30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمعنی ابی وانا اقول بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم فقال ای بنی ایاك والحدث قال ولم اراحدا من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان ابغض الیہ الحدث فی الاسلام یعنی منہ قال وصلیت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومع ابی بکر ومع عمر ومع عثمٰن فلم اسمع احدا منھم یقولھا فلاتقلھا ، انت اذا صلیت فقل الحمد ﷲ رب العٰلمین[1]۔
یعنی مجھے میرے باپ نے نماز میں بسم اﷲ شریف پڑھتے سنا ، فرمایا اے میرے بیٹے! بدعت سے بچ۔ ابن عبداﷲ کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں اُن سے زیادہ کسی کو اسلام میں نئی بات نکالنے کادشمن نہ دیکھا ، انہوں نے فرمایا میں نے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم و ابوبکرصدیق و عمرفاروق و عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ نماز پڑھی کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہیں سنا تم بھی نہ کہو جب نمازپڑھو الحمدﷲ رب العالمین ، سے شروع کرو۔
انہی عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کسی امام کو بسم اﷲ جہرسے پڑھتے سنا ، پکارکرفرمایا :
یاعبداﷲ انی صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر وعمر وعثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم فلم اسمع احدا منھم یجھربھا[2]۔ رواہ الامام الاعظم ذکرہ فی الفتح۔
اے خدا کے بندے! میں نے رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وابوبکر و عمر و عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ان میں کسی کوبسم اﷲ جہر سے پڑھتے نہ سنا ، اس کو امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے روایت کیا اسے فتح میں ذکرکیاگیاہے۔
امام اعظم و امام محمد و امام احمد و امام طحاوی و امام ابوعمر ابن عبدالبر حضرت عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے راوی :
الجھر ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قرأۃ الاعراب[3] ۔
بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنی گنواروں کی قراء ت ہے۔
نیز اسی جناب سے مروی ہوا :
لم یجھر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالبسملۃ حتی مات[4] ۔ ذکرہ المحقق فی الفتح۔
نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کبھی بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرمایا یہاں تك کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اسے محقق نے فتح میں ذکرکیا۔
اثرم بسند صحیح عکرمہ تابعی شاگرد خاص حضرت عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے راوی :
انا اعرابی ان جھرت ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم [5] ۔
میں گنوار ہوں اگر بسم اﷲ شریف جہرسے پڑھوں ۔
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی :
حدثنا حماد بن زید عن کثیربن شنظیر ان الحسن سئل عن الجھر بالبسملۃ فقال انما یفعل ذلك الاعراب[6] ۔
حماد بن زید نے کثیر بن شنظیر سے بیان کیاکہ امام حسن بصری سے جہربسم اﷲ کاحکم پوچھاگیا ، فرمایا یہ گنواروں کاکام ہے۔
ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں امام ابراہیم نخعی تابعی سے راوی :
الجھرببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم بدعۃ[7] ۔
بسم اﷲشریف شریف جہر سے کہنابدعت ہے۔
اثرم انہیں سے راوی :
ماادرکت احدا یجھر بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم والجھربھا بدعۃ[8]۔
میں نے صحابہ وتابعین میں کسی کو بسم اﷲ شریف کاجہرکرتے نہ پایا اس کاجہربدعت ہے۔
سبحان اﷲ! حضورسیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے تواتر درکنار ان حضرات عالیہ کے نزدیك کچھ بھی ثبوت ہوتا توکیا یہ اجلہ صحابہ وتابعین معاذ اﷲ اسے بدعت بتاتے یاگنواروں کا فعل کرسکتے تھے ولٰکن الجہلۃ یقولون مالایعلمون (لیکن جاہل لوگ غیرمعلوم باتیں کرتے ہیں ۔ ت) نہایت کہ امام الفقہاء امام المحدثین اوحدالاولیا اوحد المجتہدین سیدنا امام سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اختیار جہربسم اﷲ کاقول سخت مہجور ومحجور مانا اور اس کے اخفا کوافضل واولٰی سمجھنا تتمہ عقائد اہل سنت جانا محدث لالکائی کتاب السنہ میں بسند صحیح راوی :
حدثنا المخلص نا ابو الفضل شعیب بن محمد نا علی بن حرب بن بسام سمعت شعیب بن جریر یقول قلت لسفین الثوری حدث بحدیث السنۃ ینفعنی اﷲ بہ فاذا وقفت بین یدیہ وسألنی عنہ قلت یارب حدثنی بھذا سفین فانجوانا وتوخذ فقال اکتب بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم القراٰن کلام اﷲ غیرمخلوق منہ (وجعل یسرد الی ان قال) یاشعیب لاینفعك ماکتبت حتی تری المسح علی الخفین وحتی تری ان اخفاء بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم افضل من الجھر بہ وحتی تؤمن بالقدر (الی ان قال) اذا وقفت بین یدی اﷲ فسألك عن ھذا فقل یارب حدثنی بھذا سفٰین الثوری ثم خل بینی وبین اﷲ عزوجل[9]۔
یعنی شعیب بن جریر نے امام سفیان ثوری سے کہا مجھے عقائد اہلسنت بتادیجئے کہ اﷲ عزوجل مجھے نفع بخشے اور جب میں اس کے حضورکھڑاہوں اور مجھ سے ان کے متعلق سوال ہوتو عرض کردوں کہ الٰہی! یہ مجھے سفیان نے بتائے تھے تو میں نجات پاؤں اور جو پوچھ گچھ ہو آپ سے ہوتو فرمایا لکھو بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم قرآن اﷲ کاکلام ہے مخلوق نہیں ، اور اسی طرح اور عقائد ومسائل لکھواکر فرمایا اے شعیب! یہ جو تم نے لکھا تمہیں کام نہ دے گا جب تك مسح موزہ
[1] جامع الترمذی باب ماجاء فی ترك الجہربسم اﷲ الرحمن الرحیم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۳ ، سنن ابن ماجہ باب افتتاح القراء ت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۹
[2] مسندالامام الاعظم بیان عدم الجہر بالبسملۃ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ص۵۸ ، فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۴
[3] شرح معانی لآثار باب قراء ت بسم اﷲ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع