دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 7 | فتاوی رضویہ جلد ۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۷

قولہ روایت سبعہ جائزہے بلکہ عشرہ بھی جائزہے جیسا کہ اہل اصول نے تصریح کی ہے ، قولہ اجنبی یعنی روایات اور امالات اجنبیہ کونہ پڑھے کیونکہ بعض جاہل لوگ لاعلمی کی وجہ سے باتیں بنائیں گے اور گناہ اور بدی میں مبتلا ہوں گے ، امامت کرانے والے حضرات کومناسب نہیں کہ لوگوں کودینی نقصان میں ڈالیں ، اور ان کے سامنے امام ابوجعفر ، ابن عامر ، علی اور کسائی جیسی قرأت نہ کریں ، ہوسکتاہے کہ عوام لاعلمی کی بناپر ان کی قراء ات کوحقیرجانتے ہوئے ان پرہنسنا شروع کردیں اور ان کادین محفوظ رکھناضروری ہے اگرچہ یہ تمام قراء ات قطعی طور پر صحیح ہیں ، جبکہ ہمارے مشائخ نے ابوعمرو کی عاصم سے روایت کردہ قرا ء ت کواپنایاہےاھ یہ فتاوی الحجہ سے تتارخانیہ کی روایت ہے۔ (ت)

اسی طرح عٰلمگیریہ وغیرہا میں ہے :

افادہ حادیہ عشر : اقول :  جس مصلحت کے لئے یہاں علما نے  پیش عوام ، روایت غریبہ کی تلاوت سے منع کیا ، مسئلہ بسملہ میں انصافًا دیکھئے تو ہمارے بلاد میں خاص صورت اخفاء میں ہے کہ یہاں کہ تمام حفاظ وقراء وسامعین عامہ مسلمین کے کان ہرسورت پرجہربسم اﷲ سے آشنا نہیں وہ اسے سن کر مخالفت کریں گے طعن واعتراض سے پیش آئیں گے تمہارے زعم میں یہ اعتراض اس امرپرہوگاجو قرنًا فقرنًاحضور پرنورسیدیوم النشور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے متواترہے ، اور دوسراامر جس کے وہ عادی ہیں یعنی اخفاء تم خود بھی مقر ہوکہ وہ بھی حق وصحیح اورحضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے ایساہی متواتر ہے تواسی کوکیوں نہ لیجئے اور عکس کرکے مسلمانوں میں فتنہ عوام میں شورش کیوں پیداکیجئے اب اپنے زعم باطل پر تم خود اس کے باعث ہوتے ہوکہ امرمتواتر عن المصطفٰی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  پرمسلمانوں سے انکار و اعتراض کراؤ کیااسی کاشریعت مطہرہ نے حکم دیاہے ، کیااسی پر قاری یاملا ہونارہ گیاہے ، ہاں یہ ضرور ہے کہ جب تك بات نئی بیگانہ ، تازی ، جدا ، اکثرمسلمین کے گوش ناآشنانہ ہو ، شہرت نام کاذریعہ نہیں ہوتی مگر پناہم بخدا ، کہ قاریان قرآن ، قرأت قرآن سے شہرت نام کی نیت رکھیں ، علمائے کرام ایسے محل پرترك افضل کی رائے دیتے ہیں نہ کہ ترك مساوی ، امام علامہ جلال الدین زیلعی نصب الرایہ میں نقل فرماتے ہیں :

یسوغ للانسان ان یترك الافضل لاجل تالیف القلوب واجتماع الکلمۃخوفامن التنفیر ، کما ترك النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بناء البیت علی قواعد ابراھیم لکون قریش کانواحدیثی عھد بالجاھلیۃ ،  وخشی تنفیرھم بذلک ،  ورای تقدیم مصلحۃ الاجتماع علی ذلک ،  ولما انکراالربیع علی ابن مسعود اکمالہ الصلٰوۃ خلف عثمان ،  قال الخلاف شر ،  وقد نص احمدوغیرہ علی ذلك فی البسملۃ وفی وصل الوتروغیر ذلك ممافیہ العدول عن الافضل الی الجائز المفضول مراعاۃ لائتلاف المامومین اولتعریفھم السنۃ وامثال ذلك و ھذا اصل کبیر فی سد           

لوگوں کی تالیف قلبی اور ان کو مجتمع رکھنے کے لئے افضل کوترك کرناانسان کے لئے جائز ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ ہوجائے جیسا کہ حضورعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے بیت اﷲ شریف کی عمارت کو اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پرقائم رکھا تاکہ قریشی نومسلم ہونے کی وجہ سے اس کی نئی بنیادوں پرتعمیر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں تو آپ نے اجتماع کو قائم رکھنے کی مصلحت کومقدم سمجھا ، اور جیساکہ حضرت ربیع نے حضرت عبداﷲ بن مسعود   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو حضرت عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی نمازمیں اختلاف کی بناپر روکاتو انہوں نے فرمایا کہ خلاف کرنے میں شرہے ، اسی لئے امام احمد وغیرہ نے بسم اﷲ اور وتر کے وصل وغیرہ کے بارے میں اس کی تصریح کی ہے ، یہ وہ معاملات ہیں جن میں افضل سے عدول کرکے جائز مفضول کو

الذرائع[1]۔

اختیارکیاگیاہے تاکہ مقتدی حضرات کی تالیف قلبی اور ان کی سنت شناسی وغیرہ کاپاس کیاجاسکے ، یہ بات فتنہ کے سدّباب کے لئے بڑاضابطہ ہے۔ (ت)

یہ سب اس تقدیرپرتھاکہ بفرض باطل قطعیت جزئیت مان لی جائے ورنہ حق وتحقیق کاایضاح پہلے ہوچکااس تقدیرپرقاری وملا اپنی اس تنفیرواثارت فتنہ کی حدیں بتائیں یہاں توبداہۃ عوام اس غیرقصدی الزام سے بھی محفوظ اور یہ تنفیروایقاع اختلاف ویسے مستند معتمد سے نامحفوظ کما لایخفی واﷲ الھادی (جیسا کہ مخفی نہیں ، اور اﷲ ہی ہدایت دینے والاہے۔ ت)

افادہ ثانیہ عشر : یہاں تك دعوی قطعیت جزئیت ولزوم نقصان ختم کارد تھاکہ بحمداﷲباحسن وجوہ ظاہرہوا اب بعونہٖ تعالٰی جہرواخفا کی طرف چلئے ، تراویح میں جہربسملہ کاحضورپرنور سیدعالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے متواتر کہناحضوراقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  پرصریح افتراہے تواتردرکنار ، زنہارکسی حدیث احادسے بھی اس کاثبوت نہیں ، جہرفی التراویح توجدا ، مطلقًاکسی نماز میں حضوروالا صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کابسم اﷲ شریف جہر سے پڑھنا ہرگز ہرگز متواترنہیں ، تواترکیسا نفس ثبوت میں سخت کلام ونزاع ہے ، امام حافظ عقیلی کتاب الضعفاء میں لکھتے ہیں :

لایصح فی الجھر بالبسملۃ حدیث مسند[2]۔  ذکرہ فی عمدۃ القاری۔

بسم اﷲ میں کوئی حدیث مسندصحیح نہیں ، اسے عمدۃ القاری میں ذکرکیاگیاہے۔

امام دارقطنی فرماتے ہیں :

لم یصح فی الجھر حدیث[3]۔  ذکرہ فی عنایۃ القاضی۔

جہرتسمیہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہوئی۔ اسے عنایۃ القاضی میں ذکرکیاگیا۔

یہی امام دارقطنی جب مصر تشریف لے گئے کسی مصری کی درخواست سے دربارہ جہرایك جز تصنیف فرمایا بعض مالکیہ نے قسم دے کرپوچھا کہ اس میں کون سی حدیث صحیح ہے آخر براہ انصاف اعتراف فرمایا کہ :

کل ماروی عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ

یعنی نبی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  سے جہرمیں جوکچھ

وسلم فی الجھر فلیس بصحیح[4]۔  ذکرہ الامام الزیلعی عن التنقیح عن مشایخہ عن الدار قطنی والمحقق فی الفتح۔

روایت کیاگیاہے اس میں کچھ صحیح نہیں ۔ اس کو امام زیلعی نے اپنے مشائخ کی تنقیح قراردے کر دارقطنی سے نقل کیاہے اور محقق نے فتح القدیر میں ذکرکیا۔

امام ابن الجوزی نے کہا :

لم یصح عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الجھر شیئ[5]۔   ذکرہ القاری فی المرقاۃ۔

 



[1]   نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۲۸

[2]   عمدۃ القاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۵ / ۲۸۸

[3]   عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دار صادربیروت ۱ / ۳۱

[4]   نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۹

[5]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ  باب القرأۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۲۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن