30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفی دونوں میں اور دونوں کے دونوں مطلق میں ۔ ت)کلام اس میں نہیں مطلق اصولی یعنی فرد شائع یا ماہیت متقررہ فی ای فرد یُرادُ میں کلام ہے اس کی طرف احکام خاصہ فرد دُونَ فردٍ ہرگز ساری نہیں ہوسکتے اور جوحکم اس کے لئے ثابت وہ ہرفرد کوثابت مالم یمنع مانع (جب تك کوئی مانع نہ پایاجائے۔ ت) یہ نکتہ ضروری الحفظ ہے کہ اس سے غفلت باعث غلط وشطط ہوتی ہے
وقد حققہ تاج المحققین خاتمۃ المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی کتابہ المسماۃ “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ والله الھادی الی سبیل السداد۔
تاج المحققین خاتمۃ المدققین ہمارے سردار والدگرامی قدس سرہ ، نے اس کی تحقیق اپنی کتاب “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ میں کی ہے اور اﷲتعالٰی ہی سیدھے راہ کی ہدایت دینے والا ہے(ت)
عــــہ لانہ ان اثبت للفرد فقد اثبت للمطلق بھکم السرایۃ لکنہ اثبت للفرد فاثبت للمطلق وقد نفی عنہ لکنہ لم یثبت للمطلق فلم یثبت للفرد وقد اثبت لہ ١٢منہ (م)
اس لئے کہ اگرکسی فرد کے لئے ثابت کیا تو وہ حکم سرایت کی وجہ سے مطلق کے لئے بھی ثابت ہوجاتاہے لیکن جب اس نے فرد کے لئے ثابت کیا تو گویا مطلق کے لئے بھی ثابت کردیا حالانکہ اس نے اس سے نفی کردی لیکن جب مطلق کے لئے ثبوت نہیں تو فرد کے لئے بھی ثابت نہیں حالانکہ اس نے مطلق کے لئے ثابت کیا ہے۱۲(ت)
بالجملہ نہ جماعت اولٰی پرترجیح تہجّد وجہ صحت رکھتی ہے نہ حکم وجوب وتاکد جماعت اولٰی سے متعدی ہے نہ باعتماد ثانیہ ترك اولٰی کی اجازت ہوسکتی ہے نہ ہرگز اولٰی وثانیہ کاثواب مساوی ہے بلکہ باعتماد ثانیہ تفویت اولٰی گناہ قطعی اجماعی ہے ، ہاں مسجد اگرمسجد شارع ہو یعنی اس کے لئے کوئی جماعت معلوم معین نہیں جیسے بازاروں کی مسجدیں کہ کسی خاص محلہ وگروہ سے مختص نہیں کچھ راہ گیر آئے پڑھ گئے کچھ پھرآئے وہ پڑھ گئے ، یوں ہی متفرق گروہ آتے اور پڑھتے جاتے ہیں تو وہاں اس قول کی گنجائش ہے کہ ایسی مساجد کی ہرجماعت جماعت اولٰی ہے ،
فان الاولی الناھیۃ عن الثانیۃ مطلقا او بشرطہ ھی مافعلھا اھل المسجد باذان جھر اواقامۃ حتی لو ان مسجدا من مساجد الحی اتاہ قوم من غیراھلہ فاذنوا واقاموا وصلوا جماعۃ کان لاھلہ ان یصلوا جماعۃ من دون حاجۃ الی العدول عن المحراب لان الحق لھم فلایبطل بفعل غیرھم کمانصوا علیہ ، ومساجد الشوارع لااھل لھا معینا فلایتحقق فیھا الاولی بالمعنی المذکور بل الکل اولی اذلیس بعض من بعض باولی۔
کیونکہ پہلی جماعت دوسری جماعت سے ہرحال میں روکنے والی ہے یا اس شرط کے ساتھ کہ پہلی جماعت اہل محلہ نے بلند اذان واقامت کے ساتھ اداکی ہو حتی کہ اگرغیرمحلہ کے لوگ کسی محلہ کی مسجد میں آئے اور انہوں نے اذان دی اقامت کہی اور جماعت کروائی تو اب اہل محلہ محراب تبدیل کئے بغیر جماعت کروانے کاحق رکھتے ہیں کیونکہ جماعت کرنے کاحق ان کا ہے توغیر کی جماعت کی وجہ سے ان کا حق باطل نہیں ہوسکتا جیسا فقہا نے اس کی تصریح کی ہے اور راستے کی مساجد میں کوئی عملی جماعت متعین نہیں ہوتی لہٰذا باعتبار معنی مذکور کے ایسی مساجد کی کوئی ایك جماعت اولٰی نہ ہوگی بلکہ ہرایك اولٰی ہوگی کیونکہ وہاں بعض بعض سے اَولٰی نہیں ہوتے۔ (ت)
ولہٰذا ہرگروہ کہ آتاجائے اپنی اپنی جدا اذان واقامت سے جماعت کرے
کمافی ردالمحتار عن خزائن الاسرار عن امالی الامام قاضی خاں وفی خانیتہ مسجد لیس لہ مؤذن وامام معلوم ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ
جیسا کہ ردالمحتار میں خزائن الاسرار سے امالی قاضیخاں سے اور انہی کے فتاوٰی خانیہ کے حوالے سے ہے ہروہ مسجد جہاں کوئی مؤذن وامام مقرر نہ ہو وہاں لوگ مسجد میں گروہ درگروہ نمازاداکریں کیونکہ افضل یہ ہے کہ ہرگروہ اذان واقامت کے ساتھ
علی حدۃ [1] وفی الشامیۃ عن المنبع اما مسجد الشارع فالناس فیہ سواء لااختصاص لہ بفریق دون فریق[2] ١ھ۔
الگ الگ نمازپڑھے ۱ھ۔ اور فتاوٰی شامی میں منبع سے ہے رہا معاملہ مسجد شارع کا تو اس میں تمام لوگ برابرہوتے ہیں اس میں کسی ایك فریق کوتخصیص حاصل نہیں ہے۱ھ(ت)
الحمدﷲ کلام پنے ذردہ اقصی کو پہنچا اور حکم مسائل نے غایت انجلا پایا ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق کاتقاضا یہی تھا اوراﷲتعالٰی ہی توفیق کامالك ہے۔ ت) روشن رہے کہ فقیر غفراﷲتعالٰی لہ ، کو کسی کے کلام پراخذ مقصود نہیں بلکہ صرف اظہارحق وادائے واجب اکد واحق کے بعد سوال اعانت جواب و ابانت صواب اہم واجبات شرعیہ سے ہے جس پر ہم سے حضورپرنور خاتم النّبیین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عہدواثق لیا۔
اللھم اجعلنا من المفلحین وبعھد نبیك من الموفین علیہ وعلی اٰلہ الصلوۃ والتسلیم ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم۔
اے اﷲ! ہمیں کامیاب ہونے والوں میں سے کردے او اپنے نبی علیہ وعلٰی آلہ الصلوٰۃ والتسلیم کے ساتھ عہد ایفاء کرنے والابنادے۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے قبول فرما بیشك تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے(ت)
الحمدﷲ کہ یہ ضروری وموجز جواب کاشف صواب فرصت اختلاصی کے چند متفرق جلسوں میں ۲۴صفر ۱۳۱۲ہجریہ روزجان افروزدوشنبہ کو وقت اشراق مہرمشرق سمائے ختام وبلحاظ تاریخ بدء وختم القلادۃ المرصعۃ فی نحرالاجوبۃ الاربعۃ اس کا پورانام ھوا واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲ ربّ العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔
__________________
اَلْقَطُوْفُ الدَّانِیَۃ لِمَنْ اَحْسَنَ الْجَمَاعَۃَ الثَّانِیَۃ ۱۳۱۳ھ
(جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے)
(جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۸۶۶ : از مرادآباد مدرسہ امدادیہ مرسلہ مولوی سید محمد حبیب الرحمن صاحب سلہٹی۱۱ جمادی الاولٰی ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ بغیر اذان واقامت درصورت بدل دینے ہیأت جماعت اولٰی کی ازروئے شرع شریف بلاکراہت جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جماعتِ ثانیہ بلاکراہت مطلقہ مطلقًا جائزومباح عند اہل التحقیق ہے جس کی تنقیح بالغ وتوضیح بازغ مع ردوامع اوہام نابغ بعض ابنائے زمان بعونہٖ تعالٰی رسائل فقیر سے ظاہروعیاں ، یہاں نفس مسئلہ کے اجمالی احکام اور ان کے متعلق نقول ونصوص علمائے کرام پر اقتصار کیجئے کہ شان فتوی اسی کے شایاں ۔
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (میں کہتاہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اور اﷲتعالٰی کی توفیق سے تحقیق کی گہرائی تك پہنچاجاسکتاہے۔ ت)
اَوّلًا تکرار جماعت کے جوازوافضلیت کی وہ صورتیں سنئے جن میں اصلًا نزاع کوگنجائش نہیں :
(۱$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع