30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسا کہ تقسیم نماز والی حدیث ، اور وہ حدیث جس میں سورۃ
للملك وغیرھا کمافصلہ العلماء الکرام فی تصانیفھم ولاحاجۃ الٰی ایرادھا ھنافان شھرۃ الکلام فیہ اغنتنا عن اعادتہ و اطالۃ المقال بتذکارہ۔ ملك کی تیس آیتوں کاذکر اور ان جیسی اور احادیث جن کو علماء کرام نے مفصل طورپر اپنی تصانیف میں ذکرکیاہے ، یہاں ان کوبیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس بات کی شہرت نے ہمیں یہاں ذکرکرنے سے مستغنی کردیا ہے نیز ان کے ذکر سے بات لمبی ہوگی۔ (ت)
افادہ رابعہ : یونہی اس پراجماع امت کابیان افتراوبہتان ، بلکہ علماء فرماتے ہیں صحابہ کرام وتابعین اعلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کااجماع تھا کہ بسم اﷲ شریف جزوسور نہیں ، قول جزئیت اُن کے بعد حادث ونوپیداہوا ، سیدی فقیہ مقری علی نوری سفاقسی غیث النفع فی القرا ء ات السبع میں فرماتے ہیں :
ھذا ان قلنا ان البسلملۃ لیست باٰیۃ ولا بعض اٰیۃ من اول الفاتحۃ ولامن غیرھا وانما کتبت فی المصاحف للتیمن والتبرك اوانھا فی اول الفاتحۃ لابتداء الکتاب علی عادۃ اﷲ جل وعز فی ابتداء کتبہ وفی غیرالفاتحۃ للفصل بین السور قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایعرف فصل السورۃ حتی ینزل علیہ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم وھو مذھب مالك وابی حنیفۃ والثوری وحکی عن احمد وغیرہ وانتصرلہ مکی فی کشفہ وقال انہ الذی اجمع علیہ الصحابۃ والتابعون و القول بغیرہ محدث بعد اجماعھم وشنع القاضی ابوبکر بن الطیب بن الباقلانی المالکی البصری نزیل بغداد علی من خالفہ
یہ تب ہے جب ہم یہ کہیں کہ بسم اﷲ آیت نہیں اور فاتحہ اور کسی سورۃ کی جزنہیں اور یہ صرف قرآن میں برکت کے طور پر لکھی گئی ہے یا اس لئے کہ اﷲتعالٰی کی عادت کریمہ ہے کہ اس نے اپنی تمام کتابوں میں بسم اﷲ سے ابتداء فرمائی لہٰذا سورہ فاتحہ کے ا بتداء میں بھی ذکر فرمائی اور باقی سورتوں کے ابتداء میں صرف سورتوں کے درمیان فصل کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام دوسورتوں کافصل بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے پرمعلوم کرتے تھے ، یہی امام مالك ، ابوحنیفہ ، ثوری کامذہب ہے ، اور امام احمد وغیرہ سے یہی بیان کیاگیا ہے اور امام مکی نے اسی کو اپنی کتاب کشف میں اپنایاہے اور فرمایا کہ یہی وہ ہے جس پرصحابہ وتابعین کا اجماع ہے ، بسم اﷲ کے بارے میں کوئی اور بات اس اجماع کے بعد نئی چیزہوگی ، اور قاضی ابوبکر بن طیب بن باقلانی مالکی بصری نیز بغداد ی نے اس کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے اور یہ
وکان اعرف الناس بالمناظرۃ وادقھم فیھا نظر[1]۔
قاضی ابوبکر خود بحث کے ماہر اس میں دقّت نظر رکھتے ہیں ۔ (ت)
امام زیلعی تبیین الحقائق پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین میں فرماتے ہیں :
قال بعض اھل العلم ومن جعلھا من کل سورۃ فی غیرالفاتحۃ فقد خرق الاجماع لانھم لم یختلفوا فی غیر الفاتحۃ[2]۔
بعض علماء نے فرمایا کہ جو شخص بسم اﷲ کوفاتحہ کے علاوہ کسی سورت کاجزمانتاہے وہ اجماع کاخلاف کرتاہے کیونکہ فاتحہ کے بغیر کسی سورۃ کے بارے میں اختلاف نہیں ۔ (ت)
امام بدرالدین محمودعینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
فان قیل نحن نقول انھا اٰیۃ من غیرالفاتحۃ فکذلك انھا اٰیۃ من الفاتحۃ قلت ھذاقول لم یقل بہ احدولھذا قالوا زعم الشافعی انھا اٰیۃ من کل سورۃ وماسبقہ الی ھذا القول احدلان الخلاف بین السلف انماھو فی انھا من الفاتحۃ اولیست باٰیۃ منھا ولم یعدھا احد اٰیۃ من سائر السور[3]۔
اگراعتراض کیاجائے کہ ہم بسم اﷲ کو آیت مانتے ہیں تو اس کامعنی یہ ہوا کہ فاتحہ کی آیت ہے اور کسی اور سورۃ کی بھی آیت ہے ، میں کہتاہوں کہ یہ کسی کاقول نہیں ہے اسی لئے جمہور نے کہا کہ صرف امام شافعی کاخیال ہے کہ یہ ہرسورہ کی آیت ہے جبکہ امام شافعی سے پہلے کسی نے یہ بات نہیں کی ، کیونکہ اس سے پہلے اسلاف میں صرف یہ تھا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی آیت ہے یانہیں ، اور اس کو کسی نے باقی سورتوں کاجز نہیں مانا۔ (ت)
افادہ خامسہ : تمام مصاحف حفصیہ میں ہربسم اﷲ شریف پر نشان آیت موجودہے وہ بلاشبہ اُن کے نزدیك آیت تامہ ہے ، اب سورہ بقر سے لے کر سورہ ناس تك تمام سورمیں آیات حفصیہ کی گنتی بتائیے ، دیکھئے توکہیں بھی بسم اﷲ شریف گنتی میں آئی ہے ، مثلًا سورہ اخلاص چارآیت ہے بسم اﷲ سے الگ ہی چار آیتیں ہیں ، سورہ کوثرمیں تین آیتیں ہیں بسم اﷲ سے جداہی تین آیتیں ہیں وعلی ھذا القیاس بخلاف سورہ فاتحہ کہ سات آیتیں ہیں اور ان کے نزدیك انعمت علیھم پر آیت نہیں ولھذا ہمارے مصاحف میں اس پرنشان آیت ، عندالغیر۵ ، لکھتے ہیں نہ ٭ ، یہ صاف دلیل واضح ہے کہ ہمارے قراء کے نزدیك بسم اﷲ بقرہ سے ناس تك کسی سورت کی جزنہیں بلکہ ایك انہیں قاریوں کی کیاتخصیص ، سب کے نزدیک ، سوافاتحہ کے ، کہ مختلف فیہاہے باقی تمام سورتوں کے شمار آیات سے بسم اﷲ شریف خارج ہے یہ بھی اس ارشاد علما کاپتا دیتاہے کہ قول جزئیت حادث وخلاف اجماع ہے۔
امام زیلعی تبیین پھر علامہ ازہری فتح المعین میں فرماتے ہیں :
ان کتاب المصاحف کلھم عدوا اٰیات السور فاخرجوھا من کل سورۃ وقال بعض اھل العلم[4] الی اٰخرمامر۔
قرآن پاك کے تمام کاتبوں نے سورتوں کی آیات کو شمار کیاہے اور انہوں نے بسم اﷲ کوکسی سورت کی آیات میں شمارنہیں کیا ، اور بعض علماء نے گزشتہ قول کوانہوں نے آخر تك بیان کیا۔ (ت)
عمدہ میں امام عینی کاارشاد گزرا :
لم یعدھا احد اٰیۃ من سائر السور[5]
(اس کو کسی نے باقی سورتوں کی آیۃ نہیں مانا۔ ت)
تنبیہ : شمار سے اخراج توعدم جزئیت میں صریح ظاہر ہے اور ادخال میں علمائے کرام نے جائز فرمایا کہ صرف ظن کی طرف مستند ہوتومفید قطعیت جزئیت نہ ہوسکے گا ، امام زیلعی نصب الرایہ اور امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں :
لعل اباھریرۃ مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقرأھا فظنھا من الفاتحۃ ، فقال انھا احدی اٰیاتھا و نحن لاننکرانھا من القراٰن ، و لکن النزاع وقع فی مسئلتین احدٰھما انھا اٰیۃ من الفاتحۃ ، والثانیۃ ان لھا حکم سائر اٰیات الفاتحۃ جھرا وسرا ، ونحن نقول ، انھا اٰیۃ مستقلۃ قبل السورۃ ، ولیست منھا ، جمعابین الادلۃ ، وابوھریرۃ لم یخبر عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال : ھی احدی اٰیاتھا ،
ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کوپڑھتے ہوئے سنا توخیال فرمایا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی جز ہے توانہوں نے کہہ دیا کہ یہ فاتحہ کی آیات میں شامل ہے ، بسم اﷲ کاقرآن کی آیت ہونے سے ہمارا انکار نہیں ہے صرف بحث دومسئلوں میں ہے ایك یہ کہ کیا یہ سورہ فاتحہ کی آیت ہے اور دوسرا یہ کہ کیا بسم اﷲ کاحکم فاتحہ کی دوسری آیات والاہے کہ جہروسر میں ان کی طرح پڑھی جائے گی یانہیں ، جبکہ ہم یہ کہتے ہیں یہ ایك مستقل آیت ہے یہ سورہ فاتحہ کی آیات میں شمارنہیں ، یہ بات دلائل کو مطابق بنانے کے لئے ہے ، حالانکہ
وقراء تھاقبل الفاتحۃ لایدل علی ذلك و اذاجازان یکون مستند ابی ھریرۃ قراء ۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لہا ، وقد ظھر ، ان ذلك لیس بدلیل علی محل النزاع ، فلایعارض بہ ادلتنا الصحیحۃ الثابتۃ[6] اھ۔
[1] غیث النفع فی القراء ات السبع باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۷
[2] فتح المعین علی شرح الکنز فصل واذا اراد الدخول الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۸۷
[3] عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۹۲
[4] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع