کہ اگرپہلا امام فاسق ہے تونماز نہ توڑے اور اگروہ مخالف ہے اور اس کی رعایت میں شك ہو تو نماز توڑدے۔ میں کہتاہوں اس کا عکس اظہرومختارہے کیونکہ ثانی میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ اعرابی اور نابینا میں ہے بخلاف فاسق کے ، اس کی اقتداء کے بارے میں شرح منیہ میں کہا کہ اس کامکروہ تحریمی ہوناظاہر ہے کیونکہ فقہاکہتے ہیں کہ فاسق کوامام بنانے میں فاسق کی تعظیم ہوتی ہے حالانکہ ہم پراس کی اہانت لازم ہے۱لخ(ت)
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی للعلامۃابراہیم الحلبی میں ہے :
یکرہ تقدیم المبتدع ایضا لانہ فاسق من حیث الاعتقادوھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع[2]۔
بدعتی کی اقتدامکروہ ہے کیونکہ وہ اعتقادًا فاسق ہے اور عقیدۃً فاسق عملًا فاسق سے بدتر ہے ، کیونکہ فاسق عملی اعتراف کرتا کہ وہ فاسق ہے وہ ڈرتا ہے اور اﷲ سے معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے کہ وہ ایسانہیں کرتا۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
لایصح اقتداء غیرالالثغ بالالثغ علی الاصح کما فی البحر وحررالحلبی وابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلایؤم الامثلہ ولاتصح صلاتہ
اصح قول کے مطابق غیرتوتلے کاتوتلے کی اقتداکرنا صحیح نہیں ، جیسا کہ بحر میں ہے ، حلبی اور ابن شحنہ نے کہا جب توتلا دائمی کوشش کرتارہے تووہ امی کی طرح ہے اور صرف توتلے کی اقتداء کرسکتاہے اور جب
اذامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ اوترك جھدہ اووجد قدرالفرض ممالالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف[3]۔
اسے کسی عمدہ پڑھنے والے کی اقتداء ممکن ہو تو اب تنہانماز نہ ہوگی ، اسی طرح حکم ہے جب اس نے کوشش ترك کردی یا وہ مقدار فرض کی قرأت پرقادرہوگیا جس میں اسے توتلاپن پیدانہیں ہوتا ، توتلے کے حکم میں یہی صحیح ومختار ہے ، اسی طرح اس شخص کاحکم ہے جو حروف میں سے کسی حرف کے صحیح تلفظ پرقادرنہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وذلك کالرھمن الرھیم والشیتان الرجیم والاٰلمین وایاك نابدوایاك نستئین السرات انأمت فکل ذلك حکمہ مامر[4]۔
جیسے کوئی رھمٰن ، رھیم ، شیتان الرجیم ، آلمین ، ایاك نابدوایاك نستئین ، السرات ، انأمت پڑھتاہے ان صوتوں کا حکم پیچھے گزرچکاہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے : ؎
امامۃ الالثغ للفصیح
فاسدۃ فی الراجع الصحیح[5]
(راجح اور صحیح قول کے مطابق فصیح کے لئے توتلے کی اقتداء فاسد نمازہے۔ ت)
اب محل نظر صرف ایك صورت رہی کہ مسجد محلہ میں اہل محلہ نے باذان واقامت بروجہ سنت امام موافق المذہب سالم العقیدہ متقی مسائل داں صحیح خواں کے ساتھ جماعت اولٰی خالیہ عن الکراہۃ ادا کرلی پھر باقی ماندہ لوگ آئے انہیں دوبارہ اس مسجد میں جماعت قائم کرنے کی اجازت ہے یانہیں ، اور ہے توبکراہت یابے کراہت؟ اس بارے میں عین تحقیق وحق وثیق وحاصل انیق ونظردقیق واثرتوفیق یہ ہے کہ اس صورت میں تکرار جماعت باعادہ اذان ہمارے نزدیك ممنوع وبدعت ہے ، یہی ہمارے امام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کامذہب مہذب وظاہرالروایہ ہے ، متن متین مجمع البحرین و بحرالرائق علامہ زین میں ہے :
ولاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان ثان[6]۔
مسجد محلہ میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت جائز نہیں ۔ (ت)
درمختار و خزائن الاسرار میں ہے :
والنظم للدر یکرہ تکرار الجماعۃ باذان و اقامۃ فی مسجد محلۃ لافی مسجد طریق اومسجد لاامام لہ ولامؤذن[7]۔
الفاظ در کے ہیں محلہ کی مسجد میں اذان واقامت کے ساتھ تکرارجماعت مکروہ ہے ، راستہ کی مسجد یاایسی مسجد جس کا کوئی امام ومؤذن مقررنہ ہو اس میں تکرارجماعت مکروہ نہیں ۔ (ت)
غررالاحکام اور اس کی شرح دررالحکام میں ہے :
لاتکرر الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ یعنی اذاکان لمسجد امام و جماعۃ معلومان فصلی بعضھم باذان واقامۃ لایباح لباقیھم تکرارھابھما[8]۔
اذان واقامت کے ساتھ جماعت کا تکرار محلہ کی مسجد میں درست نہیں یعنی جب مسجد کے لئے امام اور جماعت متعین ہو پس بعض نے اذان واقامت کے ساتھ نمازپڑھ لی تو اب دوسرے لوگوں کے لئے اذان واقامت کے ساتھ دوبارہ جماعت مباح نہیں ہے۔ (ت)
شرح المجمع للمصنف الامام العلامۃ ابن الساعاتی و فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان[9]۔
جب مسجد محلہ کا امام اور جماعت مقرر ہو اور اہل محلہ نے اس مسجد میں نماز اداکرلی ہو تو اب دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت مباح نہیں ۔ (ت)
[1] ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵
[2] غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
[3] درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
[4] ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳۱
[5] فتاوی خیریہ ، کتاب الصلاۃ ، مطبوعہ دار المعافہ بیروت ، ۱ / ۱۰
[6] بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۶
[7] درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۲
[8] دررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت مصر ۱ / ۸۵
[9] فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع