دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

کاجواز نہ مانو اور جب تك یہ اعتقاد نہ رکھو کہ بسم اﷲ کاآہستہ پڑھنا ، بآوازپڑھنے سے افضل ہے اور جب تك تقدیرالٰہی پرایمان نہ لاؤ ، جب تم اﷲ عزوجل کے حضور کھڑے ہواور تم سے سوال ہو تو میرانام لے دینا کہ یہ عقائد ومسائل مجھے سفیان ثوری نے بتائے پھر مجھے اﷲتعالٰی کے حضور چھوڑکر الگ ہوجانا۔

 امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں : ھذا ثابت عن سفٰین وشیخ المخلص ثقۃ[1] ۔  یہ روایت سفیان سے ثابت ہے اور راوی ثقہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

افادہ ثالثہ عشر : اقول : ہم آفتاب روشن کی طرح ثابت کرآئے کہ اگربفرض باطل مذہب ثابت نہیں کہ ان کاطریقہ نماز میں ہرجگہ جہربسم اﷲ تھا تاہم ان کی قراء ت اختیارکرنی ، ہرگز اسے مستلزم نہیں کہ نماز میں درباہ جہر واخفاء اُن کی پیروی ضرورہوکہ یہ مسئلہ فقہیہ ہے اور ہم فقہ میں اُن کے مقلدنہیں ، آخرنہ دیکھا کہ ہمارے ائمہ کرام نے ان کی قراءت اختیار فرمائی اور نمازمیں بسم اﷲ شریف کے اخفاء کاحکم دیا ، لاجرم ہمارے علماء نے صاف صریح تصریح فرمائی کہ جہر و اخفائے بسم اﷲ شریف میں امام قراء ت کا اتباع بیرون نماز  ہے نماز میں اخفا ہی کرے ، اور بیرون نماز بھی اتباع قاری خاص صرف بروجہ اولویت ہے نہ بطور وجوب ولزوم و ضرورت۔

لما قدمنا ان القراء ات کلھا حقۃ بالیقین لااحتمال فیہا للخطأ ولاینافی بعضھا بعضا فلاھجر فی شیئ منھا لاجمعا ولاافراد مالم یؤد التلفیق الی التغییر بخلاف المجتھدات الخلافیۃ فان المجتھد یخطئ ویصیب فلا نعد وعما اعتقدنا انہ صواب یحتمل الخطأ الی ماظننا انہ خطأ یحتمل الصواب ولئن لفقت لربما اتفق الاقوال علی فساد العمل۔               

جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ تمام قراء ات برحق ہیں ، ان میں خطاء کااحتمال نہیں ہے اورایك دوسرے کے منافی بھی نہیں ہیں ، لہٰذا ان کوملاکرپڑھنا یاعلیحدہ علیحدہ پڑھنا اس وقت تك جائزہے جب تك ان کامختلف انداز معنی کی تبدیلی پیدانہ کرے۔ اس کے برخلاف اجتہادی اختلافی مسائل میں چونکہ مجتہد کے اجتہاد میں درستی اور خطا دونوں کااحتمال موجود ہے اس لئے وہاں ہم اپنے ظن میں درست کو اپنائیں گے اورجس کو ہم خطاسمجھیں گے اس کونہیں اپنائیں گے کیونکہ ہم اعتقاد کے پابند ہیں اگرچہ فی الواقع اس کی خطاء کااحتمال ہے ، اور یہاں اجتہادی مسائل میں مختلف مجتہدین کے اجتہاد کواپنانا عمل میں فساد پیداکردے گا۔ (ت)

مجتبی شرح قدوری پھر کفایہ شرح ہدایہ پھر ردالمحتار حاشیہ درمختارمیں ہے :

لایجھر بھا فی الصلٰوۃ عندنا خلافا للشافعی وفی خارج الصلٰوۃ اختلاف الروایات و المشایخ فی التعوذ والتسمیۃ قیل یخفی التعوذ دون التسمیۃ والصحیح انہ یتخیر فیھما ولکن یتبع امامہ من القراء وھم یجھرون بھما الا حمزۃ فانہ یخفیھما [2]١ھ۔      

ہمارے نزدیك نمازمیں جہرنہیں ہے ، امام شافعی اس کے خلاف ہیں ، اور خارج ازنماز بسم اﷲ اور اعوذباﷲ میں مشائخ اور روایات کااختلاف ہے ایك قول میں اعوذباﷲ کومخفی اور بسم اﷲ کوجہرکے ساتھ لیکن صحیح یہ ہے قاری کو اختیارہے کہ دونوں کوآہستہ پڑھے یابلندپڑھے ، لیکن ائمہ قراء میں سے اپنے امام کی اتباع بہترہے امام حمزہ جہر کے قائل نہیں ہیں باقی ائمہ جہرکے قائل ہیں ۱ھ(ت)

بحمداﷲ تعالٰی یہ خیالات وہابیہ کے رَد میں ہمارے علماء کانص صریح ہے۔

افادہ رابعہ عشر : اقول : وباﷲ التوفیق حقیقت امریہ ہے کہ روایات قراء طبقۃً  فطبقۃً  قرنًا  فقرنًا بذریعہ تدریس وتعلیم وتلقی تلامذہ عن الشیوخ ہیں تو یہ جہر و اخفا اوقات تعلیم واقرا کی خبر دیتے ہیں نہ خاص حال نماز کی ، حضورپرنور سیدالعالمین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کے بعد توطریقہ تعلیم قرآن عظیم معین رہاکہ تلامذہ پڑھتے استاذ سنتے بتاتے ، نہ یہ کہ نمازوں میں سن سن کرسیکھتے جس میں سوال وجواب وتفہیم وتفہم کاکوئی موقع نہیں ، بیرون نماز بھی قراء ت شیوخ کادستورنہ تھابلکہ اسے ناکافی سمجھتے اگرچہ یہاں ممکن تھا کہ جو طرز ادا تلمیذ کی سمجھ میں نہ آتا دریافت کرلیتا استاد اعادہ کردیتا۔ اتقان شریف میں ہے :

اوجہ التحمل عند اھل الحدیث السماع من لفظ الشیخ والقراء ۃ علیہ ،  والسماع علیہ بقراء ۃ غیرہ ،  والمناولۃ والاجازۃ والمکاتبۃ والعرضیۃ والاعلام والوجادۃ ،  فاما غیرالاولین فلایاتی ھنا لما یعلم مما سنذکرہ ،  واما القراء ۃ علی الشیخ فھی المستعملۃ سلفا وخلفا ،  واما السماع من لفظ الشیخ فیحتمل ان یقال بہ ھنا لان الصحابۃ رضی اﷲ عنہم انما اخذوا القراٰن من فی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکن لم یأخذ بہ احد من القراء  والمنع فیہ ظاھر لان المقصود ھھنا کیفیۃ الاداء و لیس کل من سمع من لفظ الشیخ یقدر علی الاداء کھیأتہ ،  بخلاف الحدیث فان المقصود فیہ المعنی اواللفظ لابالھیاٰت المعتبرۃ فی اداء القراٰن  ،  واما الصحابۃ فکانت فصاحتھم وطباعھم السلیمۃ تقتضی قدرتھم علی الاداء کما سمعوہ من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانہ نزل بلغتھم ،  ومما یدل للقراء ۃ علی الشیخ                          

محدثین کے ہاں اپنے شیخ سے حدیث اخذ کرنے کے کئی طریقے ہیں ، شیخ کے الفاظ کوسننا ، شیخ پرپڑھنا ، دوسرے شاگرد کوپڑھتے ہوئے سننا ، لکھے ہوئے کو لینا ، مرویات کی اجازت لینا ، لکھنا ، وصیت کے طورپراپنانا ، اطلاع حاصل کرنا ، شیخ کے لکھے ہوئے کو پہچان کریادکرنا ، لیکن قرآن کی قراء ت کے بارے میں پہلے دوطریقوں کے علاوہ دوسرے طریقے جائز نہیں جیسا کہ اس کی وجہ ہم بیان کریں گے ، یہاں قراء ت میں شیخ پرشاگرد کاپڑھنا ابتداء سے آج تك مروّج ہے اور شیخ سے سننا بھی یہاں جائز ہوسکتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم نے قرآن کو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبان مبارك سے سن کر اخذکیا ہے ، لیکن قراء حضرات نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا اس کی وجہ یہ ہے کہ قراء ۃ میں ادائیگی کی کیفیت حاصل کرنامقصود ہوتا ہے ، اور یہ ضروری نہیں کہ استاذ کی ادائیگی کی کیفیت کومحض سننے پراخذکرلے ، لہٰذا قراء ت میں یہ طریقہ منع ہے مگرحدیث میں معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ یہاں معنی یا لفظ مقصود ہوتے ہیں لیکن ادائیگی والی کیفیت قرآن کی طرح یہاں معتبرنہیں ہے ، ہاں صحابہ کرام کامعاملہ

عرض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم القراٰن علٰی جبریل فی رمضان کل عام [3] ھ

الگ ہے کیونکہ وہ اپنی فصاحت اور سلامتی طبع کی بناء پر حضورعلیہ السلام سے سن کر قراء ت کواسی کیفیت سے اداکرنے پرقدرت رکھتے تھے اور اس لئے بھی کہ قرآن ان کی لغت میں نازل ہوا ہے ، اور قرآن کواخذ کرنے میں شیخ کوسنانے والاطریقہ اس لئے بھی جائزہے کہ ہرسال حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام رمضان میں جبرائیل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھے۱ھ(ت)

اور صحابہ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   نے اگرچہ بسبب کمال افادہ حضور فاعل کامل   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  و نہایت استعداد نفوس قوابل   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   حضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے سن کر سیکھا مگروہ بھی بطور تعلیم وتلقین ظاہر و باطن ونظم ومعنی وحکم وحکمت تھا نہ یوں کہ صرف نماز میں قراء ت اقدس سے لفظ یادکرلئے ، صحابہ کرام دس دس آیتیں مع ان کے علم وعمل کے سیکھتے جب ان پرقادر ہوجاتے دس اور تعلم فرماتے۔ اسی طرح امیرالمومنین عمرفاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے بارہ برس میں سورہ بقرحضورپرنور   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے پڑھی جب ختم فرمائی ایك اونٹ ذبح کیا ، عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  ا نے آٹھ سال میں پڑھی کہ جس قدرتدبر زائد دیر زائد ، ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی ، قال :

کنا اذا تعلمنا من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عشراٰیات من القراٰن لم نتعلم من العشر التی نزلت بعدھا حتی نعلم مافیہ ،  فقیل لشریك من العمل قال نعم[4]

ہم جب حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے قرآن کی دس آیات کاعلم حاصل کرتے تواس کے بعد والی دس آیات کی تعلیم حاصل نہ کرتے جب تك پہلی آیات میں بیان شدہ اعمال کومعلوم نہ کرلیتے۔ شریك سے پوچھاگیاکہ آیات کے بیان شدہ اعمال سیکھنا مرادہے ، توانہوں نے کہاہاں ۔ (ت)

ابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ابوعبدالرحمن سلمی سے راوی ، قال :

 



[1]   تذکرۃ الحفاظ للذہبی عنوان سفیان بن سعید ثوری ۴۳ بحولہ اللالکائی مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباددکن ۱ / ۱۹۳

[2]   ردالمحتار بحوالہ الکفایہ عن المجتبٰی  فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹۰

[3]   الاتقان فی علوم القرآن النوع الرابع والثلاثون الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۹

[4]  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن