دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

یہ حدیث صحیح نص صریح ہے کہ وقت اقامت تك مسجدمیں حاضر نہ ہونا وہ جرم قبیح ہے جس پر حضور اقدس صلوات الله تعالٰی وتسلیماتہ علیہ وعلٰی آلہ الکرام نے ان لوگوں کے جلادینے کا قصد فرمایا ، علماء فرماتے ہیں یہ ارشاد کہ تکبیر کہلواکر نماز شروع کراؤں اس کے بعد تشریف لے جاؤں اسی بناپرتھا کہ ان کی عدم حاضری ثابت اور الزام تخلف قائم ہولے اس کا منشا وہی تحقیق ہے جو ہم نے ذکر کی کہ ایجاب اجابت تاوقت اقامت موسع ہے۔ امام اجل ابوزکریا نووی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :

انماھم باتیانہم بعد اقامۃ الصلا ۃ لان بذالك یتحقق مخالفتہم وتخلفہم

اقامت نماز کے بعد آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا ان کی طرف جانے کا ارادہ اس لئے ہے کہ یہ وہی

 

عــــہ قولہ بعد نقیض قبل مبنی علی الضم فلما حذف منہ المضاف الیہ بنی علی الضم وسمی غایۃ لانتھاء الکلام الیھا والمعنی بعد ان یسمع النداء الی الصلاۃ[1] ١ھ عمدۃ القاری قلت والنفی اذا لاقی زمانا استغرق جمیع اجزائہ فیمتدّ من بدء وقت المضاف الیہ الی اٰن التکلم ،  ولذا یرجع حاصلہ فی امثال المقام الی قولك الی الاٰن ،  تقول ماجاء نی بعد ای بعد ان ذھب الی ھذا الحین وھذا معنی قولہ سمی غایۃ لانتھاء الکلام الیھا ۱۲منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)                         

قولہ “ بعد “ یہ قبل کی نقیض ہے یہ مبنی علم الضم ہے۔ کیونکہ جب اس کا مضاف الیہ محذوف ہو تو یہ مبنی علی الضم ہوتاہے۔ کلام اس پرختم ہونے کی وجہ سے اسے غایت بھی کہاجاتاہے۔ الفاظ حدیث کامعنی یہ ہے کہ جونماز کی اذان سن کر نماز کے لئے نہیں آتے۱ھ عمدۃ القاری قلت(میں کہتاہوں ) جب نفی کسی زمان پر ملاقی ہو تو تمام اجزاء کومحیط ہوگی تو اس کا احاطہ وقت مضاف الیہ کی ابتداء سے لے کر وقت تکلم تك ہوتاہے ، اسی لئے ایسی عبارت کامعنی ایسے مقامات پرمثلًا “ اب تک “ ہوتاہے مثلًا کوئی کہے ماجاء نی بعد یعنی وہ جانے کے بعد اس وقت تك نہیں آیا ، اور جو انہوں نے کہا کہ اس پر انتہاء کلام کی وجہ سے اسے غایت کہاجاتاہے اس کا معنی ومفہوم بھی یہی ہے ۱۲منہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ (ت)

فلیتوجہ اللوم علیہم [2] الخ

وقت ہے جب نہ آنے والوں کی عدم حاضری اور الزام تخلف ثابت ہوچکا جس کی وجہ سے وہ ملامت کے مستحق قرارپائے ہیں الخ(ت)

اقول :  یہاں سے واضح ہوگیا کہ ظاہر حدیث میں جو کلام قنیہ و مجتبٰی کی تائید نکلتی تھی ممنوع وساقط ہے معہذا شك نہیں کہ حضور مسجد بنفسہٖ عبادت مقصودہ نہیں بلکہ غرض شہود جماعت ہے اور قبل از اقامت فوت جماعت غیرمعقول تواقامت تك وجوب موسع ماننے سے چارہ نہیں مگربات یہ ہے کہ اقامت تك تاخیر یاتو امام معین کو میسر جس کے بن آئے جماعت قائم ہی نہ ہوگی یا اسے جس کامکان مسجد سے ایسا ملاصق کہ تکبیر کی آواز اس پرمخفی نہ رہے گی ان کے سوا اور نمازیوں کو انتظار اقامت کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں کہ جب نہ تکبیر ان پر موقوف نہ انہیں اس کی آواز آئے گی تو کس چیز کا انتظار کررہے ہیں ایسوں کو اُسی وقت تك تاخیر واجب تك تفویت کاخوف نہ ہو حدیث ایسے ہی لوگوں پرمحمول اور ممکن کہ کلام قنیہ و مجتبٰی بھی اسی معنی پر حمل کریں فیحصل التوفیق وباﷲ التوفیق۔

رابعًا : اگربفرض باطل یہ احکام مطلق جماعت کے ہوتے کہ اولٰی وثانیہ دونوں جس کے فرد کو واجب تھا کہ بعد فوت اولٰی ثانیہ بالتعیین واجب ومؤکد ہوتی کہ اب برأت ذمہ اسی فرد میں منحصر ہوگئی حالانکہ ہمارے ائمہ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کو بعد فوت اولٰی وجوب درکنار نفس جواز ثانیہ میں نزاع عظیم ہے ظاہرالروایہ عــــہ۱  منع وکراہت ہے اگرچہ ماخوذ ومختار جواز ہے جبکہ بے اعادہ اذان ہیأۃ اولٰی بدل کر ہو کما بیناہ فی فتاوٰنا بما یقبل المنصف وان کابرالمتعسف (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے جسے منصف قبول اور متعسف مخالفت کرے گا۔ ت) امام اجل ظہیرالدین مرغینانی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :

لودخل جماعۃ المسجد بعد مایصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا وھوظاھر الروایۃ[3] ۔

اگرکچھ آدمی کسی ایسی مسجد میں داخل ہوئے کہ وہاں کے لوگ باجماعت نماز اداکرچکے تھے تو اب یہ تنہا تنہا پڑھیں اور یہی ظاہرروایت ہے۔ (ت)

 

عــــہ۱ یہاں کلام علی ماھوالمشہور بین کثیر من الناس ہے فقیر غفرالله تعالٰی لہ پر کہ اس کی تحقیق بجمیل توفیق و جلیل تطبیق فائض ہوئی خاص اسباب میں تحریر فقیر سے دیدنی ۱۲منہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  (م)

وبعبارۃ اخری جس جماعت کو علماء واجب یاسنت موکدہ کہتے ہیں اس کا تاکد متفق علیہ ہے اور ثانیہ کا بعد فوت اولٰی بھی نفس جواز مختلف فیہ توثانیہ کسی وقت اس جماعت سے نہیں جس کاحکم وجوب و تاکد ہے لیکن ثانیہ دائما مطلق جماعت کی فرد ہے تولاجرم یہ احکام مطلق اصولی کے نہیں بلکہ خاص اولٰی کے ہیں وھو المطلوب (اور مطلوب یہی تھا۔ ت) ردالمحتار میں ہے :

قدعلمت ان تکرارھا مکروہ فی ظاھر الروایۃ الا فی روایۃ عن الامام وروایۃ عن ابی یوسف عــــہ کما قدمناہ قریبا وسیأتی ان الراجح عند اھل المذھب وجوب الجماعت وانہ یاثم بتفویتھا اتفاقا [4]۔                

آپ نے جانا کہ جماعت کا تکرار ظاہرروایت میں مکروہ ہے مگرامام صاحب سے ایك روایت اور امام ابویوسف سے ایك روایت میں مکروہ نہیں جیسا کہ ہم نے ابھی پہلے بیان کیااور عنقریب آرہاہے کہ اہل مذہب کے ہاں راجح وجوب جماعت ہے اور جماعت کو فوت کرنے والا بالاتفاق گنہگار ہے(ت)

بھلا وہ کیاچیز ہے جس کی تفویت بالاتفاق گناہ ہے ثانیہ کو تو اسی عبارت میں روایت مشہورہ پرمکروہ بتارہے ہیں لاجرم وہ اولٰی ہی ہے توثانیہ کے اعتماد پر اسے فوت کرنا بالاتفاق گناہ ہے اور گناہ کی اجازت دینی اس سے بھی بدتر۔

وبعبارۃ ثالثۃ وہی علما کہ جماعت ثانیہ کو مکروہ بتاتے ہیں وجوب تأکد جماعت کی تصریح فرماتے ہیں کما لایخفی علی من تتبع کلمات القوم وقد علمت الخلف والوفاق 

(جیسا کہ ہراس شخص پر واضح ہے جوفقہاء کی عبارات سے آگاہ ہے اور تو اس میں اختلاف واتفاق کو جانتا ہے۔ ت) اور وجوب و تاکد کا کراہت سے اجتماع بمعنی نہی عن الفعل یاندب ترك بعد حصول المتاکد یقینا محال اگرچہ بمعنی المطلوب المطلوب الدفع قبل الحصول و مطلوب الفعل بعد الحصول ممکن اور شك نہیں کہ یہاں اجتماع ہوگا توبمعنی اول فاعرف وافھم ان کنت تفھم بالیقین (اسے پہچان کر اچھی طرح سمجھ لے اگر توفیق کوپانے والا ہے۔ ت) وہ حکم اجماعی ایسی ہی جماعت کا ہے جو ثانیہ کو شامل نہیں ورنہ قول مشہور نہ صرف مہجور بلکہ قول بالمحال اور معاذالله 

عــــہ قلت وروایۃ عن محمد کما فی البحر والمجتبی والحلیۃ وغیرھا ۱۲منہ (م)

میں کہتاہوں امام محمد سے بھی ایك روایت یہی ہے جیسا کہ بحر ، مجتبٰی ، حلیہ اور دیگر کتب میں ہے ۱۲منہ (م)

قانون عقل وتمیز سے دور ہوگا وای شناعۃ اشنع من ذلك (یعنی اس سے بڑھ کر بدبختی کیاہوگی۔ ت)

خامسًا :  ایك بدیہی بات ، سنیت کا ہے سے ثابت ہوتی ہے مواظبت حضورسید المرسلین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مطلقًا یامع الترك احیانًا اور وجوب کوکیا چاہے ، انکاراعلی الترك بھی یا صرف مواظبت دائمہ ، اب دیکھ لیاجائے کہ حضوراقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کس جماعت پر مواظبت فرمائی اور کس کے ترك پرنکیر آئی ، ظاہر ہے کہ وہ جماعت اولٰی ہی تھی تو وجوب یا استنان موکد اسی کا حکم ہے نہ مطلق ثانیہ کا۔

تنبیہ : احکام افراد جانب مطلق سرایت کرتے شبہہ نہیں مگر وہ مطلق مطلق منطقی ہے جس کے تحقق کو تحقق فرد واحد اور اس پرصدق کا حکم کو صدق علی فرد ولوعلی خلاف سائر الافراد کافی ، ولہذا بتضاد احکام افراد مورد احکام متضاد ہوتا ہے بایں معنی مطلق جماعت بیشك فرض واجب سنت مستحب مباح مکروہ حرام سب کچھ ہے کہ جماعت ظہر فی المصر یوم الجمعہ وغیرہ سب کو شامل ، اس معنی پر حکم فرد کی مطلق سے نفی دوبار قول بالمتناقضین ہے لثبوتہ ونفیہ کلیھما عــــہ والمطلق کلیھما (ثبوت



[1]   عمدۃ القاری باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۷۴

[2]   شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم  باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ زیرحدیث مذکور مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲

[3]   ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی ظہیریہ مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن