30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدثنا من کان یقرینا من اصحب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھم کان یقترؤن من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عشراٰیات ولایأخذون فی العشر الاخری
صحابہ کرام میں سے جوحضرات ہمیں قراء ت پڑھاتے انہوں نے فرمایا ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دس آیات پڑھتے اور ان کے بعد دس آیات کو اس وقت تك اخذنہ کرتے جب تك پہلی دس آیات کے علم وعمل کو
حتی یعلموا مافی ھذہ من العلم والعمل فانا علمنا العلم والعمل[1] ۔
نہ سیکھ لیتے ، یوں ہم علم اور عمل دونوں کوحاصل کرتے۔ (ت)
ابن سعد طبقات میں بطریق عبداﷲ بن جعفر عن ابی الملح عن میمون اور امام مالك موطا میں بلاغًا راوی :
ان ابن عمر تعلم البقرۃ فی ثمان سنین[2]۔
بیشك عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سورہ بقرہ کوآٹھ سال میں سیکھا۔ (ت)
خطیب بغدادی کتاب رواۃ مالك میں عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے راوی ، قال :
تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمہا نحرجزورا [3] ۔
حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سورہ بقرہ کوبارہ سال میں سیکھا ، جب انہوں نے اسے ختم کیا تو ایك اونٹ ذبح کیا۔ (ت)
توظاہر ہواکہ یہ روایات جہر واخفا قراء ا ت خارج ازنماز کی نقل ہیں اب بحمداﷲ تعالٰی اس ارشاد علماء کا راز واضح ہواکہ بیرون نمازاتباع امام قراء ت مناسب ہے اس کی نظیر منیرمسئلہ تعوذ ہے عامہ قرا کااس کے جہرپر اتفاق ہے۔ امام اجل ابوعمرو دانی نے اس پراجماع عـــــہ اہل ادا نقل فرمایا ، امام عارف باﷲ شاطبی نے باوصف حکایت خلاف ، تصریح فرمائی کہ ہمارے حفاظ رواۃ اس کا اخفانہیں مانتے۔ تیسیر باب ذکرالاستعاذہ میں ہے :
لااعلم خلافا بین اھل الاداء فی الجھر بھا عندافتتاح القراٰن وعند الابتداء برؤس الاجزاء وغیرھا فی مذھب الجماعۃ اتباعا للنص واقتداء بالسنۃ[4]۔
قرآنی نص اور سنت کی اتباع میں قرآن کی ابتداء میں اور پاروں وغیرہ کی ابتداء میں تلاوت شروع کرتے وقت جیسا کہ ایك جماعت کامذہب ہے۔ اعوذباﷲ کو جہرسے پڑھنے میں اہل ادایعنی قراء حضرات کا اختلاف نہیں ہے۔ (ت)
عـــــہ ای وان جاء ت الروایۃ علی انحاء وصلہا منہ
اگرچہ تعوّذ کے بارے میں مختلف صورتیں مروی ہیں ۱۲منہ (ت)
حرزالامانی و وجہ التہانی میں ارشاد فرمایا : ؎
اذا ما اردت الدھر تقرءٖ فاستعذ
جھارا من الشیطان باﷲ مسجلا[5]
(توزندگی بھرجب بھی قرآن کی قراء ت کرے تواعوذباﷲ کوبلندآواز سے پڑھ ، مسجّلًا۔ ت) سراج القاری میں ہے :
“ قولہ مسجلا ای مطلقا لجمیع القراء و فی جمیع القراٰن “ ۔[6]
اس کاقول مسجلًا یعنی تمام قراء حضرات کے نزدیك اور تمام قرآن میں ۔ (ت)
پھر فرمایا : ؎
واخفاؤہ فصل آباہ وعاتنا
وکم من فتی کالمھدوی فیہ اعملا [7]
اس کی شرح میں ہے :
ای روی اخفاء التعوذ عن حمزۃ ونافع اشار الی حمزۃ بالفاء من فصل والی نافع بالالف من اباہ وجھربہ الباقون وھم ابن کثیر و ابوعمرو وابن عامر وعاصم والکسائی ھذا ھو المقصود بھذا النظم بالباطن ونبہ بظاھرہ علی ان من ترجع قراء تہ الیھم من الامۃ ابوالاخفاء ولم یاخذوا بہ بل اخذوا بالجھر للجمیع ولذلك امربہ مطلقا فی اول الباب[8] ۔ ملخصا
یعنی امام حمزہ اور نافع سے اعوذباﷲ کااخفاء مروی ہے “ فصل “ کی فاء سے حمزہ کی طرف “ آباہ “ کے الف سے نافع کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور باقی قراء حضرات نے اعوذباﷲ کو جہرمانا ہے اور باقی حضرات یہ ہیں : ابن کثیر ، ابوعمرو ، ابن عامر ، عاصم اور امام کسائی۔ باطنی طورپر اس نظم کا یہ مقصد ہے ، اور ظاہر میں انہوں نے یہ تنبیہ کی ہے کہ جن ائمہ کی طرف قراء ت منسوب ہے انہوں نے اخفاء کاانکارکیاہے اور اس پرعمل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اعوذباﷲ کاجہرکیا ہے اور یہاں اول میں مطلقًا کہہ کر تمام قرآن میں تعوذ کے جہر کی طرف اشارہ کیا ہے(ت)
اب کون عاقل کہے گا کہ یہ اطباق جمہور رواۃ واتفاق جمیع اہل ادا ، نماز وغیرنماز سب کوشامل ، وہ سب تمام قراء کے طورپر نمازمیں بھی اعوذ بجہر پڑھتے تھے ، حاشا ، بلکہ قطعًا یہ روایات ونقول سب محل روایت وتلاوت بیرون نماز سے متعلق ہیں لاجرم شرح میں فرمایا :
قولہ فاستعذ جھارا ھوالمختار لسائر القراء وھذا فی الاستعاذۃ القاری علی المقرئ اوبحضرۃ من یسمع قرائتہ امامن قرأ خالیا اوفی الصلٰوۃ فالاخفاء اولی[9]۔
[1] مصنف ابن ابی شیبہ کتاب فضائل قرآن ۱۷۵۵ حدیث ۹۹۷۸ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ / ۴۶۰
[2] موطاامام مالك باب ماجاء فی القرآن مطبوعہ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۰
[3] رواۃ مالك للخطیب بغدادی
[4] تیسیر باب ذکرالاستعاذہ
[5] حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰
[6] سراج القاری المبتدی شرح منظومہ حرزالامانی ، باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۱
[7] حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع