دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

یہ روایت سراج میں ہے ، کہا : پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے تو جو لوگ حاضر تھے وہ تھوڑے تھے آپ سخت غضب میں ہوگئے ، میں نے آج تك آپ کو اتنا غضبناك کبھی نہیں دیکھاتھا ، پھر فرمایا : میں ارادہ کرتاہوں میں کسی آدمی کو حکم دوں جو جماعت کروائے پھر میں ان گھروں کی طرف جاؤں جن کے اہل اس نماز میں حاضر نہیں ہوئے اور ان کو آگ سے جلادوں ۔ (ت)

شدید غضب وجلال محبوب ذی الجلال  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چہرہ اقدس سے ظاہر ہوا ، ارشاد فرمایا : خدا کی قسم میرے جی میں آتا ہے کہ مؤذن کو تکبیر کاحکم دوں پھر کسی کو  عـــہ امامت کے لئے فرماؤں پھر بھڑکتی ہوئی مشعلیں لے جاؤں اور ان لوگوں پر ان لوگوں کے گھر پھونك دوں جنہیں یہ اذان سنے یہ وقت ہوگیا اب تك گھروں سے نماز کو

(عــہ)فان قلت الیس فی نفس الحدیث مایدل ان الاولی لاتجب عینا والالماھم ھو صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یقیم الصلاۃ ثم ینصرف الیھم لاحراق بیوتھم۔

قلت ھذا السؤال قد اورد قبل علی الاحتجاج بالحدیث لوجوب الجماعۃ وقد تصدی العلماء لجوابہ قال العلامۃ البدر محمود العینی فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الثالث (ای من وجوہ الجواب عن حدیث الباب) ماقالہ ابن بزیزۃ عن بعضھم انہ استنبط من نفس الحدیث عدم الوجوب لکونہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھم بالتوجہ الی المتخلفین فلوکانت الجماعۃ فرض عین ماھم بترکھا اذا توجہہ قال العینی ثم نظر فیہ ابن بزیزۃ بان الواجب یجوز ترکہ لما ھو اوجب منہ[1] ١ھ کلام العمدۃ۔                                      

اگرآپ کہیں کہ کیا نفس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس بات پردلالت کررہی ہو کہ پہلی (جماعت) واجب عینی نہیں ہے ورنہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کسی کو جماعت قائم کرنے کاحکم دے کر اس (جماعت میں نہ حاضر ہونے والوں ) کے گھروں کو جلانے کا ارادہ نہ کرتے۔

قلت (میں کہتاہوں ) پہلے یہی سوال اس حدیث سے وجوب جماعت پراستدلال کرنے پر وارد ہوا اور علما ء اس کے جواب کے درپے ہوئے ہیں چنانچہ علامہ بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھا تیسرا(یعنی حدیث باب پراعتراض کے جوابات میں سے) جواب وہ ہے جو ابن بزیزہ نے بعض محدثین کے حوالے سے ذکر کیا وہ یہ ہے کہ نفس حدیث سے عدم وجوب ثابت ہوتاہے کیونکہ آپ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے حاضر نہ ہونے والوں کی طرف جانے کاارادہ کیا ہے اگرجماعت فرض عین ہوتی تو آپ اسے چھوڑ کر وہاں جانے کاارادہ نہ کرتے۔ امام عینی کہتے ہیں پھر ابن بزیزہ نے اس کو یہ کہتے ہوئے محل نظر قراردیا کہ بعض اوقات اہم واجب کی وجہ سے دوسرے کم درجہ واجب کو ترك کیاجاسکتاہے ۱ھ(عمدۃ القاری کی عبارت ختم ہوئی)(باقی برصفحہ آئندہ)

نہیں نکلتے۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

اقول :  فلقد صح مثل ذلك عنہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی الجمعۃ اخرج مسلم فی صحیحہ عن عبدالله یعنی ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال لقوم یتخلفون عن الجمعۃ لقد ھممت ان اٰمر رجلایصلی بالناس ثم احرق علی رجال یتخلفون عن الجمعۃ بیوتھم[2] ۔

اقول :  علا ان عبدالله بن وھب روی الحدیث فی مسندہ فقال حدثنا ابن ابی ذئب حدثنا عجلان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ فذکر الحدیث وفیہ لینتھین رجال من حول المسجد لایشھدون العشاء اولاحرقن بیوتھم[3]  وقد قال فی حدیث سقناہ عن الجامع الصحیح ثم اٰخذ شعلا من نار ولانسلم ان بین ان یذھب بعد الاقامۃ بشعل قد اوقدت الی بیوت حول المسجد فیضرمھا علیھم وبین الرجوع الی المسجد مایوجب

اقول : (میں کہتاہوں ) یہی بات صحت کے ساتھ رسالت مآب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نماز جمعہ کے بارے میں بھی ثا بت ہے ، امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عبدالله بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جمعہ سے غیرحاضر لوگوں کے بارے میں فرمایا : میراجی چاہتاہے کہ میں کسی آدمی کو جماعت کاحکم دوں کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھرجلادوں جو جمعہ سے غیرحاضررہتے ہیں ۔

اقول : (میں کہتاہوں ) اس کے علاوہ عبدالله بن وہب نے اپنی مسند میں ذکر کیا کہ ہمیں ابن ابی ذئب نے انہیں عجلان نے انہیں سیدنا ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حدیث بیان کی پھر حدیث ذکر کی اس کے الفاظ یوں ہیں : مسجد کے پڑوسی ضرور بازآجائیں جو نمازعشا میں حاضرنہیں ہوتے ، ورنہ میں ان کے گھرجلادوں گا۔ اور اس حدیث میں جسے ہم نے جامع صحیح کے حوالے سے لکھا یہ بھی ہے ، فرمایا پھر میں آگ کی مشعل لوں اور ہم نہیں مانتے کہ درمیان اس کے کہ اقامت کے بعد آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کامسجد کے اردگرد لوگوں کے گھروں کوجلانے کے لئے مشعل لے کر جانا اور درمیان اس کے کہ مسجد کی طرف لوٹ آنا کوئی

(باقی برصفحہ آیندہ)

البخاری عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال قال النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لیس صلاۃ اثقل علی المنافقین من الفجر والعشاء ولو یعلمون مافیھما لاتوھما ولوحَبوًا لقد ھممت ان اٰمر المؤذن فیقیم ثم اٰمر رجلا یؤم الناس ثم اٰخذ شعلامن نار فاحرق علی من لایخرج الی الصلاۃ

البخاری ، حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسالت مآب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ منافقین پرفجروعشا کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز بھاری نہیں ۔ اگرانہیں ان کے درجہ وفضیلت کا علم ہوجائے تو وہ گھٹنوں کے بل ان کی ادائیگی کے لئے آئیں ، میراجی چاہتاہے کہ میں مؤذن کو تکبیر کاکہوں اور کسی دوسرے کو جماعت کا حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھرمیں آگ کی مشعل لے کر ان پرپھینکوں جونماز کے لئے ابھی تك گھروں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

تفویت الجماعۃ حتی یلزم الترك نعم یفوت الادراك من اول الصلاۃ وھولیس الافضیلۃ ،  ربما یترك لاقل من ھذا اعلی ،  السکینۃ فی المشی لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا سمعتم الاقامۃ فامشوا الی الصلاۃ وعلیکم بالسکینۃ و الوقار فما ادرکتم فصلوا ومافاتکم فاتموا[4]  ،  رواہ الشیخان وغیرھما عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ فسقط الاشکال راسا ولله الحمد واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۱۲منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔  (م)                                              

زیادہ وقت ہے جو جماعت کو فوت کردیتاہے ، حتی کہ ترك جماعت لازم آئے ، ہاں اول نماز کا فوت ہونا لازم آتاہے اور وہ فضیلت کے سواکچھ بھی نہیں ، بعض اوقات اس سے بھی کم درجہ شی کی بنا پر اعلٰی کو تك کیاجاسکتاہے ، مثلًا جماعت کے لئے دوڑنے کی بجائے سکون سے چلناچاہئے کیونکہ نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمان ہے جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف چلو دراں حال تم پرسکون ووقار لازم ہے جو حصہ نماز پالو اسے اداکرو اور جو رہ جائے اسے پواراکرلو۔ اسے بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے ، تو اب اشکال سرے سے ختم ہوگیا۔ وﷲ الحمد واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم ١٢منہ رضی اﷲتعالٰی عنہ (ت)

بعد[5]  عــــہ

سے نہیں نکلے۔ (ت)

 



[1]   عمدۃ القاری  باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۶۴

[2]   صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ بیان التشدید فی التخلف عنہا مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲

[3]   عمدۃ القاری بحوالہ مسند عبداللہ بن وہب مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۵ / ۱۶۰

[4]   صحیح بخاری باب ماادرکتم فصلوا الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۸

[5]   صحیح البخاری باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن