30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے جہربسم اﷲ میں کوئی روایت صحیح نہیں ۔ اسے ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکرکیا۔
یہاں تك کہ تنقیح میں احادیث جہرلکھ کرفرماگئے :
ھذہ الاحادیث فی الجملۃ لاتحسن بمن لہ علم بالنقل ان یعارض بھا الاحادیث الصحیحۃ ، ولولاان یعرض للمتفقۃ شبھۃ عند سماعھا فیظنھا صحیحۃ لکان الاضراب عن ذکرھا اولی ، ویکفی فی ضعفھا اعراض المصنفین للمسانید والسنن عن جمہورھا[1]۔
ان احادیث کو صحیح احادیث کے معارض قراردینا نقل کے فن میں علم والے کودرست نہیں ۔ اگر ان روایات کوفقیہ سن کرغلط فہمی کی بناپرصحیح گمان کرنے کاخدشہ نہ ہوتاتوان کوذکرنہ کرنا مناسب تھا ، اور ان روایات کے ضعف پردلیل تمام مسانید وسنن کے مصنفین کاان کوذکرنہ کرناہی کافی ہے۔ (ت)
خلاصہ یہ کہ وہ احادیث نہ احادیث صحیحہ کے مقابل نہ ذکرکے قابل ، ولہٰذا مصنفان مسانید وسنن نے ان کے ذکرسے اعراض کیا نقلہ فی نصب الرایۃ (اس کو نصب الرایہ میں ذکرکیاگیاہے۔ ت)خود پیشوائے وہابیہ ابن القیم نے اپنی کتاب مسمی بالہدی میں لکھا :
فصحیح تلك الاحادیث غیرصریح وصریحھا غیرصحیح[2]۔ نقلہ امام الوھابیہ الشوکانی
ان حدیثوں میں جوصحیح ہے وہ جہرمیں صریح نہیں اور جو جہرمیں صریح ہے وہ صحیح نہیں ۔ اس کو وہابیوں کے
فی نیل الاوطار۔
امام شوکانی نے نیل الاوطار میں ذکرکیاہے۔
امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں :
الحاصل ان احادیث الجھر لم تثبت[3]۔ اثرہ السید الازھری فی الفتح۔
خلاصہ یہ کہ جہرکی حدیثیں ثابت نہ ہوئیں ۔ سیدازہری نے اس کو فتح میں نقل کیا ہے۔
امام زیلعی نصب الرایہ میں فرماتے ہیں :
ھذہ الاحادیث کلھا لیس فیھا صریح صحیح ، ولیست مخرجۃ فی شیئ من الصحیح ولاالمسانید ولاالسنن المشھورۃ وفی رواتھا الکذّابون والضعفاء والمجاھیل[4] الخ
ان حدیثوں میں کوئی حدیث صریح وصحیح نہیں ، نہ یہ صحاح ومسانید وسنن مشہورہ میں مروی ہوئیں ان کی روایتوں میں کذاب ، ضعیف ، مجہول لوگ ہیں الخ
امام عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :
احادیث الجھر لیس فیھا صریح بخلاف حدیث الاخفاء فانہ صحیح صریح ثابت مخرجہ فی الصحیح والمسانید المعروفۃ والسنن المشھورۃ[5]
جہر کی حدیثوں میں کوئی حدیث صحیح وصریح نہیں بخلاف حدیث اخفا کہ وہ صحیح وصریح اور صحاح و مسانید وسنن مشہورہ میں ثابت ہے۔
۱امام اعظم ابوحنیفہ و ۲امام مالك و۳امام شافعی و۴امام احمدچاروں ائمہ مذہب اور ۵بخاری و۶مسلم و ۷ابوداؤدو ۸ترمذی و۹ نسائی و۱۰ابن ماجہ چھئوں ائمہ حدیث اور ۱۱دارمی وطحطاوی و۱۲ابن خزیمہ و۱۳ابن حبان و۱۴دارقطنی و ۱۶طبرانی و ۱۷ابویعلٰی و۱۸ ابن عدی و۱۹بیہقی و۲۰ابونعیم و ۲۱ابن عبدالبراکابرحفاظ و اجلہ محدثین اپنی صحاح وسنن ومسانید ومعاجیم میں باسانید کثیرہ حضرت سیدنا انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں :
صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخلف ابی بکر و عمر و عثمٰن فلم اسمع احدا منھم یقرأ بسم اﷲ الرحمٰن
میں نے حضوراقدس رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وابوبکر صدیق و عمر فاروق و عثمان غنی کے پیچھے نمازپڑھی ان میں کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہ سنا
الرحیم[6] ھذا لفظ مسلم وفی لفظ للامام احمد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ وغیرھم باسناد علی شرط الصحیح کما افادہ فی الفتح کانوالایجھرون ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم [7] وفی لفظ لابن خزیمۃ والطبرانی وابی نعیم کانوا یسرون ببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم[8] ولابن ماجۃ فکلھم یخفون بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم[9] ۔
وہ بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرماتے تھے وہ بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے ، یہ امام مسلم کے الفاظ تھے ، امام احمد ، نسائی اور ابن حبان اپنی صحیح میں اور دوسروں نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ جیسا کہ فتح القدیر نے بیان کیاہے ، جن کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ حضرات بسم اﷲ کاجہرنہ فرماتے تھے ، اور ابن خزیمہ ، طبرانی ، ابونعیم کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ بسم اﷲ کوپوشیدہ پڑھتے تھے ، اور ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ، کہ وہ سب بسم اﷲ کااخفاء فرماتے تھے۔ (ت)
یہ وہ حدیث جلیل ہے جس کی تخریج پرچاروں ائمہ مذہب اور چھئوں اصحاب صحاح متفق ہیں بلکہ طبرانی ف نے انہیں سے روایت کی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یسرببسم اﷲ الرحمٰن الرحیم وابابکر وعمر وعثمٰن وعلیا [10] ۔
بیشك رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وابوبکر و عمر و عثمان و علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے۔
امام الائمہ امام ابوحنیفہ و امام محمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم ابن عبداﷲ بن مغفل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، قال :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع